التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی

4 روایات میں تذکرہ

عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

اس روایت کی تحقیق سے4 میں سے 1

روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من طلب ما عند الله كانت السماء ظلا له، والأرض فراشه، لم يهتم بشيء من أمر الدنيا، فهو لا يزرع الزرع وهو يأكل الخبز، وهو لا يغرس الشجر ويأكل الثمار، توكلا على الله تعالى وطلبا لمرضاته، فضمن الله السماوات السبع والأرضين السبع رزقه، فهم يتعبون فيه، ويأتون به حلالا، ويستوفي هو رزقه بغير حساب عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين‘‘. جو شخص اس چیز کی طلب میں لگ جائے جو اللہ تعالی شانہ کے پاس ہے، آسمان اس کا سایہ ہو، زمین اس کا بسترہ ہو، دنیا کی کسی چیز کی اس کو فکر نہ ہو، تو ایسا شخص بغیر کھیتی کئے روٹی کھائے گا، بغیر باغ لگائے پھل کھائے گا، اللہ تعالی پر اس کا توکل ہو اور اس کی رضا کی جستجو میں لگا رہتا ہو، اللہ جل شانہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کو اس کی روزی کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں، وہ سب کے سب اس کو روزی پہنچانے کےلئے کوشاں رہتے ہیں، وہ اس کو حلال روزی پہنچاتے ہیں، اور وہ اللہ تعالی کے ہاں بغیر حساب کے اپنی روزی پوری کر لیتا ہے، حتی کہ اسے موت آجاتی ہے‘‘۔

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)

سند میں موجود راوی عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی  کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن  عدی l ’’الكامل‘‘[16]  میں فرماتے ہیں: ’’ولعمرو بن بكر هذا أحاديث مناكير عن الثقات وابن جريج وغيره‘‘. یہ عمرو بن بکر ثقات اور ابن جریج  وغیرہ سے مناکیر نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[17]  میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن إبراهيم بن أبي عَبْلَة وابن جريج وغيرهما من الثقات الأوابد والطامات التي لايشك من هذا الشأن صناعته أنها معمولة أو مقلوبة، لايحل الاحتجاج به‘‘. یہ ابراہیم بن ابی عَبْلَہ اور ابن جریج وغیرہ ثقات کے انتساب سے عجائب ومصائب  نقل کرتا ہے، اس فن کے اہل صناعت میں سے کوئی شک نہیں کرے گا کہ اس کی یہ روایات بنائی گئی ہیں، یا مقلوب ہیں، اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے[18]۔

امام ابوعبداللہ حاکم l ’’المدخل إلى الصحيح‘‘[19] میں عمروبن بکر سَکْسَکِی کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں،جن کی روایت نقل کرنا ان کی حالت بتائے بغیر حلال نہیں ہے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

’’عمرو بن بكر السَكْسَكِي الرملي، روى عن ابن جريج، وإبراهيم بن أبي عَبْلَة، وغيرهما أحاديث مناكير، [يروي عن الثقات ...]، فليس الحمل فيه إلا عليه‘‘.عمروبن بن بکر سَکْسَکِی رملی، ابن جریج،ابراہیم بن ابی عَبْلَہ وغیرہ کے انتساب سے منکر احادیث نقل کرتا ہے، یہ ثقات کے انتساب سے روایت کرتا ہے۔۔۔، چنانچہ ان احادیث میں ذمہ داری عمروبن بکر سَکْسَکِی ہی پر ہے۔

حافظ ابونعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[20] میں فرماتے ہیں:  ’’عن ابن جريج وابن أبي علية [ كذا في الأصل، والصحيح: أبي عَبْلَة] مناكير، لا شيء‘‘. یہ ابن جریج اور ابن ابی عَبْلَہ کے انتساب سے مناکیر نقل کرتا ہے، یہ لا شیء ہے۔

حافظ عقیلی l  ’’الضعفاء الكبير‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه غير محفوظ‘‘. اس کی حدیث غیر محفوظ ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان‘‘[22] میں عمرو بن بکر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن جريج، واه‘‘. ابن جریج سے روایات نقل کرتا ہے، یہ واہی  ہے۔

حافظ ذہبی l ہی ’’میزان‘‘[23]میں مزید فرماتے ہیں: ’’أحاديثه شبه موضوعة‘‘. اس عمرو بن بکر  کی احادیث من گھڑت احادیث کے مشابہ ہیں۔

علامہ  ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[24] میں عمرو بن بکر سَکْسَکِی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شامل کر کے حافظ ذہبی l کے اس قول کو نقل کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے’’التقریب‘‘[25]  میں عمروبن بکر سَکْسَکِی کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[16] الكامل في الضعفاء:6/۲۵۰،الرقم:۱۳۱۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[17] المجروحين:۲/ ۷۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[18] تهذيب التهذيب:۳/۲۵۸،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .

[19] المدخل الی الصحيح:ص:۱۵۹،رقم:۱۰۵،ت:ربيع هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[20] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/7۵،رقم:1۷0،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[21] الضعفاء الكبير:۳/۲۵۷،رقم:۱۲۶۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .

[22] ميزان الاعتدال:۳/۲۴۷،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[23] ميزان الاعتدال:۳/۲۴۸،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[24] تنزيه الشريعة:۱/۹۲،رقم:۳۹۸،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[25] تقريب التهذيب:۴۱۹،رقم:۳۹۹۳،ت:محمد عوامة،دار الرشد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی  کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن  عدی l ’’الكامل‘‘[43]  میں فرماتے ہیں: ’’ولعمرو بن بكر هذا أحاديث مناكير عن الثقات وابن جريج وغيره‘‘. یہ عمرو بن بکر ثقات اور ابن جریج  وغیرہ سے مناکیر نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[44]  میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن إبراهيم بن أبي عَبْلَة وابن جريج وغيرهما من الثقات الأوابد والطامات التي لايشك من هذا الشأن صناعته أنها معمولة أو مقلوبة، لايحل الاحتجاج به‘‘. یہ ابراہیم بن ابی عَبْلَہ اور ابن جریج وغیرہ ثقات کے انتساب سے عجائب ومصائب  نقل کرتا ہے، اس فن کے اہل صناعت میں سے کوئی شک نہیں کرے گا کہ اس کی یہ روایات بنائی گئی ہیں، یا مقلوب ہیں، اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے[45]۔

امام ابوعبداللہ حاکم l ’’المدخل إلى الصحيح‘‘[46] میں عمروبن بکر سَکْسَکِی کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں،جن کی روایت نقل کرنا ان کی حالت بتائے بغیر حلال نہیں ہے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

’’عمرو بن بكر السَكْسَكِي الرملي، روى عن ابن جريج، وإبراهيم بن أبي عَبْلَة، وغيرهما أحاديث مناكير، [يروي عن الثقات ...]، فليس الحمل فيه إلا عليه‘‘.عمروبن بن بکر سَکْسَکِی رملی، ابن جریج،ابراہیم بن ابی عَبْلَہ وغیرہ کے انتساب سے منکر احادیث نقل کرتا ہے، یہ ثقات کے انتساب سے روایت کرتا ہے۔۔۔، چنانچہ ان احادیث میں ذمہ داری عمروبن بکر سَکْسَکِی ہی پر ہے۔

حافظ ابونعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[47] میں فرماتے ہیں:  ’’عن ابن جريج وابن أبي علية [ كذا في الأصل، والصحيح: أبي عَبْلَة] مناكير، لا شيء‘‘. یہ ابن جریج اور ابن ابی عَبْلَہ کے انتساب سے مناکیر نقل کرتا ہے، یہ لا شیء ہے۔

حافظ عقیلی l  ’’الضعفاء الكبير‘‘[48] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه غير محفوظ‘‘. اس کی حدیث غیر محفوظ ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان‘‘[49] میں عمرو بن بکر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن جريج، واه‘‘. ابن جریج سے روایات نقل کرتا ہے، یہ واہی  ہے۔

حافظ ذہبی l ہی ’’میزان‘‘[50]میں مزید فرماتے ہیں: ’’أحاديثه شبه موضوعة‘‘. اس عمرو بن بکر  کی احادیث من گھڑت احادیث کے مشابہ ہیں۔

علامہ  ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[51] میں عمرو بن بکر سَکْسَکِی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شامل کر کے حافظ ذہبی l کے اس قول کو نقل کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے’’التقریب‘‘[52]  میں عمروبن بکر سَکْسَکِی کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[43] الكامل في الضعفاء:6/۲۵۰،الرقم:۱۳۱۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[44] المجروحين:۲/ ۷۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[45] تهذيب التهذيب:۳/۲۵۸،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .

[46] المدخل الی الصحيح:ص:۱۵۹،رقم:۱۰۵،ت:ربيع هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[47] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/7۵،رقم:1۷0،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[48] الضعفاء الكبير:۳/۲۵۷،رقم:۱۲۶۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .

[49] ميزان الاعتدال:۳/۲۴۷،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[50] ميزان الاعتدال:۳/۲۴۸،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[51] تنزيه الشريعة:۱/۹۲،رقم:۳۹۸،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[52] تقريب التهذيب:۴۱۹،رقم:۳۹۹۳،ت:محمد عوامة،دار الرشد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی  کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن  عدی l ’’الكامل‘‘[5]  میں فرماتے ہیں: ’’ولعمرو بن بكر هذا أحاديث مناكير عن الثقات وابن جريج وغيره‘‘. یہ عمرو بن بکر سَکْسَکِی ثقات اور ابن جریج  وغیرہ سے مناکیر نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[6]  میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن إبراهيم بن أبي عَبْلَة وابن جريج وغيرهما من الثقات الأوابد والطامات التى لايشك من هذا الشأن صناعته أنها معمولة أو مقلوبة، لايحل الاحتجاج به‘‘. یہ ابراہیم بن ابی عَبْلَہ اور ابن جریج وغیرہ ثقات کے انتساب سے عجائب ومصائب  نقل کرتا ہے، اس فن کے اہل صناعت میں سے کوئی شک نہیں کرے گا کہ اس کی یہ روایات بنائی گئی ہیں، یا مقلوب ہیں، اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ساجی l فرماتے ہیں: ’’ضعیف‘‘[7]. یہ ضعیف ہے۔

امام ابوعبداللہ حاکم l  ’’المدخل إلى الصحيح‘‘[8] میں عمروبن بکر سکسکی کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں،جن کی روایت نقل کرنا ان کی حالت بتائے بغیر حلال نہیں ہے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

 ’’عمرو بن بكر السكسكي الرملي، روى عن ابن جريج، وإبراهيم بن أبي عبلة، وغيرهما أحاديث مناكير يروي عن الثقات، فليس الحمل فيه إلا عليه‘‘ .عمروبن بن بکر سکسکی رملی، ابن جریج،ابراہیم بن ابی عبلہ وغیرہ ثقہ افراد کے انتساب سے منکر احادیث نقل کرتا ہے، چنانچہ ان احادیث میں ذمہ داری عمروبن بکر سکسکی ہی پر ہے۔

حافظ ابونعیم  l فرماتے ہیں:  ’’روى عن إبراهيم بن أبي عَبْلَة وابن جريج مناكير، لاشيء‘‘[9]. یہ ابراہیم بن ابی عَبْلَہ اور ابن جریج کے انتساب سے مناکیر نقل کرتا ہے، یہ لا شیء ہے۔

حافظ عقیلی l  ’’الضعفاء الكبير‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’حديثه غير محفوظ‘‘. اس کی حدیث محفوظ نہیں ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[11] میں فرماتے ہیں: ’’عن ابن جريج، واه‘‘. ابن جریج سے روایات نقل کرتا ہے، یہ واہی  ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے’’تقریب‘‘[12]  میں عمروبن بکر سکسکی کو  ’’متروک‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: ’’أحاديثه شبه موضوعة‘‘[13]. اس عمرو بن بکر سکسکی کی احادیث من گھڑت احادیث کے مشابہ ہیں۔

حافظ  ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[14] میں عمرو بن بکر سکسکی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شامل کر کے حافظ ذہبی l کے اس قول کو نقل کیا ہے۔

حوالہ جات

[5] الكامل في الضعفاء:6/۲۵۰،الرقم:۱۳۱۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[6] المجروحين:۲/ ۷۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[7] تهذيب التهذيب:۳/۲۵۸،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .

[8] المدخل الی الصحيح:ص:۱۵۹،رقم:۱۰۵،ت:ربيع هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[9]تهذيب التهذيب:۳/۲۵۶،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت .

[10] الضعفاء الكبير:۳/۲۵۷،رقم:۱۲۶۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .

[11] ميزان الاعتدال:۳/۲۴۷،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[12] تقريب التهذيب:۴۱۹،رقم:۳۹۹۳،ت:محمد عوامة،دار الرشد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[13] ميزان الاعتدال:۳/۲۴۸،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[14] تنزيه الشريعة:۱/۹۲،رقم:۳۹۸،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

 عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن عدیl کا کلام

حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں:

’’ولعمرو بن بكر هذا أحاديث مناكير عن الثقات وابن جريج وغيره ‘‘[26]. عمرو بن بکر سَکْسَکِی ثقات اور ابن جریج وغیرہ سے مناکیر نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن حبان l کا کلام

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں:          

’’يروي عن إبراهيم بن أبي عَبْلَة وابن جريج وغيرهما من الثقات الأوابد والطامات التي لايشك من هذا الشأن صناعته أنها معمولة أو مقلوبة، لايحل الاحتجاج به‘‘[27].

یہ ابراہیم بن ابی عَبْلَہ اور ابن جریج وغیرہ ثقات سے عجائب ومصائب نقل کرتا ہے، یہ فن جس کا کام ہے اسے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایات بنائی گئی ہیں،یا مقلوب ہیں، اس سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ساجی l کا کلام

حافظ ساجی l کہتے ہیں: ’’ضعیف‘‘[28]. یہ ضعیف ہے۔

حافظ ابونعیمl کا کلام

حافظ ابونعیم l فرماتے ہیں: ’’روى عن إبراهيم بن أبي عَبْلَة وابن جريج مناكير، لاشيء‘‘[29].یہ ابراہیم بن ابی عَبْلَہ اور ابن جریج سے مناکیر نقل کرتا ہے، یہ ’’لا شیء‘‘ ہے۔

حافظ عقیلی l کا کلام

حافظ عقیلی l فرماتے ہیں: ’’حديثه غيرمحفوظ‘‘[30]. اس کی حدیث محفوظ نہیں ہے۔

حافظ ذہبی l کا کلام

حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: ’’عن ابن جريج، واه‘‘[31]. ابن جریج سے روایات نقل کرتا ہے، یہ واہی ہے۔

حوالہ جات

[26] الكامل في الضعفاء:۶/۲۵۰،الرقم:۱۳۱۰،ت:عادل أحمد عبدالموجود و علي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۹۲هـ .

[27] المجروحين:۲/ ۷۸،ت:محمود ابراهيم زايد،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[28] تهذيب التهذيب:۳/ ۲۵۸،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالةـ بيروت .

[29] تهذيب التهذيب:۳/ ۲۵۶،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالةـ بيروت .

[30] ضعفاء الكبير:۳/۲۵۷،رقم:۱۲۶۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۸هـ .

[31]  ميزان الاعتدال:۳/۲۴۷،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ