التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو مسلم سَلیم بن مسلم خَشَّاب مکی حَجَبِی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو مسلم سَلیم بن مسلم خَشَّاب مکی حَجَبِی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو مسلم سَلیم بن مسلم خَشَّاب مکی حَجَبِی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l سَلیم بن مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان جهميا خبيثا‘‘[113]. اور یہ جہمی خبیث تھا۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[114]۔

حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر سَلیم خَشَّاب کو  ’’كذاب‘‘ کہا ہے[115]۔

امام احمد بن حنبل l ’’العلل‘‘[116] میں فرماتے ہیں: ’’ليس يسوي حديثه شيئا، ليس بشيء‘‘. اس کی حدیث کسی چیز کے برابر نہیں ہے، یہ ’’لیس بشیء‘‘ ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے اسے ’’ضعيف الحديث، منكر الحديث‘‘ کہا ہے[117]۔

حافظ ابو زرعہ l نے اسے ’’ليس بقوي‘‘ کہا ہے[118]۔

امام نسائی l نے اسے ’’الضعفاء‘‘[119] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوِی l ’’المعرفة والتاريخ‘‘[120] میں فرماتے ہیں: ’’قد رأيته، لم يكن موضعا للحديث، ولا يكتب عنه، مرض مرضة فدخل عليه الناس وأقرانه، كان يحدث ما لم يسمع، ثم صح، فعاد يحدث تلك الأحاديث التي قال في مرضه: لم يسمع منهم‘‘. میں نے اسے دیکھا ہے حدیث میں اس کا کوئی مقام نہیں، اور اس سے نہیں لکھا جائے گا، یہ ایک مرض میں مبتلاء ہوا، لوگ اور اس کے ساتھی اس کے پاس آئے، تو یہ ان کو غیر مسموع احادیث بیان کرتا، پھر صحت مند ہوگیا، تو اس نے دوبارہ وہی احادیث بیان کرنا شروع کردیں، جن کے بارے میں اس نے حالتِ مرض میں کہا تھا کہ اس نے ان سے نہیں سنا۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[121] میں سَلیم بن مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن الثقات الموضوعات الذي يتخايل إلى المستمع لها، وإن لم يكن الحديث صناعته، أنها موضوعة‘‘. ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے کہ سننے والے کو یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ من گھڑت ہیں، اگر چہ اس (سننے والے)کا کام صناعتِ حدیث نہ ہو۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[122] میں سَلیم بن مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولسَليم بن مسلم غير ما ذكرت من الحديث، وعامة ما يرويه غير محفوظ‘‘. اور سَلیم بن مسلم کی میری ذکرکردہ حادیث کے علاوہ بھی روایتیں ہیں، اور عام طور پر یہ جو روایت کرتا ہے وہ محفوظ نہیں ہوتیں۔

حافظ عبد الغنی بن سعید ازدی l ’’المؤتلف‘‘[123] میں سَلیم بن مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’في حديثه مناكير‘‘. اس کی حدیث میں مناکیر ہیں۔

حافظ ابن ماکولا l ’’الإكمال‘‘[124]میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه، واتهموا دينه‘‘. محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اور اس کے دین میں اس پر اتہام کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l’’تذكرة الحفاظ‘‘[125] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وسَليم هذا يضع الحديث‘‘. اور یہ سَلیم حدیث گھڑتا ہے۔

نیز حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[126] میں ایک روایت کے تحت اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l’’ديوان الضعفاء‘‘[127] میں سَلیم بن مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔

حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[128] میں اسے ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[113]  تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/324،رقم:2178،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[114]  انظرالجرح والتعدیل:4/315،رقم:1368،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[115]معرفة الرجال رواية ابن محرز:1/58،رقم:70،ت:محمد كامل القصار،مجمع اللغة العربية ـ دمشق، الطبعة1405هـ .

[116] العلل ومعرفة الرجال:3/393،رقم:5726،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .

[117] الجرح والتعدیل:4/315،رقم:1368،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[118] الجرح والتعدیل:4/315،رقم:1368،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[119] الضعفاء والمتروكين:ص:185،رقم:244،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[120]  المعرفة والتاريخ:۳/۳۸،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[121] المجروحين:1/354،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[122] الكامل في ضعفاء الرجال:4/339،رقم:777،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[123] المؤتلف والمختلف في أسماء نقلة الحديث وأسماء آبائهم وأجدادهم:ص:405،رقم:1111،ت:مثنى محمد حميد الشمري وقيس عبد إسماعيل التميمي،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1428هـ .

[124] الإكمال في رفع الارتياب:۴/۳۳۰،الفاروق الحديثية ـ القاهرة .

[125] تذكرة الحفاظ:ص:299،رقم:746،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ .

[126] ذخيرةالحفاظ:ص:342،رقم:360،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[127] ديوان الضعفاء:ص:177،رقم:1796،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة،الطبعة1387هـ .

[128] مجمع الزوائد:2/229،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ