التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی

2 روایات میں تذکرہ

محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

اہم نوٹ: واضح رہے کہ سند میں موجود راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی کی تعیین میں ائمہ کا اختلاف ہے، چنانچہ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[99] میں محمد بن عبد الرحمن جُدْعانی کو منکر الحدیث نیز ائمہ کے اقوال نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’وقد قيل: إن محمد بن عبد الرحمن الجُدْعاني هو غير محمد بن عبد الرحمن أبو غِرازة، وقيل: أبو غِرَازة غير الجُدْعاني هذا، وجميعا ينسبان إلى جدعان، وجميعا من أهل المدينة، فإن كان غيره: فلأبي غِرازة عن القاسم، عن عائشة في الرفق يمن. حدثناه أحمد بن حفص عن إبراهيم الشافعي، عن أبي غِرازة .

وإن كان أبو غِرازة والجُدْعاني واحدا: فجميعا لهما غير ما ذكرت، فقد اشتبها، لأنهما كانا في وقت واحد بالمدينة، ويحتمل أن يكونا جميعا واحدا، ويحتمل أن يكون هذا غير ذاك، وقد ذكرت لكل واحد منهما ما انكر عليها‘‘.

اور کہا گیا ہے کہ محمد بن عبد الرحمن جُدْعانی یہ محمد بن عبد الرحمن ابو غرازہ کے علاوہ ہیں، اور کہا گیا ہے کہ ابو غرازہ، جُدْعانی کے علاوہ ہے، اور یہ دونوں جُدْعان کی طرف منسوب ہوتے ہیں، اور دونوں اہل مدینہ میں سے ہیں، اگر یہ دونوں ایک دوسرے کا غیر ہوں تو ابو غرازہ، عن القاسم، عن عائشہ کے طریق سے ’’فی الرفق یمن‘‘روایت کرتا ہے، جسے احمد بن حفص نے ہمیں ابراہیم شافعی، عن ابی غرازہ کی سند سے روایت کیا ہے، اور اگر ابو غرازہ اور جُدْعانی دونوں ایک ہی ہوں تو میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی ان دونوں کی روایات ہیں، چنانچہ یہ مشتبہ ہوگئے ہیں، اس لئے کہ یہ دونوں ایک ہی وقت میں مدینہ میں ہوتے تھے، اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہوں، اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ایک دوسرے کا غیر ہوں، اور ان دونوں میں سے ہر ایک پر جو انکار ہوا ہے میں نے اسے ذکر کردیا ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[100] میں محمد بن عبد الرحمن جُدْعانی مکی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’عن عبيد الله بن عمر، سمع منه إسماعيل بن أبى أويس، منكر الحديث‘‘.یہ عبید اللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے، اس سے اسماعیل بن ابی اویس نے سماعت کی ہے، یہ منکر الحدیث ہے۔

واضح رہے کہ امام بخاری l نے ’’التاریخ الصغیر‘‘[101] میں محمد بن عبد الرحمن ابو غرارہ قرشی کا الگ ترجمہ قائم کیا ہے۔

حافظ عقیلی l نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[102] میں امام بخاری l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[103] میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’روى عن سليمان بن مرقاع الجَنْدِي، عن مجاهد، روى عنه عبد الحميد، واسمعيل ابنا أبي أويس، سمعت أبي يقول ذلك، وسألته عنه فقال: ضعيف الحديث‘‘. اس نے سلیمان بن مرقاع جَنْدِی عن مجاہد کے طریق سے روایت کی ہے، اور اس سے عبد الحمید اور ابو اویس کے دونوں بیٹوں نے روایت کی ہے، (عبد اللہ بن ابی حاتمl فرماتے ہیں) میں نے اپنے والد کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے، اور میں نے ان کے متعلق والد سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ ضعیف الحدیث ہے[104]۔

اس کے بعد حافظ ابن ابی حاتمl نے محمد بن عبد الرحمن ابو غرارہ قرشی جُدْعانی تمیمی زوج جبرہ کے نام سے الگ ترجمہ قائم کیا ہے، جس میں ابو غرارہ کے بارے میں حافظ ابن ابی حاتمl نے امام احمد بن حنبل l اور حافظ ابو زرعہl کا قول ’’لا بأس به‘‘ نقل کیا ہے[105]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[106] میں جُدْعانی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

 حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[107]میں ان الفاظ سے ترجمہ قائم فرماتے ہیں: ’’محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي مليكة المُلَيْكي القرشي الجُدْعاني، كنيته أبو غِرَارة، من أهل المدينة، زوج جبرة بنت محمد بن ثابت بن سباع، يروي عن أبيه وعبيد الله بن عمر، روى عنه أبو عاصم، وابن أبي أويس، كان ممن يروي المناكير عن المشاهير، وينفرد عن الثقات بالمقلوبات، لا يحتج به‘‘. محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ مُلَیْکی قرشی جُدْعانی، ان کی کنیت ابو غرارہ ہے، جبرہ بنت محمد بن ثابت بن سباع کے خاوند ہیں، وہ اپنے والد اور عبید اللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے، اور اس سے ابو عاصم اور ابن ابی اویس نے روایت کی ہے، یہ ان لوگوں میں سے ہے جو مشہور محدثین کے انتساب سے منکر روایات نقل کرتے ہیں، اور ثقہ راویوں سے مقلوبات نقل کرنے میں منفرد ہے، اس کی حدیث سے احتجاج کرنا درست نہیں ہے۔

حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[108] میں فرماتے ہیں: ’’عبد الرحمن بن أبي بكر بن عبيد الله بن عبد الله بن أبي مليكة بن عبد الله بن جُدْعان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة المليكي الجُدْعاني، يروي عن عمه ابن أبى مليكة، وطاؤس، والزهري، والقاسم، روى عنه ابنه محمد بن عبد الرحمن، منكر الحديث جدا، يتفرد عن الثقات بما لا يشبه حديث الأثبات، فلا أدري كثرة الوهم في أخباره منه أو من أبيه، على أن أكثر روايته ومدار حديثه يدور على أبيه، وأبوه فاحش الخطأ، فمن هاهنا اشتبه أمره، ووجب تركه‘‘. عبد الرحمن بن ابی بکر بن عبید اللہ بن عبد اللہ بن ابی میلکہ بن عبد اللہ بن جدعان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ملیکی جُدْعانی، یہ اپنے چچا ابن ابی ملیکہ اور طاؤس، زہری اور قاسم سے روایت کرتا ہے، اور اس سے اس کے بیٹے محمد بن عبد الرحمن نے روایت کی ہے، یہ منکر الحدیث جداً ہے، وہ ثقات سے ایسی روایات نقل کرنے میں متفرد ہے جو اثبات کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، اب مجھے نہیں معلوم کہ اس کی اخبار میں وہم اس کی طرف سے ہے یا اس کے والد کی طرف سے ہے، اس کی اکثر روایات اور اس کی حدیث کا مدار اس کے والد پر ہوتا ہے، اور اس کا والد فاحش الخطاء ہے، اس لئے اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا، اور اس کا ترک کرنا واجب ہوگیا۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’تقريب التهذيب‘‘[109] میں فرماتے ہیں: ’’قيل إن أبا غِرارة غير الجُدْعاني، فأبو غِرَارة لين الحديث، والجُدْعاني متروك، وهما من السابعة‘‘. کہا جاتا ہے کہ ابو غرارہ جُدْعانی کے علاوہ ہے، ابو غرارہ لین الحدیث ہے، اور جُدْعانی متروک ہے، اور یہ دونوں ساتویں طبقے میں سے ہیں۔

حوالہ جات

[99] الكامل في ضعفاء الرجال:۷/۳۹۸،رقم:1292،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[100] التاريخ الصغير:2/۱۹۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[101] التاريخ الصغير:2/۱62،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[102] الضعفاء الكبير:۴/۱۰۱رقم:۱۶۵۵،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[103] الجرح والتعدیل:۷/۳۱۱،رقم:۱۶۹۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[104] الجرح والتعدیل:۷/۳۱۱،رقم:۱۶۹۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[105] الجرح والتعدیل:۷/۳۱۱،رقم:۱۶۹۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[106] الضعفاء والمتروكين:1/214،رقم:539،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[107] المجروحين:۲/۲۶۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[108] الأنساب:۱۲/۴۳۲،رقم:3936،ت:عبدالرحمن بن يحيى المعلمي،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الاولى۱397هـ . 

[109] تقريب التهذيب:ص:2/491،رقم:6065،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

اہم نوٹ: واضح رہے کہ سند میں موجود راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی کی تعیین میں ائمہ کا اختلاف ہے، چنانچہ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[90] میں محمد بن عبد الرحمن جُدْعانی کو منکر الحدیث کہہ کر نیز اس کے بارے میں ائمہ کے اقوال نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’وقد قيل: إن محمد بن عبد الرحمن الجُدْعاني هو غير محمد بن عبد الرحمن أبو غِرَازة، وقيل: أبو غِرَازة غير الجُدْعاني هذا، وجميعا ينسبان إلى جدعان، وجميعا من أهل المدينة، فإن كان غيره: فلأبي غِرَازة عن القاسم، عن عائشة في الرفق يمن. حدثناه أحمد بن حفص عن إبراهيم الشافعي، عن أبي غِرَازة .

وإن كان أبو غِرَازة والجُدْعاني واحدا: فجميعا لهما غير ما ذكرت، فقد اشتبها، لأنهما كانا في وقت واحد بالمدينة، ويحتمل أن يكونا جميعا واحدا، ويحتمل أن يكون هذا غير ذاك، وقد ذكرت لكل واحد منهما ما انكر عليها‘‘.

اور کہا گیا ہے کہ محمد بن عبد الرحمن جُدْعانی یہ محمد بن عبد الرحمن ابو غرازہ کے علاوہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ابو غرازہ، جُدْعانی کے علاوہ ہے، اور یہ دونوں جدعان کی طرف منسوب ہوتے ہیں، اور دونوں اہل مدینہ میں سے ہیں، اگر یہ دونوں ایک دوسرے کا غیر ہوں تو ابو غرازہ، عن القاسم، عن عائشہ کے طریق سے ’’فی الرفق یمن‘‘ روایت کرتا ہے، جسے احمد بن حفص نے ہمیں ابراہیم شافعی، عن ابی غرازہ کی سند سے روایت کیا ہے، اور اگر ابو غرازہ اور جُدْعانی دونوں ایک ہی ہوں تو میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی ان دونوں کی روایات ہیں، چنانچہ یہ مشتبہ ہوگئے ہیں، اس لئے کہ یہ دونوں ایک ہی وقت میں مدینہ میں تھے، اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہوں، اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ایک دوسرے کا غیر ہوں، اور ان دونوں میں سے ہر ایک پر جو انکار ہوا ہے میں نے اسے ذکر کردیا ہے۔

امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[91] میں محمد بن عبد الرحمن جُدْعانی مکی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’عن عبيد الله بن عمر، سمع منه إسماعيل بن أبى أويس، منكر الحديث‘‘.یہ عبید اللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے، اس سے اسماعیل بن ابی اویس نے سماعت کی ہے، یہ منکر الحدیث ہے۔

واضح رہے کہ امام بخاری l نے ’’التاریخ الصغیر‘‘[92] میں محمد بن عبد الرحمن ابو غرارہ قرشی کا الگ ترجمہ قائم کیا ہے۔

حافظ عقیلی l نے ’’الضعفاء الكبير‘‘[93] میں امام بخاری l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[94] میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر جُدْعانی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’روى عن سليمان بن مرقاع الجندي، عن مجاهد، روى عنه عبد الحميد، واسمعيل ابنا أبي أويس، سمعت أبي يقول ذلك، وسألته عنه فقال: ضعيف الحديث‘‘. اس نے سلیمان بن مرقاع جندی عن مجاہد کے طریق سے روایت کی ہے، اور اس سے عبد الحمید اور ابو اویس کے دونوں بیٹوں نے روایت کی ہے، (عبد اللہ بن ابی حاتمl فرماتے ہیں) میں نے اپنے والد کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے، اور میں نے ان کے متعلق والد سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ ضعیف الحدیث ہے[95]۔

اس کے بعد حافظ ابن ابی حاتمl نے محمد بن عبد الرحمن ابو غرارہ قرشی جُدْعانی تمیمی زوج جبرہ کے نام سے الگ ترجمہ قائم کیا ہے، جس میں ابو غرارہ کے بارے میں حافظ ابن ابی حاتمl نے امام احمد بن حنبل l اور حافظ ابو زرعہl کا قول ’’لا بأس به‘‘ نقل کیا ہے[96]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[97] میں جُدْعانی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

 حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[98]میں ان الفاظ سے ترجمہ قائم فرماتے ہیں: ’’محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي مليكة المليكي القرشي الجُدْعاني، كنيته أبو غرارة، من أهل المدينة، زوج جبرة بنت محمد بن ثابت بن سباع، يروي عن أبيه وعبيد الله بن عمر، روى عنه أبو عاصم، وابن أبي أويس، كان ممن يروي المناكير عن المشاهير، وينفرد عن الثقات بالمقلوبات، لا يحتج به‘‘. محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ ملیکی قرشی جُدْعانی، اس کی کنیت ابو غرارہ ہے، جبرہ بنت محمد بن ثابت بن سباع کے خاوند ہیں، وہ اپنے والد اور عبید اللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے، اور اس سے ابو عاصم اور ابن ابی اویس نے روایت کی ہے، یہ ان لوگوں میں سے ہے جو مشہور محدثین کے انتساب سے منکر روایات نقل کرتے ہیں، اور ثقہ راویوں سے مقلوبات نقل کرنے میں منفرد ہے، اس کی حدیث سے احتجاج کرنا درست نہیں ہے۔

حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[99] میں فرماتے ہیں: ’’عبد الرحمن بن أبى بكر بن عبيد الله بن عبد الله بن أبي مليكة بن عبد الله بن جدعان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة المليكي الجُدْعاني، يروي عن عمه ابن أبى مليكة، وطاوس، والزهري، والقاسم، روى عنه ابنه محمد بن عبد الرحمن، منكر الحديث جدا، يتفرد عن الثقات بما لا يشبه حديث الأثبات، فلا أدري كثرة الوهم في أخباره منه أو من أبيه، على أن أكثر روايته ومدار حديثه يدور على أبيه، وأبوه فاحش الخطأ، فمن هاهنا اشتبه أمره، ووجب تركه‘‘. عبد الرحمن بن ابی بکر بن عبید اللہ بن عبد اللہ بن ابی میلکہ بن عبد اللہ بن جدعان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ملیکی جدعانی، یہ اپنے چچا ابن ابی ملیکہ اور طاؤس، زہری اور قاسم سے روایت کرتا ہے، اور اس سے اس کے بیٹے محمد بن عبد الرحمن نے روایت کی ہے، یہ منکر الحدیث جداً ہے، وہ ثقات سے ایسی روایات نقل کرنے میں متفرد ہے جو اثبات کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں، اب مجھے نہیں معلوم کہ اس کی اخبار میں وہم اس کی طرف سے ہے یا اس کے باپ کی طرف سے ہے، اس کی اکثر روایات اور اس کی حدیث کا مدار اس کے باپ پر ہوتا ہے، اور اس کا باپ فاحش الخطاء ہے، اس لئے اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا، اور اس کا ترک کرنا واجب ہوگیا۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’تقريب التهذيب‘‘[100] میں فرماتے ہیں: ’’قيل إن أبا غِرَارة غير الجُدْعاني، فأبو غِرَارة لين الحديث، والجُدْعاني متروك، وهما من السابعة‘‘. کہا جاتا ہے کہ ابو غرارہ، جُدْعانی کے علاوہ ہے، ابو غرارہ لین الحدیث ہے، اور جُدْعانی متروک ہے، اور یہ دونوں ساتویں طبقے میں سے ہیں۔

حوالہ جات

[90] الكامل في ضعفاء الرجال:۷/۳۹۸،رقم:1292،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[91] التاريخ الصغير:2/۱۹۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[92] التاريخ الصغير:2/۱62،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[93] الضعفاء الكبير:۴/۱۰۱رقم:۱۶۵۵،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[94] الجرح والتعدیل:۷/۳۱۱،رقم:۱۶۹۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[95] الجرح والتعدیل:۷/۳۱۱،رقم:۱۶۹۵،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[96] الجرح والتعدیل:۷/۳۱۱،رقم:۱۶۹۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .

[97] الضعفاء والمتروكين:1/214،رقم:539،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[98] المجروحين:۲/۲۶۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[99] الأنساب:۱۲/۴۳۲،رقم:3936،ت:عبدالرحمن بن يحيى المعلمي،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الاولى۱397هـ . 

[100] تقريب التهذيب:ص:2/491،رقم:6065،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ