اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من رفع قرطاسا من الأرض فيه: بسم الله الرحمن الرحيم، إجلالا لله عز وجل أن يداس، كتب عند الله من الصديقين، وخفف عن والديه العذاب، وإن كانا مشركين‘‘. جس شخص نے زمین سے ایسا کاغذ اٹھایاجس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہو، اللہ تعالی کے نام کی تعظیم کی وجہ سے کہ وہ روندا جائے گا،تو اللہ تعالی کے نزدیک اسے صدیقین میں لکھا جائے گا، اور اس شخص کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیا جائے گا، اگر چہ وہ مشرک ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم یمامی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام بخاریl نے اسے ایک حدیث کے تحت ’’منكر الحديث، ذاهب‘‘ کہا ہے[107]۔
امام ترمذیl اپنی ’’سنن‘‘[108] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وسمعت محمد بن إسماعيل يقول: عمر بن عبد الله بن أبي خثعم منكر الحديث، وضعفه جدا‘‘. اور میں نے محمد بن اسماعیل (یعنی امام بخاری l) کو فرماتے ہوئے سنا کہ عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم منکر الحدیث ہے، اور بخاری l نے اسے شدید ضعیف قرار دیا۔
حافظ ابو زرعہl ، عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’واهي الحديث ، حدث عن يحيى بن أبي كثير ثلاثة أحاديث، لو كانت في خمس مئة حديث لافسدتها‘‘[109]. واہی الحدیث ہے، اس نے یحیی بن ابی کثیر کے انتساب سے تین احادیث بیان کی ہیں، یہ تین احادیث، پانچ سو احادیث میں ہوتیں تو ان کو بھی فاسد کردیتیں۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[110]میں عمر بن راشد یمامی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’عمر بن راشد اليمامي: وهو الذي يقال له عمر بن عبد الله بن أبي خثعم، كنيته أبو حفص، يروي عن يحيى بن أبي كثير، وإياس بن سلمة، روى عنه وكيع، وزيد بن حباب، كان ممن يروي الأشياء الموضعات عن ثقات أئمة، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه، ولا كتابة حديثه إلا على جهة التعجب‘‘. عمر بن راشد یمامی یہ وہی ہے جسے عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم کہا جاتا ہے، اس کی کنیت ابو حفص ہے[111]، یہ یحیی بن ابی کثیر اور ایاس بن سلمہ سے روایت کرتا ہے، اور اس سے وکیع اور زید بن حباب روایت کرتے ہیں، یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ ائمہ کے انتساب سے من گھڑت اشیاء روایت کرتے ہیں،اس کا ذکر کتب میں سوائے جرح کے حلال نہیں ہے، اور اس کی حدیث کو لکھنا حلال نہیں ہے مگر تعجب کے طور پر۔
حافظ ابن عدی l نے ’’الكامل‘‘[112] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام بیہقیl نے ’’شعب الإيمان‘‘[113] میں اسے ایک حدیث کے تحت ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[114] میں فرماتے ہیں: ’’وهاه البخاري وغيره‘‘. بخاری وغیرہ l نے اسے ’’واہی‘‘قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقریب‘‘[115] میں عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[107] انظر علل الترمذي الكبير:ص:52،رقم:61،ت:السیدصبیحی السامرائی وغيره،عالم الکتب ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۹هـ .
[108] سنن الترمذي:۲/۲۹۹،رقم:435،ت:أحمد محمد شاكر،مطبعة مصطفى البابي ـ مصر،الطبعة الثانية 1397هـ .
[109] سؤالات البرذعي:ص:۲۵۹،رقم:4۶۰،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴30هـ .
[110] المجروحين:۲/۸۳ ،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[111] واضح رہے کہ حافظ ابن حبان l ، امام حاکم نیشاپوری l اور حافظ ابو نعیم l نے عمر بن راشد یمامی اور عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم کو ایک ہی شخص قرار دیا ہے، حافظ ابن حبان l کی عبارت گزر چکی ہے، امام حاکم نیشاپوری l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’عمر بن راشد اليمامي: وهو عمر بن عبد الله بن أبي خثعم أبو حفص، روى عن يحيى بن أبي كثير وغيره أحاديث مناكير، روى عنه وكيع، وزيد بن الحباب‘‘. (المدخل إلى الصحيح:ص:۱6۲،رقم:11۱،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ) .
[112] الكامل في ضعفاء الرجال:۶/۱۲۵،رقم:۱۲۴۱،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[113] شعب الإيمان:4/103،رقم:2246،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴23هـ .
[114] ديوان الضعفاء:ص:295،رقم:3077،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[115] تقريب التهذيب:ص:414، رقم:4928،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .