التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابراہیم بن عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی

ایک روایت میں تذکرہ

ابراہیم بن عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

اس روایت کی تحقیق سے

روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من طلب ما عند الله كانت السماء ظلا له، والأرض فراشه، لم يهتم بشيء من أمر الدنيا، فهو لا يزرع الزرع وهو يأكل الخبز، وهو لا يغرس الشجر ويأكل الثمار، توكلا على الله تعالى وطلبا لمرضاته، فضمن الله السماوات السبع والأرضين السبع رزقه، فهم يتعبون فيه، ويأتون به حلالا، ويستوفي هو رزقه بغير حساب عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين‘‘. جو شخص اس چیز کی طلب میں لگ جائے جو اللہ تعالی شانہ کے پاس ہے، آسمان اس کا سایہ ہو، زمین اس کا بسترہ ہو، دنیا کی کسی چیز کی اس کو فکر نہ ہو، تو ایسا شخص بغیر کھیتی کئے روٹی کھائے گا، بغیر باغ لگائے پھل کھائے گا، اللہ تعالی پر اس کا توکل ہو اور اس کی رضا کی جستجو میں لگا رہتا ہو، اللہ جل شانہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کو اس کی روزی کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں، وہ سب کے سب اس کو روزی پہنچانے کےلئے کوشاں رہتے ہیں، وہ اس کو حلال روزی پہنچاتے ہیں، اور وہ اللہ تعالی کے ہاں بغیر حساب کے اپنی روزی پوری کر لیتا ہے، حتی کہ اسے موت آجاتی ہے‘‘۔

غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)

سند میں موجود راوی ابراہیم بن عمرو بن بکر بن تمیم سَکْسَکِی شامی  کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[26] میں ابراہیم بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن أبيه الأشياء الموضوعة التي لا تعرف من حديث أبيه، وأبوه أيضا لا شيء، فلست أدري أهو الجافي [ كذا في الأصل، والصحيح: الجاني] على أبيه، أو أبوه الذي كان يخصه بهذه الموضوعات‘‘. یہ اپنے والد سے ایسی من گھڑت اشیاء روایت کرتا ہے جو اس کے والد کی حدیث سے معروف نہیں ہوتیں، اور اس کا والد بھی ’’لاشیء‘‘ہے، سو مجھے معلوم نہیں کہ یہ اپنے والد پر جنایت کا مرتکب ہے، یا اس ابراہیم کو اس کے والد عمرو نے ان من گھڑت احادیث کے ساتھ خاص کر رکھا ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[27] میں، حافظ سمعانی l نے ’’الأنساب‘‘[28] میں اور علامہ  ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[29] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ دار قطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[30] میں ابراہیم بن عمرو کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[31] میں اور علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[32] میں حافظ ابن حبان l اور حافظ دار قطنی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[33] میں زیر بحث روایت کے تحت ابراہیم بن عمرو کو ’’هالك‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’النكت‘‘[34]  میں ابراہیم بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وإبراهيم متهم بالوضع‘‘. اور ابراہیم حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

حوالہ جات

[26] المجروحين من المحدثين:۱/۱۰۹،رقم:24،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دارالصميعي ـ الرياض، الطبعة الثالثة۱۴۳۳هـ .

[27] تذكرة الحفاظ:ص:۴۳۴،رقم:۱۱۳۴،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[28] الأنساب:۷/۱۶۱،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱397هـ .

[29] تنزيه الشريعة:۱/۲۳،رقم:۴۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[30]  الضعفاء والمتروكون:ص:106،رقم:19،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مکتبة المعارف ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[31] الضعفاء والمتروكين:1/۴۵،رقم:۹۶،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[32] الكشف الحثيث:ص:۳۷،رقم:۱۵،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[33] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۳۰۲،رقم:۸۲۸ ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .

[34] النكت على كتاب ابن الصلاح:ص:174،ت:مسعود عبد الحميد السعدني،محمد فارس،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثالثة2009ء .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ