اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ میری امت کے مال دار لوگ سیر وتفریح کےلئے حج کو جائیں گے، اور متوسط لوگ تجارت کےلئے جائیں گے، اور علماء دکھاوے اور شہرت کےلئے جائیں گے، اور فقراء سوال کےلئے جائیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو اسحاق ابراہیم بن زکریا عجلی ضریر معلم کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام[51]۔
حافظ ابو بکر بزار l نے اپنی ’’مسند‘‘[52] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن زکریا ضریر معلم کو ’’منكر الحديث‘‘کہا ہے۔
حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’مجهول، والحديث الذي رواه منكر‘‘[53]. مجہول ہے، اور اس کی روایت کردہ حدیث منکر ہے۔
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[54] میں ابراہیم بن زکریا ضریر بصری کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’صاحب مناكير وأغاليط‘‘. یہ صاحبِ مناکیر واغالیط ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’الثقات‘‘[55] میں فرماتے ہیں: ’’إبراهيم بن زكريا العجلي أبو إسحاق من أهل البصرة، يروي عن شعبة، وهمام بن يحيى، روى عنه يعقوب بن سفيان‘‘. ابو اسحاق ابراہیم بن زکریا عجلی بصرہ کا رہنے والا ہے، شعبہ اور ہمام بن یحیی سے روایت کرتا ہے، اس سے یعقوب بن سفیان نے روایت کی ہے۔
نیز حافظ ابن حبان l نے ’’المجروحين‘‘[56] میں ابراہیم بن زکریا واسطی کا ترجمہ ان الفاظ سے قائم کیا ہے: ’’إبراهيم بن زكريا الواسطي، شيخ، يروي عن مالك، وأبي بكر بن أبي عياش، وروى عنه إبراهيم بن راشد الآدمي، ومحمد بن عبيد الله القرشي، يأتي عن الثقات مالا يشبه حديث الأثبات، إن لم يكن بالمتعمد لها فهو المدلس عن الكذابين، لأني رأيته قد روى أشياء عن مالك موضوعة، ثم رواها أيضا عن موسى بن محمد بن البلقاوي، عن مالك، وهو من أهل واسط من قرية من قراها يقال لها: عيدسي [ كذا في الأصل، والصحيح: العبدسي]‘‘.
ابراہیم بن زکریا واسطی شیخ ہے، مالک اور ابو بکر بن ابی عیاش سے روایت کرتا ہے، اور اس سے ابراہیم بن راشد آدمی اور محمد بن عبد اللہ قرشی روایت کرتے ہیں، یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے ایسی روایات لاتا ہے جو ثبت راویوں کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، اگر وہ یہ روایات جان بوجھ کر نہیں لاتا تو یہ جھوٹے راویوں سے تدلیس کرتا ہے، کیونکہ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے مالک کے انتساب سے من گھڑت اشیاء روایت کیں، پھر انہی من گھڑت اشیاء کو موسی بن محمد بن بلقاوی، عن مالک کے انتساب سے روایت کیا، اور وہ واسط کی بستیوں میں سے کسی بستی کا رہنے والا ہے، جسے عبدسی کہا جاتا ہے[57]۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[58] میں ابراہیم بن زکریا معلم ضریر عجلی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’حدث عن الثقات بالبواطيل‘‘. اس نے ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات بیان کی ہیں۔
نیز حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[59] میں اسی ابراہیم بن زکریا کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث مع غيرها يرويها إبراهيم بن زكريا، هذه كلها أو عامتها غير محفوظة، وتبين الضعف على رواية حديثه، وهو في جملة الضعفاء‘‘. اور یہ احادیث دوسری احادیث کے ساتھ جن کو ابراہیم بن زکریا روایت کرتا ہے، یہ تمام کی تمام یا ان میں سے اکثر غیر محفوظ ہیں، اور اس کی حدیث کی روایت پر ضعف واضح ہے، اور یہ من جملہ ضعفاء میں سے ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[60] میں ایک دوسری روایت کے تحت ابراہیم بن زکریا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهذا منكر، لايرويه غير إبراهيم، والحمل عليه فيه‘‘. اور یہ منکر ہے، ابراہیم کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں اسی پر حمل ہے۔
حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[61] میں ابراہیم بن زکریا ضریر کی سند سے منقول ایک روایت کو من گھڑت قرار دے کر فرماتے ہیں: ’’والمتهم به إبراهيم بن زكريا‘‘. اور اس میں متہم ابراہیم بن زکریا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[62] میں ابراہیم بن زکریا ضریر عجلی معلم کو ’’متهم‘‘ کہا ہے[63]۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[64] میں ایک حدیث کے تحت ابراہیم بن زکریا معلم کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حافظ بدر الدین عینی l نے ’’نخب الأفكار‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن زکریا ضریر بصری کو ’’ضعيف جدا‘‘ قرار دیا ہے۔
حوالہ جات
[51] حافظ ابن حجر عسقلانی l تحریر فرماتے ہیں: ابراہیم بن زکریا عجلی بصری اور ابراہیم بن زکریا واسطی عبدسی ایک ہی فرد کے دو نام میں، یا یہ دو افراد ہیں، اس بارے میں مختلف آراء ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی l کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقد فرق غير واحد بين إبراهيم بن زكريا العجلي البصري وبين إبراهيم بن زكريا الواسطي العبدسي، منهم: ابن حبان فذكر العجلي في الثقات والواسطي في الضعفاء، وكذا فرق بينهما الحاكم أبو أحمد في الكنى، والعقيلي في الضعفاء، وأبو العباس النباتي في الحافل، والمؤلف في المغني، وهو الصواب‘‘. (لسان المیزان:1/283،رقم:134، ت:عبد الفتاح أبو غدة، دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1423هـ) .
[52] البحر الزخارالمعروف بمسند البزار:3/112،رقم:898 ،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1409هـ .
[53] الجرح والتعديل:۲/۱۰۱،رقم:۲۸۰،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[54] الضعفاء الكبير:۱/۵۴رقم:۴۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[55] كتاب الثقات:۸/70،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد،الطبعة الأولى۱۳۹۳هـ .
[56] المجروحين:1/115،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[57] حافظ ابن حبان l کے دونوں کلام سے معلوم ہوا کہ وہ ابراہیم بن زکریا عجلی بصری اور ابراہیم بن زکریا واسطی عبدسی کو دو الگ افراد سمجھتے ہیں۔
[58] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۱۲،رقم:۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[59] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۴۱۵،رقم:۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[60] ذخيرةالحفاظ:ص:۴۶۰،رقم:۶۵۵،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[61] كتاب الموضوعات:3/۴۶،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 138۸هـ .
[62] ديوان الضعفاء:ص:۱۶،رقم:۱۸۱،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[63] اس کے متصل بعد حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: ’’إبراهيم بن زكريا الواسطي مجهول‘‘. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حافظ ذہبی l ، عجلی اور واسطی کو الگ الگ فرد سمجھتے ہیں۔ (ديوان الضعفاء:ص:۱۶،رقم:۱۸2،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ) .
[64] مجمع الزوائد:5/1۲۲،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[65] نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار:3/۲۷۲،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،دار النوادر ـ دمشق،الطبعة الأولى۱۴۲9هـ .