التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

سفیان بن و کیع بن جرّاح

المتوفی ۲۴۷ھایک روایت میں تذکرہ

سفیان بن و کیع بن جرّاح کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی سفیان بن وکیع بن جرّاح (المتوفی ۲۴۷ھ)کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[34] میں لکھتے ہیں:

’’ولسفيان بن وكيع حديث كثير، وإنما بلاؤه أنه كان يتلقن ما لُقّن، ويقال: كان له وراق يلقنه من حديث موقوف فيرفعه، وحديث مرسل فيوصله، أو يبدل في الإسناد قوما بدل قوم‘‘.

اور سفیان بن وکیع سے بہت سی احادیث ہیں، اور ان کی بلا ومصیبت یہ تھی کہ ان کو جن حدیثوں کی تلقین کی جاتی یہ ان کو قبول کرلیتے تھے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک وراق تھا جس کی تلقین پر یہ حدیث موقوف کو مرفوع، اور حدیث مرسل کو موصول بنا دیتے ،یا وہ سند میں افراد کو تبدیل کردیتا تھا۔

حافظ ابوزرعہ l فرماتے ہیں: ’’كان يتهم بالكذب‘‘[35]. یہ متہم بالکذب ہے۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں:

’’وكان شيخا فاضلا صدوقا إلا أنه ابتلى بوراق سوء كان يدخل عليه الحديث، وكان يثق به فيجيب فيما يقرأ عليه، وقيل له بعد ذلك في أشياء منها، فلم يرجع، فمن أجل إصراره على ما قيل له استحق الترك، وكان ابن خزيمة يروي عنه، وسمعته يقول:حد ثنا بعض من أمسكنا عن ذكره، وهو من الضرب الذى ذكرته مرارا أن لو خر من السماء فتخطفه الطير أحب إليه من أن يكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولكنهم أفسدوه .....‘‘[36].

’’سفیان بن وکیع شیخ فاضل صدوق ہے، وہ ایک برے ورّاق کی مصیبت میں مبتلاء ہوگئے تھے، جو ان کی حدیثوں میں حدیث شامل کردیتا تھا، اور یہ اس ورّاق پر اعتماد کرتے تھے، چنانچہ ان احادیث میں جو کچھ ان پر پڑھا جاتا تھا یہ اسے قبول کرتے تھے، اور بعد میں جب ان احادیث میں بعض چیزوں کےبارے میں انہیں کہا گیا تو بھی انہوں نے رجوع نہیں کیا، چنانچہ باوجود تنبیہ کرنے کے بھی وہ اس پر جمے رہے، اس لیے وہ ترک کے مستحق ہیں، اور ابن خزیمہl ان کی روایات نقل کرتے تھے، اور میں ابن خزیمہ l کو ان کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنتا تھا کہ ہمیں ایسے شخص نے یہ روایت بیان کی ہے جن کے ذکر کرنے سے ہم رک چکے ہیں، اور یہ شخص اسی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کا تذکرہ میں بارہا کرچکا ہوں کہ اس شخص کے نزدیک رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولنے کے مقابلہ میں یہ زیادہ پسندیدہ بات ہے کہ وہ آسمان سے گرجائے اور پرندے اسے اچک لیں، بس بات یہ ہے کہ لوگوں نے ایسے شخص کو خراب کردیا ہوتا ہے۔۔۔‘‘

امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’يتكلمون فيه لأشياء لقّنوه إياها‘‘ [37]. محدثین نے اس پر ان امور کی وجہ سے کلام کیا ہے،جو لوگ اسے تلقین کرتے تھے۔

امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة‘‘. ثقہ نہیں ہے۔ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء‘‘[38].

حوالہ جات

[34] الكامل في الضعفاء:۴ /۴۸۲،رقم:۸۴۴ ،ت:شيخ عادل أحمد وشيخ علي معوض،دارالكتب العلميةـ بيروت .

[35] الجرح والتعديل:۴/۲۳۱،رقم:۹۹۱،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[36] المجروحين:۱/۳۵۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[37] ميزان الاعتدال:۲/۱۷۳، رقم:۳۳۳۴،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ .

[38] تهذيب التهذيب:۲/۶۱،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالةـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ