التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عبد اللہ مَخْلَد بن عبد الرحمن بن احمد بن بقی بن مخلد اندلسی

المتوفی 408ھایک روایت میں تذکرہ

ابو عبد اللہ مَخْلَد بن عبد الرحمن بن احمد بن بقی بن مخلد اندلسی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ مَخْلَد بن عبد الرحمن بن احمد بن بقی بن مخلد اندلسی (المتوفی 408ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ابن بشکوال l’’الصلة‘‘[11]میں فرماتے ہیں: ’’قال ابن حيان: وكان ثبتا صدوقا‘‘. ابن حیان l فرماتے ہیں کہ مخلد ثبت وصدوق تھا۔

چند سطروں کے بعد حافظ ابن بشکوال l نقل فرماتے ہیں: ’’وكان قد اختلط قبل موته بمدة، فترك الأخذ عنه‘‘[12]. ان کو اپنی موت سے ایک عرصہ پہلے ہی اختلاط ہوچکا تھا، چنانچہ ان سے لینے کو ترک کردیا گیا تھا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l  نے ’’ لسان‘‘[13] میں حافظ ابن بشکوال l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حوالہ جات

[11] الصلة:3/900،رقم:1383،ت:إبراهيم الأبياري،دار الكتاب المصري ـ القاهرة،الطبعة الأولى1410هـ .

[12] الصلة:3/900،رقم:1383،ت:إبراهيم الأبياري،دار الكتاب المصري ـ القاهرة،الطبعة الأولى1410هـ .

[13] لسان الميزان:8/15،رقم:7624،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ