التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عبد العزیز موسی بن عبیدہ بن نشیط رَبَذی مدنی

المتوفی ۱۵۳ھایک روایت میں تذکرہ

ابو عبد العزیز موسی بن عبیدہ بن نشیط رَبَذی مدنی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عبد العزیز موسی بن عبیدہ بن نشیط رَبَذی مدنی (المتوفی ۱۵۳ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن سعدl ’’الطبقات‘‘[91] میں فرتے ہیں: ’’وكان ثقة، كثير الحديث، وليس بحجة‘‘. اور یہ ثقہ، کثیر الحدیث تھا، لیکن یہ حجت نہیں ہے۔

حافظ یحیی بن معین l فرماتےہیں: ’’ضعيف، إلا أنه يكتب من حديثه الرقاق‘‘[92]. ضعیف ہے، البتہ رقاق میں اس کی حدیث لکھی جائے گی۔

نیز حافظ یحیی بن معین l ہی فرماتےہیں: ’’موسى بن عبيدة لا يحتج بحديثه‘‘[93]. موسی بن عبیدہ کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر اسے ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[94]۔

امام علی بن مدینیl فرماتےہیں: ’’ كان ضعيفا ضعيفا، كان يحيى القطان لا يرى أن يكتب حديثه‘‘[95]. یہ ضعیف ضعیف تھا، یحیی قطان l اس کی حدیث لکھنے کی رائے نہیں رکھتے تھے۔

حافظ عبد اللہ بن احمدl فرماتےہیں: ’’قال لي أبي: وهو يقرأ علي حديث قُرَّان بن تَمَّام، اضرب على حديث موسى بن عبيدة‘‘[96]. مجھ سے میرے والد نے کہا جب وہ مجھ پر قُرَّان بن تمام کی حدیث قراءت کر رہے تھے (یعنی قُرَّان بن تمام کی وہ احادیث جو اس نے موسی بن عبیدہ سے روایت کی ہیں): موسی بن عبیدہ کی حدیث کو ترک کردو۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[97] میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، قاله أحمد بن حنبل، وقال علي بن المديني عن [ابن] القطان، قال: كنا نتقيه تلك الأيام‘‘. منکر الحدیث ہے، یہ بات احمد بن حنبل l نے کہی ہے، اور علی بن مدینی l فرماتے ہیں کہ ابن قطان lنے فرمایا: ہم ان دنوں اس سے بچتے ہیں۔

امام بخاریl ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’أنا لا أكتب حديث مجالد، ولا موسى بن عبيدة‘‘[98]. میں مجالد کی حدیث نہیں لکھتا، اور نہ ہی موسی بن عبیدہ کی۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[99]  میں اسحاق بن ابی فروہ کے بارے میں امام احمد بن حنبل l کا کلام ’’لا یحل الکتاب عنہ‘‘ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وكذلك قال أحمد في موسى بن عبيدة، قلت لأحمد: إن موسى قد روى عنه سفيان، وشعبة يقول: (حدثنا) أبو عبد العزيز الرَبَذي، قال: لو بان لشعبة ما بان لغيره ما روى عنه‘‘. اور اسی طرح احمد l ، موسی بن عبیدہ کے بارے میں بھی فرماتے ہیں (یعنی اس سے لکھنا حلال نہیں ہے)، میں (حافظ جوزجانی l) نے احمد l سے کہا: موسی سے سفیان نے روایت کیا ہے، اور شعبہ کہتے تھے: ہمیں ابو عبد العزیز رَبَذی نے حدیث بیان کی ہے، تو احمد l نے فرمایا: اگر شعبہ کے سامنے وہ چیز ظاہر ہوجاتی جو دوسروں کے سامنے ظاہر ہوئی ہے تو وہ اس سے روایت نہ کرتے۔

امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[100] میں موسی بن عبیدہ کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ یعقوب بن شیبہ l فرماتے ہیں: ’’صدوق، ضعيف الحديث جدا‘‘[101]. یہ صدوق ہے، حدیث میں شدید ضعیف ہے۔

حافظ ابو زرعہ l نے اسے ’’ليس بقوي الحديث‘‘ کہا ہے[102]۔

حافظ ابو حاتم l نے اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[103]۔

امام ترمذی l ’’سنن‘‘[104] میں ایک روایت کے تحت موسی بن عبیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وموسى بن عبيدة يضعف في الحديث، ضعفه يحيى بن سعيد وغيره من قبل حفظه‘‘. اور موسی بن عبیدہ کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے، اسے یحیی بن سعید وغیرہ نے حفظ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[105] میں اسے ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[106] میں موسی بن عبیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وجعلوا يجدون المسك يفوح من قبره، وكان من خيار عباد الله، نسكا وفضلا وعبادة وصلاحا، إلا أنه غفل عن الإتقان في الحفظ، حتى يأتي بالشيء الذي لا أصل له متوهما، ويروي عن الثقات ما ليس من حديث الأثبات من غير تعمد له، فبطل الاحتجاج به من جهة النقل، وإن كان فاضلا في نفسه‘‘. لوگوں نے اس کی قبر سے مشک کی خوشبو پھوٹتی محسوس کی ہے، اور یہ اللہ تعالی کے چنیدہ لوگوں میں سے تھا، عبادت، فضیلت، عبدیت اور صلاح کے اعتبار سے، البتہ اتقان فی الحفظ میں غافل تھا، حتی کہ یہ وہم کے طور پر ایسی اشیاء لاتا تھا جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی تھی، اور بلا تعمد ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی روایات نقل کرتا تھا جو ثبت راویوں کی حدیث میں سے نہیں ہوتی تھیں، چنانچہ نقل کی جہت سے اس سے احتجاج باطل ہے، اگرچہ یہ فی نفسہ صاحبِ فضیلت ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[107] میں موسی بن عبیدہ کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں:’’وهذه الأحاديث التي ذكرتها لموسى بن عبيدة بأسانيدها مختلفة، عامتها مما ينفرد بها من يرويها عنه، وعامتها متونها غير محفوظة، وله غير ما ذكرت من الحديث، والضعف على رواياته بين‘‘. اور موسی بن عبیدہ کی یہ احادیث جو میں نے مختلف اسانید سے ذکر کی ہیں ان میں اکثر وہ ہیں جنہیں یہ اپنے مروی عنہ سے نقل کرنے میں متفرد ہے، اور ان میں سے اکثر کے متون غیر محفوظ ہیں، اور اس کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی روایات میں ضعف واضح ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[108] میں بکار بن عبد اللہ رَبَذِی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’فبكار هذا لا يكون به بأس، لأني لم أجد له شيئا أنكر مما ذكرته، وهو إنما يروي عن عمه موسى، فالبلاء من عمه، لا منه‘‘. یہ بکار ’’لاباس بہ‘‘ہے، کیونکہ میں نے اس کی اپنی ذکر کردہ احادیث میں سے بڑھ کر منکر حدیث نہیں پائی، اور یہ صرف اپنے چچا موسی (یعنی موسی بن عبیدہ) ہی سے روایت کرتا ہے، سو بلاء اس کے چچا کی جانب سے ہے، اس کی جانب سے نہیں ہے۔

  امام دارقطنیl’’الضعفاء‘‘[109] میں موسی بن عبیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا يتابع على حديثه‘‘. اس کی حدیث میں متابعت نہیں کی جاتی۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[110] میں موسی بن عبیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعفه علي، وأحمد بن حنبل نسبه إلى إنكار الحديث‘‘. علی l نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور احمد بن حنبل l نے اسے انکار حدیث (یعنی اس کی احادیث میں مناکیر ہونے) کی طرف منسوب کیا ہے۔

حافظ ابن حزم ظاہری اندلسیl نے ’’المحلى‘‘[111] میں ایک روایت کے تحت موسی بن عبیدہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘میں موسی بن عبیدہ کو روایت کے تحت ایک مقام پر ’’ضعيف‘‘[112] اور دوسرے مقام پر ’’ لا يحتج به‘‘[113] کہا ہے۔

حافظ ابو الحسن بن قطان فاسی l نے ’’بيان الوهم‘‘[114] میں ایک حدیث کے تحت موسی بن عبیدہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[115] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه، وقال أحمد: لا تحل الرواية عنه‘‘. محدثین نے اس کی تضعیف کی ہے، اور احمد l فرماتے ہیں: اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔

حافظ ذہبی l ہی ’’ميزان‘‘[116] میں عمر بن حکم بن ثوبان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’ثم ساق له العقيلي حديثا، العهدة فيه على موسى بن عبيدة، فإن موسى واه‘‘. پھر عقیلی l اس کی ایک حدیث لائے ہیں، جس میں ذمہ داری موسی بن عبیدہ پر ہے، کیونکہ موسی واہی ہے۔

حافظ عراقی l نے ’’التقييد‘‘[117] میں ایک روایت کے تحت موسی بن عبیدہ کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے’’مجمع الزوائد‘‘ میں موسی بن عبیدہ کو روایت کے تحت ایک مقام پر ’’ضعيف‘‘[118] ، ایک دوسرے مقام پر ’’ضعيف جدا‘‘[119] اور ایک مقام پر ’’متروك‘‘[120] کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے موسی بن عبیدہ کو ’’التقريب‘‘[121] میں ’’ضعيف‘‘، ’’تهذيب التهذيب‘‘[122] میں ’’ضعيف جدا‘‘ اور ’’الدراية‘‘[123] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[91]  الطبقات الكبرى:۵/۴۵۳،رقم:۱۳۳۴،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .

[92] الكامل في ضعفاء الرجال:8/46،رقم:1813،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[93]  الضعفاء الكبير:۴/۱۶۱،رقم:۱۷۳۲،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[94] الكامل في ضعفاء الرجال:8/44،رقم:1813،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[95]  سؤالات ابن أبي شيبة:ص:1۲۰،رقم:۱۴۵،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1404هـ .

[96]  الضعفاء الكبير:۴/۱۶۰،رقم:۱۷۳۲،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[97] التاريخ الكبير:7/169،رقم:10580،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني1429هـ .

[98] علل الترمذي الكبير للترمذي:ص:1۰۱،رقم:172،ت:صبحي السامرائي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى 1409هـ .

[99] أحوال الرجال:ص:۲۱۴،رقم:۲۱۲،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[100] الكنى والأسماء:ص:۶۳۹،رقم:۲۶۰۱،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ  .

[101] ميزان الاعتدال:4/213،رقم:8895 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .

[102] الجرح والتعديل:۸/۱۵۲،رقم:۶۸۶،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .

[103] الجرح والتعديل:۸/۱۵۲،رقم:۶۸۶،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .

[104] سنن الترمذي:5/362،رقم:3339،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1996ء .

[105] الضعفاءوالمتروكين:ص:۲۲۴،رقم:۵۸۱،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[106] المجروحين من المحدثين:2/234،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[107] الكامل في ضعفاء الرجال:8/۵۰،رقم:1813،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[108] الكامل في ضعفاء الرجال:۲/۲۲۰،رقم:۲۸۱،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[109] الضعفاء والمتروكون:ص:366،رقم:517،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .

[110] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۷۹،رقم:۲۰۳،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[111] المحلى بالآثار:۲/۱۸،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1425هـ .

[112] السنن الكبرى:۵/۱۹۰،رقم:۹۴۷۵،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[113] السنن الكبرى:۲/۵۴۱،رقم:۴۰۰۴،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1424هـ .

[114] بيان الوهم والايهام الواقعين في كتاب الأحكام:۵/55،رقم:۲۲۹۵،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[115] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:402،رقم:4293،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة،الطبعة 1387هـ .

[116] ميزان الاعتدال:۳/۱۹۱،رقم:۶۰۸۴،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[117] التقييد والإيضاح شرح مقدمة ابن الصلاح:ص:۳۰۷،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1389هـ .

[118] مجمع الزوائد:1/1۷۵،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[119] مجمع الزوائد:1/127،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[120] مجمع الزوائد:9/174،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[121] تقريب التهذيب:ص:۵۵۲،رقم:۶۹۸۹،ت:محمدعوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

[122] تهذيب التهذيب:1/194،رقم:362،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1327هـ .

[123] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:2/157،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ