اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت:’’ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے فقیروں اور مسکینوں کا اکرام کیا؟ آج تم جنت میں اس طرح داخل ہوجاؤکہ نہ تم پر کسی قسم کا خوف ہےنہ تم مغموم ہوگے، اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بیمار، فقیروں اور غریبوں کی عیادت کی؟ آج وہ نور کے منبروں پر بیٹھیں گے، اور اللہ عز وجل سے باتیں کریں گے، اور دوسرے لوگ حساب کی سختی میں مبتلا ہوں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی میسرہ بن عبد ربہ تُسْتَری فارسی بصری تَرَّاس (المتوفی ما بین ۱۶1ھ – ۱۷۰ھ [5])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام عبد الرحمن بن مہدیl فرماتے ہیں: ’’قلت لميسرة بن عبد ربه في هذا الحديث الذي حدث به في فضائل القرآن: أيش هو؟ قال: هذا وضعته أرغب الناس في القرآن‘‘[6]. میں نے میسرہ بن عبد ربہ سے کہا کہ یہ حدیث جو قرآن کے فضائل کے بارے میں بیان کی جاتی ہے، یہ کیا ہے؟ میسرہ نے کہا: یہ میں نے قرآن کے بارے میں لوگوں کو رغبت دلانے کےلئے گھڑی ہے۔
حافظ یحیی بن معین l نے میسرہ کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[7]۔
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[8] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[9] اور ’’الضعفاء الصغير‘‘[10] میں میسرہ بن عبد ربہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يرمى بالكذب‘‘. اسے جھوٹ بولنے میں متہم قرار دیا گیا ہے۔
حافظ ابن حمادl ، میسرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان كذابا‘‘[11]. یہ جھوٹا تھا۔
حافظ ابو زرعہ l نے میسرہ بن عبد ربہ کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[12]۔
نیز حافظ ابو زرعہ l ایک دوسرے مقام پر میسرہ بن عبد ربہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان من [أهل] الأهواز، وكان يضع الحديث وضعا، قد وضع في فضائل قزوين نحو أربعين حديثا، كان يقول: إني أحتسب في ذلك‘‘[13]. یہ اہواز والوں میں سے تھا، اور یہ خوب حدیث گھڑتا تھا، اس نے قزوین کے فضائل میں چالیس کے قریب احادیث گھڑی ہیں، کہتا تھا کہ میں اس میں ثواب کی امید رکھتا ہوں۔
امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’وميسرة بن عبد ربه أقر بوضع الحديث‘‘[14]. اور میسرہ بن عبد ربہ نے حدیث گھڑنے کا اقرار کیا ہے۔
حافظ ابو حاتمl ، میسرہ بن عبد ربہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان يرمى بالكذب، وكان يفتعل الحديث، روى في فضل قزوين والثغور بالكذب‘‘[15]. اسے جھوٹ میں متہم قرار دیا گیا ہے، اور یہ حدیث گھڑتا تھا، اس نے قزوین اور سرحد کی فضیلت میں جھوٹ روایت کیا ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[16] میں میسرہ بن عبد ربہ کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ایک مقام پر میسرہ بن عبد ربہ کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[17]۔
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[18] میں میسرہ بن عبد ربہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أحاديثه بواطيل، غير محفوظة‘‘. اس کی احادیث باطل، غیر محفوظ ہیں۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[19] میں میسرہ بن عبد ربہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات، ويضع المعضلات عن الثقات في الحث على الخير والزجر عن الشر، لا يحل كتابة حديثه إلا على سبيل الاعتبار‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثبت راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتے ہیں، اور نیکی پر ابھارنے کےلئے اور برائی سے روکنے کےلئے ثقہ راویوں کے انتساب سے معضلات گھڑتے ہیں، اس کی حدیث کو صرف اعتبار کے طور پر ہی لکھنا حلال ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[20] میں میسرہ کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں:’’ولميسرة غير هذه الأحاديث، وعامة حديثه يشبه بعضها بعضا في الضعف‘‘. میسرہ کی ان کے علاوہ اور احادیث بھی ہیں، اور عام طور پر اس کی احادیث ضعف میں بعض بعض کے مشابہ ہوتی ہیں۔
حافظ ابو الفتح ازدی l فرماتے ہیں: ’’روى ميسرة عن عبد الكريم كتابا يسمى كتاب الألوية، موضوع على عبد الكريم الجندي، لا أصل له‘‘[21]. میسرہ نے عبد الکریم کے انتساب سے ایک کتاب روایت کی ہے، جس کا نام ’’ کتاب الالویہ‘‘ہے، یہ عبد الکریم جندی پر گھڑی گئی ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
امام دارقطنی l نے میسرہ کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[22]۔
امام دارقطنی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ كتاب العقل وضعه أربعة: أولهم ميسرة بن عبد ربه، ثم سرقه منه داود بن المُحَبَّر، فركبه بأسانيد غير أسانيد ميسرة، وسرقه عبد العزيز بن أبي رجاء، فركبه بأسانيد أخر، ثم سرقه سليمان بن عيسى السِجْزي فأتى بأسانيد أخر‘‘[23]. کتاب العقل کو چار لوگوں نے گھڑا ہے: ان میں سب سے پہلے میسرہ بن عبد ربہ ہے، پھر اس کو میسرہ سے داؤد بن محَبَّر نے سرقہ کیا، سو وہ اس کو میسرہ کے علاوہ کی سندوں سے لےآیا، اور اس کو عبد العزیز بن ابی رجاء نے سرقہ کیا، سو اس نے اسے دوسری سندوں کے ساتھ جوڑ دیا، پھر اس کو سلیمان بن عیسی سِجْزی نے سرقہ کیا، سو وہ اس کی دوسری اسانید لے آیا۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[24] میں میسرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي الموضوعات عن قوم من المجهولين، وهو ساقط‘‘. مجہول لوگوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے، اور یہ ساقط ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند‘‘[25] میں میسرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي الأباطيل، مرمي بالكذب، قاله البخاري‘‘. یہ باطل احادیث روایت کرتا ہے، بخاری l فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹ میں متہم ہے۔
حافظ ابن ماکولا l نے ’’الإكمال‘‘[26] میں میسرہ کو ’’غير ثقة‘‘ قرار دیا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[27] میں ایک روایت کے تحت میسرہ کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے میسرہ کو ’’ديوان الضعفاء‘‘[28] میں ’’كذاب مشهور‘‘ اور ’’المغني‘‘[29] میں ’’كذاب معروف‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[30] میں میسرہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو واضع كتاب العقل‘‘. یہ کتاب العقل کا گھڑنے والا ہے۔
علامہ مسلمہ بن قاسم lفرماتے ہیں: ’’كذاب، روى أحاديث منكرة، وكان ينتحل الزهد والعبادة، فإذا جاء الحديث جاء شيء آخر‘‘[31]. کذاب ہے، اس نے منکر احادیث روایت کی ہیں، اور یہ زہد وعبادت سے آراستہ تھا، پھر جب حدیث آئی تو کچھ اور ہی آجاتا۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’الإصابة‘‘[32]میں ایک روایت کے تحت میسرہ کو ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’المطالب العالیة‘‘[33]میں ایک روایت کو من گھڑت قرار دے کر فرماتے ہیں: ’’اختلقه ميسرة بن [عبد ربه]، فقبحه الله فيما افترى‘‘. اسے میسرہ بن عبد ربہ نے گھڑا ہے، سو اللہ تعالی اس کے جھوٹ میں اس کا برا کرے۔
اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانیl ہی ’’المطالب العالیة‘‘[34]میں ایک روایت کو من گھڑت قرار دے کر فرماتے ہیں: ’’والمتهم به ميسرة بن عبد ربه، لا بورك فيه‘‘. اور اس میں میسرہ بن عبد ربہ متہم ہے، اس میں برکت نہ ہو۔
حافظ سیوطیl نے ’’الزيادات‘‘میں میسرہ کو حدیث کے تحت ایک مقام پر ’’كذاب‘‘[35] اور دوسرے مقام پر ’’وضاع‘‘[36] کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[37] میں میسرہ بن عبد ربہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن حبان: روى الموضوعات عن الأثبات، ويضع الحديث، وقال أبو داود: أقر بوضع الحديث‘‘. ابن حبان l فرماتے ہیں: اس نے ثبت راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں، اور یہ حدیث گھڑتا تھا، اور ابو داؤد l فرماتے ہیں کہ اس نے حدیث گھڑنے کا اقرار کیا ہے۔
حوالہ جات
[5] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں میسرہ بن عبد ربہ کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۶1 ھ سے 1۷۰ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/۱۳۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).
[6] الضعفاء الكبير:۴/۲۶۴رقم:۱۸۶۸،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[7] انظرتاريخ بغداد:۱۳/۲۲۴،رقم:۷۱۹۳،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[8] التاريخ الكبير:۷/۲۵۳،رقم:۱۰۹۵۸،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني 1429هـ .
[9] التاريخ الصغير:2/۱۵۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[10] الضعفاء الصغير:ص:۱۱۴،رقم:۳۵۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[11] انظر الكامل في ضعفاء الرجال:8/18۰،رقم:1908،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[12] سؤالات البرذعي:ص:۳۶۳،رقم:۸۳۹ ،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[13] الجرح والتعديل:۸/۲۵۴،رقم:۱۱۵۷،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[14] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/۱۹۲،رقم:۱۵۷۲،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[15] الجرح والتعديل:۸/۲۵۴،رقم:۱۱۵۷،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[16] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۴۰،رقم:۵۸۰،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[17] انظر لسان الميزان:۸/۲۳۶،رقم:۸۰۶۲،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى1423هـ .
[18] الضعفاء الكبير:۴/۲۶۳رقم:۱۸۶۸،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[19] المجروحين:3/11،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[20] الكامل في ضعفاء الرجال:8/181،رقم:1908،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[21] انظر الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:3/152،رقم:3482،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[22] انظرتاريخ بغداد:۱۳/۲۲۴،رقم:۷۱۹۳،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[23] انظرتاريخ بغداد:8/356،رقم:4459،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1425هـ .
[24] المدخل إلى الصحيح:ص:۲۱۱،رقم:۱۹۸،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[25] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۲۴۰،رقم:۸۲ ،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[26] الإكمال في رفع الارتياب:2/11،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .
[27] ذخيرة الحفاظ:ص:۲۲۸۷،رقم:۵۳۱۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .
[28] ديوان الضعفاء:ص:۴۰۵،رقم:۴۳۲۱،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثةـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[29] المغني في الضعفاء:۲/4۴6،رقم:۶۵۵۴،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[30]تاریخ الإسلام:۴/۱۲۲۲،رقم:۳۲۷،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[31] انظر لسان الميزان:۸/۲۳۷،رقم:۸۰۶۲،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت، الطبعة الأولى1423هـ .
[32] الإصابة في تمييز الصحابة:7/206،رقم:10181،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[33] المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة:3/124،رقم:245،ت:ناصر بن محمد بن عبد العزيز العبد الله،دار العاصمة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[34] المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة:۱۱/۴۶۸،رقم:۲۵۸۴،ت:سمير بن سليمان بن عبد الله العمران،دار العاصمة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[35] الزيادات على الموضوعات:ص:۳۴۷،رقم:۴۰۷،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[36] الزيادات على الموضوعات:ص:۷۵۹،رقم:۹۴۵،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[37] تنزيه الشريعة:1/1۲۱،رقم:۳۹۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .