اس روایت کی تحقیق سے3 میں سے 1
روایت:’’ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے فقیروں اور مسکینوں کا اکرام کیا؟ آج تم جنت میں اس طرح داخل ہوجاؤکہ نہ تم پر کسی قسم کا خوف ہےنہ تم مغموم ہوگے، اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بیمار، فقیروں اور غریبوں کی عیادت کی؟ آج وہ نور کے منبروں پر بیٹھیں گے، اور اللہ عز وجل سے باتیں کریں گے، اور دوسرے لوگ حساب کی سختی میں مبتلا ہوں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی عباد بن کثیر ثقفی کاہلی بصری (المتوفی مابین ۱۴1ھ ـ ۱۵۰ھ[53]) کے بارے میں ائمہ کا کلام
علامہ مجیب بن موسی اصبہانی l فرماتے ہیں: ’’ كنت مع سفيان الثوري بمكة، فمات عباد بن كثير، فلم يشهد سفيان جنازته‘‘[54]. میں مکہ میں سفیان ثوری l کے ساتھ تھا، جب عباد بن کثیر کا انتقال ہوا تو سفیان l نے اس کے جنازہ میں شرکت نہیں کی۔
امام عبد اللہ بن مبارکl فرماتے ہیں: ’’قلت لسفيان الثوري: إن عباد بن كثير من تعرف حاله، وإذا حدث جاء بأمر عظيم، فترى أن أقول للناس: لا تأخذوا عنه؟ قال سفيان: بلى، قال عبد الله: فكنت إذا كنت في مجلس ذكر فيه عباد، أثنيت عليه في دينه، وأقول: لا تأخذوا عنه‘‘[55].
میں نے سفیان ثوریl سے پوچھا:عباد بن کثیر کا حال تو آپ جانتے ہی ہیں، جب وہ روایت کرتا ہے، تو بڑی بات کرتا ہے،کیا آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ میں لوگوں سے کہوں کہ اس سے روایت نہ لیں؟سفیانl نے فرمایا:بالکل، عبد اللہ مبارک l کہتے ہیں:پھر جب میں کسی ایسی مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا تذکرہ ہوتا،تو میں اس کے دین کی تعریف کرکے کہتا: اس سے روایت مت لو۔
اور ایک دوسری سند سے امام عبد اللہ بن مبارکl فرماتے ہیں: ’’انتهيت إلى شعبة، فقال: هذا عباد بن كثير، فاحذروه‘‘[56] .میں شعبہl کے پاس آیا، تو وہ فرمارہے تھے:یہ عباد بن کثیر ہےاس سے احتیاط کرو(یعنی روایات لینے میں)۔
امام عبد اللہ بن مبارکl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:’’ما أدري من رأيت رجلا أفضل من عباد بن كثير في ضروب من الخير، فإذا جاء الحديث فليس منها في شيء‘‘[57] .میں نے عباد بن کثیر سے بڑھ کر کسی کو کار خیر میں افضل نہیں پایا، لیکن جب حدیث کی بات آتی ہے تووہ اس میں ’’لیس بشیء‘‘ ہوتا ہے۔
حافظ ابن خلفون l فرماتے ہیں: ’’هو ضعيف عندهم، وكان رجلا صالحا زاهدا، كان ابن عيينة يمدحه، وينهى عن ذكره إلا بخير،
لتعبده وصلاحه‘‘[58]. محدثین کے نزدیک یہ ضعیف ہے، نیک زاہد شخص
تھا، ابن
عیینہ l ان کی تعریف کرتے
تھے، اور ان کی عبادت وصلاح کی وجہ سے ذکر خیر کے علاوہ سے منع کرتے تھے۔
حافظ عبد اللہ بن ادریس اَوْدِیlفرماتے ہیں: ’’ كان شعبة لا يستغفر لعباد بن كثير‘‘[59] .شعبہl عباد بن کثیر کے لئے استغفار نہیں کرتے تھے۔
امام عبد الرزاق صنعانی l ’’المصنف‘‘[60] میں ابن مطیع سے نقل فرماتے ہیں: ’’ أخرج عباد بن كثير بعد ثلاث سنين من قبره لم يفقد منه إلا شعرات، قال: فعلمنا أن هذا يدلنا على فضله، وكان عندنا ثقة‘‘. عباد بن کثیر کو ان کی قبر سے تین سال بعد نکالا گیا تو ان کے صرف چند بال کم تھے، ابن مطیع فرماتے ہیں: چنانچہ ہمیں معلوم ہوا کہ یہ ان کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے، اور عباد ہمارے نزدیک ثقہ تھا۔
حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’وعباد بن كثير الذي كان يكون بمكة، ليس بشيء في الحديث، وكان رجلا صالحا‘‘[61] .عباد بن کثیر جومکہ میں تھا،حدیث میں لیس بشیءہے، اور وہ نیک آدمی تھا۔
حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ لا یکتب حديثه‘‘[62] .عباد بن کثیرکی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا۔
حافظ یحیی بن معینl ایک اور مقام پر عباد بن کثیر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’في حديثه ضعف‘‘[63]. اس کی حدیث میں ضعف ہے۔
امام علی بن مدینیl نے عباد بن کثیر کو’’لم يكن بشيء‘‘ کہا ہے[64] ۔
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’عباد بن كثير أسوأ حالا من الحسن بن عمارة وأبى شيبة إبراهيم بن عثمان، روى أحاديث كاذبة لم يسمعها، وكان من أهل مكة، وكان صالحا، قلت: فكيف كان يروي ما لم يسمع؟ قال: البلاء الغفلة‘‘[65] . عباد بن کثیر،حسن بن عمارہ اور ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان سے بری حالت میں تھا،اس نے ایسی جھوٹی روایتیں نقل کی ہیں،جواس نے نہیں سنی،وہ اہل مکہ میں سے تھااور نیک انسان تھا،ابو طالب کہتے ہیں میں نے عرض کیا!عباد کیسے ایسی روایات نقل کرتا تھا جواس نے سنی ہی نہیں تھیں؟ احمد بن حنبلl نے فرمایا: (اس كی)بلاء غفلت تھی۔
حافظ برقیl نے عباد بن کثیر کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[66] ۔
امام بخاریl’’ التاريخ الكبير‘‘[67] اور’’ الضعفاء‘‘[68] میں فرماتے ہیں: ’’ تركوه‘‘. محدثین نے اس کوترک کردیا ہے۔
نیز امام بخاریl ہی نے ’’التاريخ الصغير‘‘[69] میں عباد بن کثیر کے بارے میں’’سكتوا عنه‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو اسحاق جوزجانیl ’’أحوال الرجال‘‘[70] میں فرماتے ہیں: ’’عباد بن كثير، فلا ينبغي لحكيم أن يذكره في العلم، حسبك عنه بحديث النهي‘‘. کسی سمجھدار کےلئے مناسب نہیں کہ عباد بن کثیر کا تذکرہ علم میں کرے، تمہارے لئے اس کی حدیثِ نہی ہی کافی ہے۔
واضح رہے کہ حافظ ابو اسحاق جوزجانیl کے کلام میں مذکور حدیث نہی کا ذکر حافظ ابن حجر عسقلانیl کےکلام میں آئے گا۔
حافظ عجلیl فرماتے ہیں: ’’ضعيف، متروك الحديث، وكان رجلا صالحا‘‘[71] .عباد بن کثیر ضعیف، متروک الحدیث ہے، اور وہ نیک آدمی تھا۔
امام ابوداؤدl نے عباد بن کثیر کو’’متروک الحدیث‘‘ کہاہے[72] ۔
حافظ یعقوب فَسَویl ’’المعرفة والتاریخ‘‘[73] فرماتے ہیں: ’’ويذكر بزهد وتقشف وعبادة، وحديثه ليس بشيء‘‘.عباد بن کثیر کا زہد،سادگی اور عبادت کےطورپر تذکرہ کیا جاتا ہے، اور اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔
امام نسائیl نے عبادبن کثیر کو’’متروک الحدیث‘‘ کہاہے[74] ۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجیl فرماتے ہیں: ’’صدوق، من أهل الزهد، كثير الوهم، منكر الحديث، لا يحفظ‘‘[75] . صدوق ہے، زاہدین میں سے ہے، کثیر الوہم ہے، منکر الحدیث ہے، احادیث محفوظ نہیں کرتاتھا۔
حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’ضعیف الحدیث، وفی حدیثه عن الثقات إنکار‘‘[76] .ضعیف الحدیث ہے، اور اس کی ثقہ راویوں سے منقول حدیثوں میں انکار ہے۔
حافظ عبد الرحمن بن ابوحاتمl فرماتےہیں: ’’سألت أبا زرعة عن عباد بن كثير، قلت: يكتب حديثه؟ قال: لا، ثم قال: كان شيخا صالحا، وكان لا يضبط الحديث، وكان في كتاب أبي زرعة حديث عن أحمد بن يونس، عن زهير، عن عباد بن كثير، فقال: اضربوا عليه، ولم يحدثنا به‘‘[77] .
میں نےابو زرعہl سے عباد بن کثیر کے بارے میں سوال کیاکہ ان کی حدیثوں کو لکھا جائے گا؟ ابو زرعہl نے کہا نہیں،پھر ابو زرعہl نے فرمایا: عباد بن کثیر شیخ صالح تھا،اور وہ حدیث ضبط نہیں کرتا تھا،اور ابو زرعہl کی کتاب میں احمد بن یونس، عن زہیر، عن عبادبن کثیر کی سند سے حدیث تھی،ابو زرعہl نے فرمایا کہ اس کوترک کردو،اور وہ حدیث ہم سے روایت نہیں کی۔
حافظ برذعیl فرماتےہیں: ’’قلت: عباد بن كثير الرملي وعباد بن كثير البصري؟ فقال: كلاهما واهيان في الحديث، وهما فاضلان متعبدان‘‘[78]. میں نےابو زرعہl سے عباد بن کثیررملی اور عباد بن کثیر بصری کے بارے میں سوال کیاتو انہوں نے فرمایا:دونوں ہی حدیث میں واہی ہیں،اور دونوں صاحب فضل، عبادت گزار ہیں۔
حافظ ابو غسان مالک بن اسماعیل l فرماتے ہیں: ’’ كان جرير يحدث عن عباد بن كثير، فيقولون: اعفنا عنه، فيقول: ويحكم، كان شيخا صالحا، فيقولون: اعفنا عنه‘‘[79].جریر، عباد بن کثیر سے حدیث بیان کرتے تھے، لوگ کہتے کہ ہمیں اس سے معاف رکھیں، تو وہ کہتے کہ تم پر افسوس ہے، وہ نیک صالح بزرگ تھے، لوگ کہتے کہ ہمیں اس سے معاف رکھیں۔
حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[80] میں عباد بن کثیر کی چند روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’ولعباد بن كثير غير ما ذكرت من الحديث، ومقدار ما أمليت منه عامته مما لا يتابع عليه‘‘.اور عباد بن کثیر کی مذکورہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور جومقدار میں نے لکھوائی ہے اس میں عام طور پر اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ ابو عبد اللہ حاکم نیشا پوریl ’’المدخل‘‘[81] میں فرماتے ہیں: ’’ كان الثوري يكذبه، ثم مات فلم يصل عليه‘‘.ثوریl اس كوکذاب کہتے تھے، پھر جب وہ مرگیا تو ثوری l نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’ كذبه سفيان الثوري، وحضر وفاته، فلم يصل عليه‘‘.سفیان ثوری l نے اس کو کذاب کہا ہے، اور سفیان l اس کی وفات کے وقت موجود تھے، مگر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
حافظ ابن عبد البر l ’’التمهيد‘‘[83] میں فرماتے ہیں: ’’ كان رجلا فاضلا عابدا، وليس بالقوي‘‘. عباد بن کثیر فاضل، عابد تھا، اور ’’لیس بالقوی‘‘ تھا۔
حافظ ابن عبد البر l ’’التمهيد‘‘[84] میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وعباد بن كثير عندهم ضعيف، لا يحتج به‘‘. عباد بن کثیر محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
حافظ ابو الفضل محمد بن طاہر مقدسیl نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[85] میں عباد بن کثیر کو’’متروك‘‘كہاہے۔
حافظ ذہبیl ’’تلخیص الموضوعات‘‘[86] میں عباد بن کثیر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔
حافظ ابن كثيرl نے عباد بن کثیر کو’’متروك الحديث‘‘ كہا ہے[87] ۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’تهذیب التهذیب‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وقال ابن عدي: حدث من المناهي بمقدار ثلاث مائة حديث، قال: ومقدار
ما أمليت من حديثه لا يتابع عليه، قلت: وحديث النهي الذي أشار إليه الجوزجاني هو الذي ذكر ابن عدي أنه مقدار ثلاثمائة حديث، وصدق ابن عدي، قد رأيتها، وكأنه لم يترك متنا صحيحا ولا سقيما فيه نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كذا إلا وساقه على ذلك الإسناد الذي ركبه .
وهو: حدثني عثمان الأعرج، حدثني يونس، عن الحسن البصري، قال: حدثني سبعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: عبد الله بن عمر، وعبد الله بن عمرو، وجابر، وأبي هريرة، ومعقل بن يسار، وعمران بن حصين، فساق الحديث عنهم، وافترى في زعمه أن الحسن سمع من هؤلاء، نعم! سمع من معقل وعمران، واختلف في سماعه من أبي هريرة‘‘[88].
ابن عدیl فرماتے ہیں:عباد بن کثیر نے نواہی میں تین سو کے بقدر احادیث روایت کی ہیں، ابن عدیl فرماتے ہیں: عباد بن کثیر کی جتنی روایا ت میں نے لکھوائی ہیں،ان میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی،میں (حافظ ابن حجر عسقلانیl) کہتا ہوں:حدیث نہی جس کی جانب جوزجانیl نے اشارہ کیاہے، یہ وہی ہے جس کے بارے میں ابن عدیl نے ذکر فرمایا کہ وہ تین سواحادیث کے بقدر ہے،اور ابن عدیl نے سچ کہا ہے،میں نے بھی ان احادیث کو دیکھا ہے، گویا کہ عباد بن کثیر نے نہ کوئی صحیح متن چھوڑا ہے اور نہ ہی کوئی سقیم متن جس میں یہ وارد ہوا کہ ’’ آپﷺ نے فلاں چیز سے منع فرمایا ہے‘‘ مگر یہ کہ عباد بن کثیر نے اس کو اپنی جوڑی ہوئی سند سے روایت کردیا ہے۔
اوروہ جوڑی ہوئی سندیہ ہے:مجھ سے عثمان اعرج نے حدیث بیان کی، وہ فرماتے ہیں:مجھ سے یونس نے حسن بصری l کے واسطہ سے روایت کیا، حسن بصری l فرماتے ہیں: مجھے سات اصحاب رسول ﷺ نے حدیث بیان کی ہے: عبد اللہ بن عمر q، عبد اللہ بن عمرو r، جابرr ، ابو ہریرہr ، معقل بن یسار r اور عمران بن حصین r ، اس کے بعد عباد نے ان سے حدیث روایت کی، اور عباد بن کثیر نے بزعم خود یہ جھوٹ باندھا ہے کہ حسن بصری l نے ان سب سے سنا ہے، ہاں! حسن بصری l نے معقل rاور عمران r سے تو سنا ہے، البتہ ان کے ابوہریرہ r سے سننے میں اختلاف ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl’’تقریب التهذيب‘‘[89] میں عباد بن کثیر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروک، قال أحمد: روى أحاديث كذب‘‘. متروک ہے، احمد l فرماتے ہیں: اس نے جھوٹی احادیث روایت کی ہیں۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’اتفقوا على توهينه‘‘[90] عباد بن كثيرکے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے۔
حوالہ جات
[53] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں عباد بن کثیر کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال۱۴۱ھ سے ۱۵۰ ھ کے درمیان ہوا ہے۔(التاريخ الصغير:2/۲۰۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).
[54] المجروحين:2/167،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[55] صحیح مسلم:۱/۱۷،ت:محمد فؤاد عبد الباقی،عیسي البابی الحلبی ـ مصر،الطبعة الأولى1412هـ .
[56] صحیح مسلم:۱/۱۷،ت:محمد فؤاد عبد الباقی،عیسي البابی الحلبی ـ مصر،الطبعة الأولى1412هـ .
[57] المجروحين:2/166،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت .
[58] إكمال تهذيب الكمال:7/180،رقم:2703،ت:عادل محمد وأسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة،الطبعة الأولى 1422هـ .
[59] الكامل في ضعفاء الرجال:5/538،رقم:1165،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[60] المصنف:۱۰/۲۹۹،رقم:۱۹۱۶۸،ت:حبيب الرحمن الأعظمي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1390هـ .
[61] تاریخ عثمان بن سعید الدارمی:ص:146،رقم:496،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .
[62] الكامل في الضعفاء:5/538،رقم:1165،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.
[63] تاریخ یحیى بن معين برواية الدوري:4/269،رقم:4319،ت:أحمد محمد نور سيف،مركز البحث العلمي ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1399هـ .
[64] سؤالات ابن أبي شيبة:ص:125،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .
[65] الجرح والتعديل:6/84،رقم:433،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[66] إكمال تهذيب الكمال:7/179،رقم:2703،ت:عادل بن محمد وأسامه بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعةالأولى1422هـ .
[67] التاريخ الكبير:5/322،رقم:1642،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 2008هـ .
[68] الضعفاء للبخاري:ص:79،رقم:227،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1409هـ .
[69] التاریخ الصغير:2/97،ت:يوسف المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1409هـ .
[70] أحوال الرجال:ص:177،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[71] إكمال تهذيب الكمال:7/179،رقم:2703،ت:عادل بن محمد وأسامه بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعةالأولى1422هـ .
[72] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:250،رقم:330،ت:محمد علي قاسم العمري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة .
[73] المعرفة والتاريخ:3/140،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[74] الضعفاء والمتروكين:ص:172،رقم:429،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[75] إكمال تهذيب الكمال:7/179،رقم:2703،ت:عادل بن محمد وأسامه بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعةالأولى1422هـ .
[76] الجرح والتعديل:6/84،رقم:433،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[77] الجرح والتعديل:6/84،رقم:433،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[78] سؤالات البرذعي:ص:124،رقم:138،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،إدارة الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .
[79] الضعفاء الكبير:۳/۱۴۰رقم:۱۱۲۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[80] الكامل في ضعفاء الرجال:5/542،رقم:1165،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[81] المدخل إلى الصحيح:ص:179،رقم:146،ت:ربيع بن هادي بن عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[82] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/76،رقم:177،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[83] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:3/468،ت:بشار عواد معروف،سليم محمد عامر،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ .
[84] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:۴/۳۹۷،ت:بشار عواد معروف،سليم محمد عامر،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ .
[85] تذكرة الحفاظ:ص:172،رقم:406،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .
[86] تلخيص الموضوعات:ص:331،رقم:897،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1419هـ .
[87] البداية والنهاية:9/424،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1418هـ .
[88] تهذيب التهذيب:5/101،رقم:169،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[89] تقریب التهذيب:ص:290،رقم:3139،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .
[90] كتاب موافقة الخبر الخبر في تخريج أحاديث المختصر:1/162،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الثانية1414هـ .