اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ میری امت کے مال دار لوگ سیر وتفریح کےلئے حج کو جائیں گے، اور متوسط لوگ تجارت کےلئے جائیں گے، اور علماء دکھاوے اور شہرت کےلئے جائیں گے، اور فقراء سوال کےلئے جائیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ مَخْلَد بن عبد الرحمن بن احمد بن بقی بن مخلد اندلسی (المتوفی 408ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابن بشکوال l’’الصلة‘‘[11]میں فرماتے ہیں: ’’قال ابن حيان: وكان ثبتا صدوقا‘‘. ابن حیان l فرماتے ہیں کہ مخلد ثبت وصدوق تھا۔
چند سطروں کے بعد حافظ ابن بشکوال l نقل فرماتے ہیں: ’’وكان قد اختلط قبل موته بمدة، فترك الأخذ عنه‘‘[12]. ان کو اپنی موت سے ایک عرصہ پہلے ہی اختلاط ہوچکا تھا، چنانچہ ان سے لینے کو ترک کردیا گیا تھا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’ لسان‘‘[13] میں حافظ ابن بشکوال l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔