التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوسعیدنہشل بن سعید بن وردان خراسانی نیشاپوری

3 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: ابوسعیدنہشل بن سعید بن وردان خراسانی

ابوسعیدنہشل بن سعید بن وردان خراسانی نیشاپوری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابوسعیدنہشل بن سعید بن وردان خراسانی نیشاپوری کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ ابو داؤد طیالسی l نے نہشل کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[9]۔

حافظ یحیی بن معین l نے نہشل کو ’’ليس بثقة‘‘کہا ہے[10]۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر نہشل کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[11]۔

امام اسحاق بن راہویہ l فرماتے ہیں: ’’کان نهشل کذابا‘‘[12]. نہشل جھوٹا تھا۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[13] میں نہشل بن سعید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أحاديثه مناكير‘‘. اس کی احادیث منکر ہیں۔

حافظ جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[14] میں نہشل کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’غير محمود في حديثه‘‘. یہ حدیث میں محمود نہیں ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے نہشل کو ’’ليس بقوي، متروك الحديث، ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[15]۔

حافظ ابو زرعہ l نے نہشل کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[16]۔

امام نسائی l نے نہشل کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[17]۔

امام نسائی l ایک مقام پر نہشل کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، لا يكتب حديثه‘‘[18]. لیس بثقہ ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائےگی۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[19] میں نہشل کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان ممن يروي عن الثقات ما ليس من أحاديثهم، لايحل كتابة حديثه إلاعلى جهة التعجب، كان إسحق بن إبراهيم الحنظلي يرميه بالكذب‘‘. نہشل بن سعید ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی روایات نقل کرتا ہے جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتیں، اس کی احادیث کو لکھنا حلال نہیں ہے مگر تعجب کے طور پر ،اسحاق بن ابراہیم حنظلی l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

امام دار قطنی l نے نہشل کو ’’لاشيء‘‘ کہا ہے[20]۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[21] میں نہشل کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن الضحاك بن مزاحم الموضوعات‘‘. اس نے ضحاک بن مزاحم کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کی ہیں۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[22] میں ایک روایت کے تحت نہشل کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے نہشل کو ’’الکاشف‘‘[23]میں’’واه‘‘اور ’’ديوان‘‘[24] میں ’’تركوه‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت نہشل کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘میں ایک روایت کے تحت نہشل کو ’’كذاب‘‘[26] اور ایک مقام پر ’’متروك‘‘[27] کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقریب التهذیب‘‘[28]میں نہشل بن سعید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، وكذبه إسحاق بن راهويه‘‘. یہ متروک ہے، اسحاق بن راہویہ l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[29] میں نہشل بن سعید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’متروك، وكذبه اسحاق بن راهويه‘‘. متروک ہے، اور اسحاق بن راہویہ l نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[9]  انظر الجرح والتعدیل:8/496،رقم:2267،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[10] الضعفاء الكبير:۴/۳۰۹،رقم:۱۹۱۰،ت:عبدالمعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[11]  انظر الجرح والتعدیل:8/496،رقم:2267،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[12] انظر التاريخ الكبير:8/13،رقم:11739،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1429هـ .

[13] التاريخ الكبير:8/13،رقم:11739،ت:مصطفى عبدالقادرأحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[14] أحوال الرجال:ص:346،رقم:381،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد، باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[15] الجرح والتعدیل:8/496،رقم:2267،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[16] الجرح والتعدیل:8/496،رقم:2267،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[17]  انظرالكامل في ضعفاء الرجال:8/323،رقم:1982،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[18] انظرالتكميل في الجرح والتعديل:1/406،رقم:689،ت:شادي بن محمد بن سالم آل نعمان،مكتبة ابن عباس ـ مصر،الطبعة الأولى1432هـ .

[19]  كتاب المجروحين:۳/۵۲،ت:محمودابراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .

[20]  سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:۶۸،رقم:۵۱۷،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور ـ باكستان،الطبعة الأولى1404هـ .

[21] المدخل إلى الصحيح:ص:218،رقم:209،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .

[22] ذخيرة الحفاظ:ص:1428،،رقم:3126ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[23]  الكاشف:۲/۳۲۷،رقم:۵۸۸۳،ت:محمدعوامة،دار القبلة للثقافة الاسلامية ـ جده،الطبعة۱۴۱۳هـ  .

[24] ديوان الضعفاء:ص:413،رقم:4408،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة، الطبعة1387هـ .

[25] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:6۷،رقم:1۴۱،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعةالأولى1419هـ .

[26] مجمع الزوائد:1/240،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[27] مجمع الزوائد:2/201،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[28] تقريب التهذيب:ص:۵66،رقم:۷۱۹۸،ت:محمد عوامة،دار المنهاج ـ المدينة المنورة،الطبعة الثالثة ۱۴۳۳هـ .

[29] تنزيه الشريعة:1/122،رقم:19،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

ابوسعیدنہشل بن سعید بن وردان خراسانی کے بارے میں ائمہ کا کلام

امام اسحاق بن راہویہ l فرماتے ہیں: ’’کان کذابا‘‘[23].یہ جھوٹا تھا۔

امام ابوحاتم l اور امام نسائی l نے اسے متروک کہا ہے، اور امام یحییl اورامام دار قطنی l نے اسے ضعیف کہا ہے[24] ۔

امام یحیی l فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة‘‘[25].یہ ثقہ نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l فرماتےہیں: ’’ كان ممن يروي عن الثقات ما ليس من أحاديثهم، لايحل كتابة حديثه إلاعلى جهة التعجب، كان إسحق بن إبراهيم الحنظلي يرميه بالكذب‘‘[26].

نہشل بن سعید ثقہ لوگوں سے وہ روایات نقل کرتا ہے جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتیں، اس کی احادیث کو لکھنا حلال نہیں ہے مگر تعجب کی بناء پر، اسحاق بن ابراہیم حنظلی l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’الکاشف‘‘[27].میں فرماتے ہیں: ’’واه‘‘.یہ تباہ حال ہے۔

حافظ ابن حجر l ’’تقریب التهذیب‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’متروك، وكذبه إسحاق بن راهويه، من السابعة ق‘‘ [28]. یہ متروک ہے، اسحاق بن راہویہ l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

حوالہ جات

[23]  ميزان الاعتدال:۴/۲۷۵،رقم:۹۱۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

[24] ميزان الاعتدال:۴/۲۷۵،رقم:۹۱۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

[25] الضعفاء الكبير:۴/۳۰۹،رقم:۱۹۱۰،ت:الدكتورعبدالمعطي امين قلعجي،دار الكتب العلميةـ بيروت .

[26] كتاب المجروحين:۳/۵۲،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .

[27] الكاشف:۲/۳۲۷،رقم:۵۸۸۳،ت:محمدعوامة،دارالقبلة للثقافة الاسلاميةـ جده،الطبعة۱۴۱۳هـ .

[28] تقريب التهذيب:۵۹۵،رقم: ۷۱۹۸،ت:محمد عوامة،دار المنهاج ـ المدينة المنورة،الطبعة الثالثة ۱۴۳۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

ابوسعیدنہشل بن سعید بن وردان خراسانی کے بارے میں ائمہ کا کلام

امام اسحاق بن راہویہl فرماتے ہیں: ’’کان کذابا‘‘[50]. یہ جھوٹا تھا۔

امام ابوحاتمl اور امام نسائیl نے اسے متروک کہا ہے اور امام یحییl اور دار قطنی l نے اسے ضعیف کہا ہے[51] ۔

امام یحیی l فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة‘‘[52].یہ ثقہ نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l فرماتےہیں: ’’ كان ممن يروي عن الثقات ما ليس من أحاديثهم، لايحل كتابة حديثه إلاعلى جهة التعجب، كان إسحق بن إبراهيم الحنظلي يرميه بالكذب‘‘[53].

نہشل بن سعید ثقہ لوگوں سے وہ روایات نقل کرتا ہے جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتیں، اس کی احادیث کو لکھنا حلال نہیں ہے مگر تعجب کی بناء پر، اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’الکاشف‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’واه‘‘ [54]. یہ تباہ حال ہے۔

حافظ ابن حجر l ’’التقریب التهذیب‘‘[55] میں لکھتے ہیں: ’’متروك، وكذبه إسحاق بن راهويه‘‘. یہ متروک ہے، اسحاق بن راہویہ l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

حوالہ جات

[50] میزان الاعتدال:۴/۲۷۵،رقم:۹۱۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

[51] میزان الاعتدال:۴/۲۷۵،رقم:۹۱۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفة ـ بيروت .

[52] ضعفاء الكبير:۴/۳۰۹،رقم:۱۹۱۰،ت:الدكتوعبدالمعطي أمين قلعجي،دارالكتب العلميةـ بيروت.

[53] كتاب المجروحين:۳/۵۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[54] الكاشف:۲/۳۲۷،رقم:۵۸۸۳،ت:محمد عوامة،دارالقبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .

[55] تقريب التهذيب:۵۶۶،رقم:۷۱۹۸،ت:محمد عوامة،دارالرشد ـ سوريا،الطبعة۱۴۰۶ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ