اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ میری امت کے مال دار لوگ سیر وتفریح کےلئے حج کو جائیں گے، اور متوسط لوگ تجارت کےلئے جائیں گے، اور علماء دکھاوے اور شہرت کےلئے جائیں گے، اور فقراء سوال کےلئے جائیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو معاذ سلیمان بن ارقم بصری (المتوفی ما بین ۱۸1– ۱۹۰ھ [72])کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ليس يسوي فلسا‘‘[73]. ایک پیسہ کے برابر نہیں ہے۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر اسے ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[74]۔
امام احمد بن حنبلl ’’العلل‘‘[75] میں فرماتے ہیں: ’’وسليمان لا يسوي شيئا، لا يروي عنه الحديث‘‘. اور سلیمان کسی شیء کے برابر نہیں ہے، اس سے روایت نہ کی جائے۔
امام احمد بن حنبلl نے ایک دوسرے مقام پر سلیمان بن ارقم کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[76]۔
حافظ عمرو بن علی فلاس l ، سلیمان بن ارقم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ويكنى بأبي معاذ، ليس بثقة، روى أحاديث منكرة، وقال: قال محمد بن عبد الله الأنصاري: كانوا ينهونا عنه، ونحن شباب، وذكر أمرا عظيما‘‘[77]. اس کی کنیت ابو معاذ ہے، ثقہ نہیں ہے، اس نے منکر احادیث روایت کی ہیں، اور (حافظ عمرو بن علی فلاس l مزید)فرماتے ہیں کہ محمد بن عبد اللہ انصاری نے فرمایا: لوگ ہمیں اس سے منع کرتے تھے، جب ہم جوان تھے، اور انہوں نے بہت بڑی بات ذکر کی۔
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[78]،’’التاريخ الصغير‘‘[79] اور ’’الضعفاء الصغير‘‘[80] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اس کو ترک کیا ہے۔
امام بخاری l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’وسليمان بن أرقم متروك، ذاهب الحديث‘‘[81]. اور سلیمان بن ارقم متروک، ذاہب الحدیث ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب سعدی l نے ’’ أحوال الرجال‘‘[82] میں سلیمان بن ارقم کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔
امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[83] میں سلیمان بن ارقم کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو زرعہl نے سلیمان بن ارقم کو ’’ضعيف الحديث، ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[84]۔
امام ابو داؤد l ، سلیمان بن ارقم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ متروك الحديث، قلت لأحمد: روى سليمان بن أرقم، عن الزهري، عن أنس في التلبية، فقال: لا تبالي، روى أو لم يرو‘‘[85]. متروک الحدیث ہے، میں نے احمد l سے کہا: سلیمان بن ارقم نے زہری، عن انس r کے طریق سے ’’تلبیہ‘‘ کے متعلق روایت کی ہے، تو احمد l نے فرمایا: پروا مت کرو، اس نے روایت کی ہے، یا نہیں کی۔
حافظ یعقوب فَسَوی l نے ’’المعرفة والتاريخ‘‘[86] میں سلیمان بن ارقم کو ’’باب من یرغب عن الروایۃ عنہم‘‘(باب ان لوگوں کے بارے میں جن کی روایت سے اعراض کیا جاتا ہے) میں شمار کیا ہے۔
حافظ ابو حاتمl نے سلیمان بن ارقم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[87]۔
امام نسائی l نے ’’المجتبى‘‘[88] میں سلیمان بن ارقم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجی l نے سلیمان بن ارقم کو ’’ضعيف الحديث جدا‘‘ کہا ہے[89]۔
امام طحاویl ’’شرح مشكل الآثار‘‘[90] میں فرماتے ہیں: ’’وسليمان بن أرقم، فليس ممن يقبل أهل الإسناد حديثه‘‘. اور سلیمان بن ارقم اُن اہلِ اسناد میں سے نہیں ہے جن کی حدیث قبول کی جاتی ہے۔
نیز امام طحاویl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وسليمان بن أرقم ضعيف الرواية، ساقط عند أهل الحديث‘‘[91]. اور سلیمان بن ارقم ضعیف الروایہ ہے، محدثین کے ہاں ساقط ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[92] میں سلیمان بن ارقم بصری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يقلب الأخبار، ويروي عن الثقات الموضوعات‘‘[93]. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اخبار میں قلب کرتے ہیں، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتے ہیں۔
حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[94]میں سلیمان بن ارقم کے ترجمہ میں چند روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولسليمان بن أرقم غير ما ذكرت من الحديث أحاديث صالحة، وعامة ما يرويه لا يتابع عليه‘‘. اور سلیمان بن ارقم کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی صالح احادیث ہیں، اور یہ جو روایت کرتا ہے اس میں اکثر اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ ابن عدیl نے ’’الکامل‘‘[95]میں ایک دوسرے مقام پر سلیمان بن ارقم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو احمد حاکم l نے سلیمان بن ارقم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[96]۔
امام دار قطنیl نے اپنی ’’سنن‘‘[97] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ارقم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حزم اندلسیl ’’المحلى‘‘[98] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وسليمان بن أرقم مذكور بالكذب‘‘. اور سلیمان بن ارقم کا تذکرہ جھوٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔
امام بیہقی l اپنی ’’سنن‘‘[99]میں سلیمان بن ارقم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، لا يحتج به‘‘. متروک الحدیث ہے، اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
حافظ ابن عبد البر l نے ’’الاستذكار‘‘[100] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ارقم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[101] میں سلیمان بن ارقم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ عبد الحق اشبیلیl نے’’الأحكام الوسطى‘‘[102]میں سلیمان بن ارقم کو ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔
حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l نے ’’بيان الوهم‘‘[103] میں سلیمان بن ارقم کو ایک حدیث کے تحت ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے سلیمان بن ارقم کو’’الكاشف‘‘[104] میں ’’متروك‘‘، ’’المغني‘‘[105] میں ’’واهي الحديث‘‘،’’المقتنى‘‘[106] میں ’’واه‘‘ اور ’’تلخيص الموضوعات‘‘[107] میں ایک روایت کے تحت ’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن کثیرl نے ’’البداية‘‘[108] میں سلیمان بن ارقم کو ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘[109] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ارقم کو ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
حافظ ا بن حجرعسقلانی l نے ’’تلخيص الحبير‘‘[110] میں ایک روایت کے تحت سلیمان بن ارقم کو ’’متروک‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[72] امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘میں سلیمان بن ارقم کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 18۱ ھ سے 19۰ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/۱۷۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).
[73] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۳۸۱،رقم:۲۵۷۷،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[74] الكامل في ضعفاء الرجال:۴/2۲۸،رقم:۷۳۴،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[75] العلل ومعرفة الرجال:۲/۶۷،رقم:۱۵۷۰،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[76] انظر المجروحين:۱/۳۲۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[77] انظر الجرح والتعدیل:4/100،رقم:450 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[78] التاريخ الكبير:۴/۲۱،رقم:۴۶۵۰،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني 1429هـ .
[79] التاريخ الصغير:2/۱۸۰،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[80] الضعفاء الصغير:ص:۵۴،رقم:۱۴۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[81] انظر علل الترمذي الكبير:ص:251،رقم:451،ت:السيد صبحي السامرائي، السيد أبو المعاطي النوري ومحمود محمد خليل الصعيدي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى۱409هـ .
[82] أحوال الرجال:1/17۴،رقم:16۱،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان .
[83] الكنى والأسماء:ص:۷۷۶،رقم:۳۱۶۵،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[84] الجرح والتعدیل:4/10۱،رقم:450 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[85] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/۱۹۵،رقم:۱۵۷۸،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[86] المعرفة والتاريخ:3/3۵،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[87] الجرح والتعدیل:4/10۱،رقم:450 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[88] كتاب المجتبى المعروف بالسنن الصغرى:6/356،رقم:3873،دار التأصيل ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴33هـ .
[89] انظر إكمال تهذيب الكمال:۶/۳۷،رقم:۲۱۵۳،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[90] شرح مشكل الآثار:۵/۴۰۵،رقم:۲۱۵۹،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[91] مختصر اختلاف العلماء:۲/۴۳،ت:عبد الله نذير أحمد،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى141۶هـ .
[92] المجروحين:۱/۳۲۸،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[93] انظر علل الترمذي الكبير:ص:251،رقم:451،ت:السيد صبحي السامرائي، السيد أبو المعاطي النوري ومحمود محمد خليل الصعيدي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى۱409هـ .
[94] الكامل في ضعفاء الرجال:۴/2۳۸،رقم:۷۳۴،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[95] الكامل في ضعفاء الرجال:۶/۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[96] انظر إكمال تهذيب الكمال:۶/۳۷،رقم:۲۱۵۳،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[97] سنن الدار قطني:1/۲۸۳،رقم:۵۶۹،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .
[98] المحلى بالآثار:۶/۲۴۹،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى142۵هـ .
[99] السنن الكبرى للبيهقي:4/199،رقم:7409،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1424هـ .
[100] الاستذكار:۵/۱۸۵،رقم:983،ت:سالم محمد عطا ومحمد علي معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1423هـ .
[101] ذخيرة الحفاظ:ص:308،رقم:276،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[102] الأحكام الوسطى:1/۱43،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .
[103] بيان الوهم والايهام:۳/۵۶۰،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .
[104] الكاشف:۱/4۵۶،رقم:۲۰۶۸،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .
[105] المغني في الضعفاء:1/4۳۳،رقم:2۵۶۰،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[106] المقتنى في سرد الكنى:۲/۸۳،رقم:۵۸۲۹،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .
[107] تلخيص الموضوعات:ص:۳۴۶،رقم:۹۴۲،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[108] البدايةوالنهاية:۵/۳۰۰،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر للطباعة والنشر،الطبعة الأولى 1417هـ .
[109] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۳/۶۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[110] تلخيص الحبير:1/404،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1419هـ .