التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عیسی بن عبد اللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب علوی

ایک روایت میں تذکرہ

عیسی بن عبد اللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب علوی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود عیسی بن عبد اللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب علوی کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ ابن حجر l حافظ ذہبی l کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ’’قال الدارقطني: متروك الحديث، ويقال له: مبارك. وقال ابن حبان: يروي عن آبائه أشياء موضوعة...‘‘[66].

دار قطنی l کا کہنا ہے کہ یہ متروک الحدیث ہے،اسے مبارک کہتے ہیں،ابن حبان l فرماتے ہیں کہ یہ اپنے آباء کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا تھا۔

اس کے بعد حافظ ابن حجر l تحریر فرماتے ہیں:

’’وذكره ابن حبان في الثقات أيضا، وقال: كنيته أبو بكر، وفي حديثه بعض المناكير. وقال أبو نعيم: روى عن آبائه أحاديث مناكير، لا يكتب حديثه، لا شيء. وقال ابن عدي: حدثنا محمد بن الحسين عن عباد بن يعقوب عنه عن آبائه بأحاديث غير محفوظة. وحدثنا ابن هلال، عن ابن الضريس عنه بأحاديث مناكير، وله غير ما ذكرت مما لا يتابع عليه‘‘.

ابن حبان l نے اسے ثقات میں بھی ذکر کیا ہے،اور کہا ہے کہ اس کی کنیت ابو بکر ہے،اور اس کی احادیث میں کچھ مناکیر ہیں،ابو نعیم l فرماتے ہیں کہ یہ اپنے آباء کے انتساب سے مناکیر نقل کرتا ہے،اس کی احادیث نہ لکھی جائیں،یہ لا شیء ہے،ابن عدی l فرماتے ہیں کہ ہمیں محمد بن حسین نے عباد بن یعقوب سے،عباد نے عیسی بن عبد اللہ علوی سے ، عیسیٰ  نے اپنے آباء سے غیر محفوظ احادیث نقل کی ہیں،اور ہمیں ابن ہلال نے ،انھوں نے ضریس سے، انھوں نے عیسی بن عبد اللہ علوی سے مناکیر نقل کی ہیں،اور ان کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی روایات ہیں جس میں ان کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔

حوالہ جات

[66] لسان الميزان:۶/۲۶۹،رقم:۵۹۳۴،ت:شيخ عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ