اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’السواك يزيد الرجل فصاحة‘‘. مسواک انسان کی فصاحت میں اضافہ کرتی ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی معلی بن میمون مجاشعی ویقال خصّاف بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام ابو داؤدl نے معلی بن میمون کو ’’منكر الحديث‘‘کہا ہے[30]۔
امام نسائی l نے معلی بن میمون کو ’’متروك‘‘کہا ہے[31]۔
حافظ ذہبی l نے ’’المغنی‘‘[32] میں امام نسائی lکے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[33] میں معلی بن میمون کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث لا يتابع على حديثه، ولا يعرف إلا به‘‘. منکر الحدیث ہے، اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی، اور اس کی معرفت اسی سے ہوتی ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے معلی بن میمون کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[34]۔
حافظ ابن حبانl ’’الثقات‘‘[35] میں معلی بن میمون کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’يخطئ إذا حدث من حفظه‘‘. جب یہ اپنے حفظ سے حدیث بیان کرتا ہے تو خطا کرتا ہے۔
حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[36] میں معلی بن میمون کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولمعلى بن ميمون غير ما ذكرت من الأحاديث، والذي ذكرته والذي لم أذكره كلها غير محفوظة مناكير، ولعل الذي لم أذكره أنكر من الذي ذكرته، ولم أر للمتقدمين فيه كلاما إلا أن أحاديثه رأيتها غير محفوظة، فشرطت في أول الكتاب أن أذكر كل من هو بصورته‘‘.
معلی بن میمون کی جو احادیث میں نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ اور احادیث بھی ہیں، اور وہ احادیث جو میں نے ذکر کی ہیں اور وہ (احادیث) جو میں نے ذکر نہیں کی وہ سب غیر محفوظ مناکیر ہیں، اور شاید وہ (احادیث) جو میں نے ذکر نہیں کی وہ احادیث زیادہ منکر ہیں ان سے جو میں نے ذکر کی ہیں، اور میں نے اس راوی کے بارے میں متقدمین کا کوئی کلام نہیں پایا، تاہم میں نے اس کی احادیث کو غیر محفوظ پایا ہے، اور میں نے کتاب کے شروع میں شرط لگائی تھی کہ میں ہر اس شخص کا ذکر کروں گا جو اس جیسا ہو۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[37] میں حافظ ابن عدی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
امام دار قطنیl نے اپنی ’’سنن‘‘[38] میں زیر بحث روایت کی تخریج کرنے کے بعد معلی بن میمون کو ’’ضعيف، متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’دیوان الضعفاء‘‘[39] میں امام دار قطنیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’میزان الاعتدال‘‘[40] میں عمر بن داؤد کے ترجمہ میں معلی بن میمون کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص العلل‘‘[41] میں معلی بن میمون کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ عراقی l نے ’’ذيل میزان‘‘[42] میں سنان بن ابی سنان کے ترجمہ میں زیر بحث روایت کے تحت معلی بن میمون کو ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[43] میں ایک حدیث کے تحت معلی بن میمون کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[30] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:282،رقم:399،ت:محمد علي قاسم العمري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة.
[31] انظر ميزان الاعتدال:4/152،رقم:۸۶۷۸،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[32] المغني في الضعفاء:۲/421،رقم:۶۳۶2،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[33] الضعفاء الكبير:۴/۲۱۶،رقم:۱۸۰۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .
[34] الجرح التعديل:8/335،رقم:۱۵۴۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[35] الثقات:۷/۴۹۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1393هـ .
[36] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/۹9،رقم:۱۸۵۳،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[37] ذخيرة الحفاظ:۲/۶۲۲،رقم:۱۰۵۶،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴16هـ .
[38] سنن الدار قطني:1/92،رقم:160،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[39] ديوان الضعفاء والمتروكين:ص:3۹۴،رقم:۴۱۹۹،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .
[40] ميزان الاعتدال:۳/۱۹۳،رقم:۶۰۹۶،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[41] تلخيص العلل المتناهية:1/501،رقم:۲۷6،ت:أبي عبيد محفوظ الرحمن زين الله،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة1400هـ .
[42] ذیل میزان الاعتدال:ص:121،رقم:434ت:أبو رضا الرفاعي،دار الكتب العلمية ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴16هـ .
[43] مجمع الزوائد:1/237،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .