التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

فقیہ ابو مروان عبد الملک بن حبیب بن سلیمان عباسی اندلسی سلمی مالکی

المتوفی ۲۳۸ ھایک روایت میں تذکرہ

فقیہ ابو مروان عبد الملک بن حبیب بن سلیمان عباسی اندلسی سلمی مالکی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

فقیہ ابو مروان عبد الملک بن حبیب بن سلیمان عباسی اندلسی سلمی مالکی (المتوفی ۲۳۸ ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو بکر بن شیبہl فرماتے ہیں: ’’ضعفه غير واحد، وبعضهم اتهمه بالكذب، وفي تاريخ أحمد بن سعيد بن حزم الصدفي توهينه، فإنه كان صحفيا، لا يدري ما الحديث. قلت: هذا القول أعدل ما قيل فيه، فلعله كان يحدث من كتب غيره فيغلط‘‘[238]. ایک سے زائد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور بعض نے اسے متہم بالکذب کہا ہے، اور احمد بن سعید بن حزم کی ’’تاریخ‘‘ میں اس کی تصحیف ہے، اس لئے کہ یہ صحفی ہے، یہ نہیں جانتا کہ حدیث کیا ہے، میں (حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں) کہتا ہوں: عبد الملک کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں یہ قول سب سے زیادہ اعتدال پر مبنی ہے، شاید یہ دوسروں کی کتب سے حدیث بیان کرتا تھا جس کی وجہ سے اس سے غلطی ہوتی تھی۔

علامہ ابو عمر احمد بن سعید صدفی l فرماتے ہیں: ’’قلت لأحمد بن خالد: إن (الواضحة) عجيبة جدا، وإن فيها علما عظيما فما يدخلها؟ قال: أول ذلك أنه حكى فيها مذاهب لم نجدها لأحد من أصحابه، ولا نقلت عنهم، قال أبو عمر الصدفي في (تاريخه) :كان كثير الرواية، كثير الجمع، يعتمد على الأخذ بالحديث، ولم يكن يميزه، ولا يعرف الرجال، وكان فقيها في المسائل، قال: وكان يطعن عليه بكثرة الكتب، وذكر أنه كان يستجيز الأخذ بلا رواية ولا مقابلة، وأنه أخذ بالإجازة كثيرا، قال: وأشير إليه بالكذب، سمعت أحمد بن خالد يطعن عليه بذلك، ويتنقصه غير مرة. وقال: ظهر كذبه في (الواضحة) في غير شيء‘‘[239].

میں نےاحمد بن خالد سے کہا: بلاشبہ ’’الواضحہ‘‘ (نامی کتاب) بہت ہی عجیب ہے، اس میں بہت زیادہ علم ہے، یہ کہاں سے آیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی بات یہ ہے کہ اس میں ایسے مذاہب حکایت ہیں جنہیں ہمارے اصحاب میں سے کوئی نہیں پاتا، اور نہ ہی یہ ان سے منقول ہیں، ابو عمر صدفی اپنی ’’تاریخ‘‘میں فرماتے ہیں: یہ کثرت سے روایت کرنے والا، بہت زیادہ (روایات) جمع کرنے والا ہے، حدیث لینے پر اعتماد کرتا ہے، لیکن حدیث میں تمییز نہیں کر سکتا، اور نہ ہی رجال کو جانتا ہے، یہ مسائل میں فقیہ تھا، (ابو عمر صدفی) فرماتے ہیں: کثرتِ کتب کی وجہ سے اس پر طعن کیا گیا ہے، اور ذکر کیا گیا ہے کہ یہ بغیر روایت اور بغیر مقابلہ کے اجازتِ حدیث لیتا تھا، اور اس نے بہت کچھ اجازت کے ساتھ لیا ہے،  (ابو عمر صدفی مزید) فرماتے ہیں:اور اس کی طرف جھوٹ کا اشارہ کیا گیا ہے، اور اسی وجہ سے میں نے احمد بن خالد کو اس پر طعن کرتے ہوئے سنا ہے، اور کئی دفعہ انہوں نے اس کی تنقیص کی ہے، اور فرمایا: اس کا جھوٹ ’’واضحہ‘‘میں متعدد چیزوں میں ظاہر ہوا ہے۔

حافظ ابو الولید عبد اللہ بن محمد بن یوسف ازدی المعروف ابن الفرضی l اپنی ’’تاريخ‘‘[240] میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن لعبد الملك بن حبيب علم بالحديث، ولا كان يعرف صحيحه من سقيمه، وذكر عنه أنه كان يتساهل، ويحمل على سبيل الإجازة أكثر روايته‘‘. عبد الملک بن حبیب کو حدیث کا علم نہیں تھا، اور نہ ہی یہ صحیح سقیم کو پہچانتا تھا، اور اس کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ متساہل تھا، اور اپنی اکثر روایتوں کا تحمل بطریق اجازت کرتا تھا۔

علامہ احمد بن محمد بن عبد البر l فرماتے ہیں: ’’ابن حبيب أول من أظهر الحديث بالأندلس، وكان لا يفهم طرقه، ويصحف الأسماء، ويحتج بالمناكير، فكان أهل زمانه ينسبونه إلى الكذب، ولا يرضونه‘‘[241]. ابن حبیب سب سے پہلا شخص ہے جس نے اندلس میں حدیث کا اظہار کیا ہے، اور یہ حدیث کے طرق کو نہیں پہچانتا تھا، اور اسماء میں تصحیف کرتا تھا، اور مناکیر سے احتجاج کرتا تھا، اس کے ہم زمانہ اسے جھوٹ کی طرف منسوب کرتے تھے، اور وہ اس سے راضی نہیں تھے۔

حافظ ابن حزم اندلسیl نے ’’المحلى بالآثار‘‘میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب اندلسی کو ’’هالك‘‘[242] اور ایک دوسرے مقام پر ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[243]۔

حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l ’’بيان الوهم‘‘[244]میں فرماتے ہیں: ’’متحقق بحفظ مذهب مالك ونصرته والذب عنه، لقي الكبار من أصحابه، ولم يهد في الحديث لرشد، ولا حصل منه على شيخ مفلح، وقد اتهموه في سماعه من أسد بن موسى، وادعى هو الإجازة، ويقال: إن أسدا أنكر أن يكون أجازه‘‘. مذہب مالک کا یاد ہونا، اس کی نصرت کرنا اور اس کا دفاع کرنا عبد الملک میں موجود تھا، وہ مالک l کے بڑے بڑے اصحاب سے ملا ہے، تاہم اسے حدیث میں کوئی رہنمائی نہیں مل سکی، اور نہ ہی اسے کوئی ایسا شیخ مل سکا ہے جو اسے مقصود تک پہنچا دے، اور محدثین نے اسے اسد بن موسی سے سماعت میں متہم قرار دیا ہے، اور یہ اس میں اجازت کا دعوی کرتا تھا، اور کہا جاتا ہے کہ اسد نے اس کا انکار کردیا تھا کہ انہوں نے عبد الملک کو اجازت دی ہے۔

نیز حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l نے ’’بيان الوهم‘‘[245] میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’ميزان‘‘[246] میں فرماتے ہیں: ’’أحد الأئمة، ومصنف الواضحة، كثير الوهم، صحفي‘‘. ائمہ میں سے ایک ہے، اور ’’الواضحہ‘‘ کا مصنف ہے، اسے وہم بہت زیادہ ہوتا تھا، یہ صحفی ہے۔

حافظ ذہبیl ’’سير أعلام النبلاء‘‘[247] میں فرماتے ہیں: ’’ كان موصوفا بالحذق في الفقه، كبير الشأن، بعيد الصيت، كثير التصانيف، إلا أنه في باب الرواية ليس بمتقن، بل يحمل الحديث تهورا كيف اتفق، وينقله وجادة وإجازة، ولا يتعانى تحرير أصحاب الحديث‘‘. یہ  فقہ میں ماہر تھا، بڑی شان والا تھا، انتہائی شہرت تھی، بہت زیادہ تصانیف والا تھا، مگر یہ کہ روایت کے باب میں یہ متقن نہیں تھا، بلکہ یہ لاپرواہی سے جو حدیث ملے اسے لے لیتا تھا، اور یہ حدیث کو وجادہ اور اجازت کے طریقہ پر نقل کرتا تھا، اور اس کی اصحابِ حدیث کی تحریر کی مشغولیت نہیں تھی۔

نیز حافظ ذہبی l ’’ذيل ديوان الضعفاء‘‘[248] میں فرماتے ہیں:  ’’وهاه ابن حزم وغيره، قلت: ابن حزم مشدد، لا يقبل قدحه‘‘. ابن حزم وغیرہ نے اسے واہی قرار دیا ہے، میں کہتا ہوں: ابن حزم متشدد ہیں، ان کی جرح قبول نہیں کی جائے گی۔

حافظ ابن ملقنl نے ’’البدر المنیر‘‘[249] میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[250] میں فرماتے ہیں:  ’’صدوق، ضعيف الحفظ، كثير الغلط‘‘. یہ صدوق ہے، ضعیف الحفظ ہے، کثیر الغلط ہے۔

نیز حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’تلخیص الحبیر‘‘[251]  میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب کو ’’شديد الضعف‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’تلخیص الحبیر‘‘[252]  میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعبد الملك متهم بسرقة الأحاديث، وتخليط الأسانيد، قاله ابن الفرضي‘‘. ابن فرضی کے بیان کے مطابق عبد الملک سرقۂ حدیث اور اسانید کو خلط کرنے میں متہم ہے۔

حوالہ جات

[238] انظر تهذيب التهذيب:6/391،رقم:736،مطبعة دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة1326هـ .

[239] سير أعلام النبلاء:12/10۵ ،رقم:32.،ت:صالح السمر،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .

[240] تاريخ العلماء والرواة للعلم بالأندلس:1/313،رقم:816 ،ت:السيد عزت العطار الحسيني،مطبعة المدني ـ القاهرة،الطبعة الثانية۱۴08هـ .

[241] سير أعلام النبلاء:12/10۶ ،رقم:32.،ت:صالح السمر،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .

[242] المحلى بالآثار:7/۵۹،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[243] انظر ميزان الاعتدال:۲/۶۵۲،رقم:۵۱۹۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[244] بيان الوهم والايهام:5/634،رقم:16،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[245] بيان الوهم والايهام:۲/۳34،رقم:۳۳۱،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[246] ميزان الاعتدال:۲/۶۵۳،رقم:۵۱۹۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[247] سير أعلام النبلاء:12/103 ،رقم:32.،ت:صالح السمر،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .

[248] ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين:ص:۴4،رقم:۲۳۶،ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة .

[249] البدر المنير:۶/۵۵۴،ت:أحمد بن سليمان بن أيوب،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى1425هـ .

[250]  تقريب التهذيب:ص:362،رقم:4174،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .

[251] تلخيص الحبير:۱/۱۲۸،ت:أبو عاصم حسن بن عباس بن قطب،مؤسسة قرطبة ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1416هـ .

[252] تلخيص الحبير:۲/۷۰،رقم:570،ت:أبو عاصم حسن بن عباس بن قطب،مؤسسة قرطبة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1416هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

فقیہ ابو مروان عبد الملک بن حبیب بن سلیمان عباسی اندلسی سلمی مالکی (المتوفی ۲۳۸ ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو بکر بن شیبہl فرماتے ہیں: ’’ضعفه غير واحد، وبعضهم اتهمه بالكذب، وفي تاريخ أحمد بن سعيد بن حزم الصدفي توهينه، فإنه كان صحفيا، لا يدري ما الحديث. قلت: هذا القول أعدل ما قيل فيه، فلعله كان يحدث من كتب غيره فيغلط‘‘[196]. ایک سے زائد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور بعض نے اسے متہم بالکذب کہا ہے، اور احمد بن سعید بن حزم کی ’’تاریخ‘‘ میں اس کی تصحیف ہے، اس لئے کہ یہ صحفی ہے، یہ نہیں جانتا کہ حدیث کیا ہے، میں (حافظ ابن حجر عسقلانی l) کہتا ہوں: عبد الملک کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں یہ قول سب سے زیادہ اعتدال پر مبنی ہے، شاید یہ دوسروں کی کتب سے حدیث بیان کرتا تھا جس کی وجہ سے اس سے غلطی ہوتی تھی۔

علامہ ابو عمر احمد بن سعید صدفی l فرماتے ہیں: ’’قلت لأحمد بن خالد: إن (الواضحة) عجيبة جدا، وإن فيها علما عظيما فما يدخلها؟ قال: أول ذلك أنه حكى فيها مذاهب لم نجدها لأحد من أصحابه، ولا نقلت عنهم، قال أبو عمر الصدفي في (تاريخه): كان كثير الرواية، كثير الجمع، يعتمد على الأخذ بالحديث، ولم يكن يميزه، ولا يعرف الرجال، وكان فقيها في المسائل، قال: وكان يطعن عليه بكثرة الكتب، وذكر أنه كان يستجيز الأخذ بلا رواية ولا مقابلة، وأنه أخذ بالإجازة كثيرا، قال: وأشير إليه بالكذب، سمعت أحمد بن خالد يطعن عليه بذلك، ويتنقصه غير مرة، وقال: ظهر كذبه في (الواضحة) في غير شيء‘‘[197].

میں نےاحمد بن خالد سے کہا: بلاشبہ ’’الواضحہ‘‘ (نامی کتاب) بہت ہی عجیب ہے، اس میں بہت زیادہ علم ہے، یہ کہاں سے آیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی بات یہ ہے کہ اس میں ایسے مذاہب حکایت ہیں جنہیں ہمارے اصحاب میں سے کوئی نہیں پاتا، اور نہ ہی یہ ان سے منقول ہیں، ابو عمر صدفی اپنی ’’تاریخ‘‘میں فرماتے ہیں: یہ کثرت سے روایت کرنے والا، بہت زیادہ (روایات) جمع کرنے والا ہے، حدیث لینے پر اعتماد کرتا ہے، لیکن حدیث میں تمییز نہیں کر سکتا، اور نہ ہی رجال کو جانتا ہے، یہ مسائل میں فقیہ تھا، (ابو عمر صدفی) فرماتے ہیں: کثرتِ کتب کی وجہ سے اس پر طعن کیا گیا ہے، اور ذکر کیا گیا ہے کہ یہ بغیر روایت اور بغیر مقابلہ کے اجازتِ حدیث لیتا تھا، اور اس نے بہت کچھ اجازت کے ساتھ لیا ہے،  (ابو عمر صدفی مزید) فرماتے ہیں:اور اس کی طرف جھوٹ کا اشارہ کیا گیا ہے، اور اسی وجہ سے میں نے احمد بن خالد کو اس پر طعن کرتے ہوئے سنا ہے، اور کئی دفعہ انہوں نے اس کی تنقیص کی ہے، اور فرمایا: اس کا جھوٹ ’’واضحہ‘‘میں متعدد چیزوں میں ظاہر ہوا ہے۔

حافظ ابو الولید عبد اللہ بن محمد بن یوسف ازدی بالمعروف ابن الفرضی l اپنی ’’تاريخ‘‘[198] میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن لعبد الملك بن حبيب علم بالحديث، ولا كان يعرف صحيحه من سقيمه، وذكر عنه أنه كان يتساهل، ويحمل على سبيل الإجازة أكثر روايته‘‘. عبد الملک بن حبیب کو حدیث کا علم نہیں تھا، اور نہ ہی یہ صحیح سقیم کو پہچانتا تھا، اور اس کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ متساہل تھا، اور اپنی اکثر روایتوں کا تحمل بطریق اجازت کرتا تھا۔

علامہ احمد بن محمد بن عبد البر l فرماتے ہیں: ’’ابن حبيب أول من أظهر الحديث بالأندلس، وكان لا يفهم طرقه، ويصحف الأسماء، ويحتج بالمناكير، فكان أهل زمانه ينسبونه إلى الكذب، ولا يرضونه‘‘[199]. ابن حبیب سب سے پہلا شخص ہے جس نے اندلس میں حدیث کا اظہار کیا ہے، اور یہ حدیث کے طرق کو نہیں پہچانتا تھا، اور اسماء میں تصحیف کرتا تھا، اور مناکیر سے احتجاج کرتا تھا، اس کے ہم زمانہ اسے جھوٹ کی طرف منسوب کرتے تھے، اور وہ اس سے راضی نہیں تھے۔

حافظ ابن حزم اندلسیl نے ’’المحلى بالآثار‘‘میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب اندلسی کو ’’هالك‘‘[200] اور ایک دوسرے مقام پر ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[201]۔

حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l ’’بيان الوهم‘‘[202]میں فرماتے ہیں: ’’متحقق بحفظ مذهب مالك ونصرته والذب عنه، لقي الكبار من أصحابه، ولم يهد في الحديث لرشد، ولا حصل منه على شيخ مفلح، وقد اتهموه في سماعه من أسد بن موسى، وادعى هو الإجازة، ويقال: إن أسدا أنكر أن يكون أجازه‘‘. مذہب مالک کا یاد ہونا، اس کی نصرت کرنا اور اس کا دفاع کرنا عبد الملک میں موجود تھا، وہ مالک l کے بڑے بڑے اصحاب سے ملا ہے، تاہم اسے حدیث میں کوئی رہنمائی نہیں مل سکی، اور نہ ہی اسے کوئی ایسا شیخ مل سکا ہے جو اسے مقصود تک پہنچا دے، اور محدثین نے اسے اسد بن موسی سے سماعت میں متہم قرار دیا ہے، اور یہ اس میں اجازت کا دعوی کرتا تھا، اور کہا جاتا ہے کہ اسد نے اس کا انکار کردیا تھا کہ انہوں نے عبد الملک کو اجازت دی ہے۔

نیز حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l نے ’’بيان الوهم‘‘[203] میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’ميزان‘‘[204] میں فرماتے ہیں: ’’أحد الائمة، ومصنف الواضحة، كثير الوهم، صحفي‘‘. ائمہ میں سے ایک ہے، اور ’’الواضحہ‘‘ کا مصنف ہے، اسے وہم بہت زیادہ ہوتا تھا، یہ صحفی ہے۔

حافظ ذہبیl ’’سير أعلام النبلاء‘‘[205] میں فرماتے ہیں: ’’ كان موصوفا بالحذق في الفقه، كبير الشأن، بعيد الصيت، كثير التصانيف، إلا أنه في باب الرواية ليس بمتقن، بل يحمل الحديث تهورا كيف اتفق، وينقله وجادة وإجازة، ولا يتعانى تحرير أصحاب الحديث‘‘. یہ  فقہ میں ماہر تھا، بڑی شان والا تھا، انتہائی شہرت تھی، بہت زیادہ تصانیف والا تھا، مگر یہ کہ روایت کے باب میں یہ متقن نہیں تھا، بلکہ یہ لاپرواہی سے جو حدیث ملے اسے لے لیتا تھا، اور یہ حدیث کو وجادہ اور اجازت کے طریقہ پر نقل کرتا تھا، اور اس کی اصحابِ حدیث کی تحریر کی مشغولیت نہیں تھی۔

نیز حافظ ذہبی l ’’ذيل ديوان الضعفاء‘‘[206] میں فرماتے ہیں:  ’’وهاه ابن حزم وغيره، قلت: ابن حزم مشدد، لا يقبل قدحه‘‘. ابن حزم وغیرہ نے اسے واہی قرار دیا ہے، میں کہتا ہوں: ابن حزم متشدد ہیں، ان کی جرح قبول نہیں کی جائے گی۔

حافظ ابن ملقنl نے ’’البدر المنیر‘‘[207] میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[208] میں فرماتے ہیں:  ’’صدوق، ضعيف الحفظ، كثير الغلط‘‘. یہ صدوق ہے، ضعیف الحفظ ہے، کثیر الغلط ہے۔

نیز حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’تلخیص الحبیر‘‘[209]  میں ایک روایت کے تحت عبد الملک بن حبیب کو ’’شديد الضعف‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’تلخیص الحبیر‘‘[210]  میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعبد الملك متهم بسرقة الأحاديث، وتخليط الأسانيد، قاله ابن الفرضي‘‘. ابن فرضی کے بیان کے مطابق عبد الملک سرقۂ حدیث اور اسانید کو خلط کرنے میں متہم ہے۔

حوالہ جات

[196] انظر تهذيب التهذيب:6/391،رقم:736،مطبعة دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة1326هـ .

[197] سير أعلام النبلاء:12/10۵ ،رقم:32.،ت:صالح السمر،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .

[198] تاريخ العلماء والرواة للعلم بالأندلس:1/313،رقم:816 ،ت:السيد عزت العطار الحسيني،مطبعة المدني ـ القاهرة،الطبعة الثانية۱۴08هـ .

[199] سير أعلام النبلاء:12/10۶ ،رقم:32.،ت:صالح السمر،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .

[200] المحلى بالآثار:7/۵۹،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .

[201] انظر ميزان الاعتدال:۲/۶۵۲،رقم:۵۱۹۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[202] بيان الوهم والايهام:5/634،رقم:16،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[203] بيان الوهم والايهام:۲/۳34،رقم:۳۳۱،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[204] ميزان الاعتدال:۲/۶۵۳،رقم:۵۱۹۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[205] سير أعلام النبلاء:12/103 ،رقم:32.،ت:صالح السمر،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴02هـ .

[206] ذيل ديوان الضعفاء والمتروكين:ص:۴4،رقم:۲۳۶،ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ المكة المكرمة .

[207] البدر المنير:۶/۵۵۴،ت:أحمد بن سليمان بن أيوب،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى1425هـ .

[208]  تقريب التهذيب:ص:362،رقم:4174،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .

[209] تلخيص الحبير:۱/۱۲۸،ت:أبو عاصم حسن بن عباس بن قطب،مؤسسة قرطبة ـ القاهرة،الطبعة الأولى 1416هـ .

[210] تلخيص الحبير:۲/۷۰،رقم:570،ت:أبو عاصم حسن بن عباس بن قطب،مؤسسة قرطبة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1416هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ