اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’سورۂ یاسین کا نام تورات میں معمہ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کےلئے دنیا وآخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے، اور یہ دنیا وآخرت کی مصیبت کو دور کرتی ہے، اور آخرت کی ہَول کو دور کرتی ہے، اس سورت کا نام رافعہ خافضہ بھی ہے یعنی مؤمنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی‘‘۔
نیز اس میں یہ مضمون بھی ہے: ’’سورۂ یاسین کا سننا اللہ کے راستے میں بیس دینار خرچ کرنے کے برابر ہے، اور اس کا پڑھنا بیس حج کرنے کے برابر ہے، جس نے سورۂ یاسین لکھ کر اس کا پانی پی لیاتو یہ پڑھنے والے کے سینے میں ہزار یقین، ہزار نور، ہزار برکتیں، ہزار رحمتیں اور ہزار رزق داخل کرے گی، اور یہ سورت اس سے ہر قسم کی کھوٹ اور بیماری نکال دے گی‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو بکر محمد بن عبد بن عامر تمیمی سُغْدِی سمرقندی (المتوفی فی حدود ۳۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن یونس l فرماتے ہیں: ’’ لم يكن بالمحمود في الحديث‘‘[32]. حدیث میں محمود نہیں تھا۔
حافظ دارقطنیl ’’الضعفاء‘‘[33] میں فرماتے ہیں: ’’يكذب، ويضع‘‘. محمد بن عبد جھوٹ بولتا ہے، اور حدیث گھڑتا ہے۔
فقیہ ابو الحسین یعقوب بن موسی l فرماتے ہیں: ’’لقيت جماعة يحدثون عن محمد بن عبد السمرقندي أحاديث موضوعة، قد حدث بها في بلدان شتى، فسألت جعفر بن الحجاج المعروف ببكارة الموصلي بها عنه، فقال: قدم علينا الموصل وحدث بأحاديث مناكير، فاجتمع جماعة من الشيوخ وصرنا إليه لننكر عليه، فإذا هو جالس في مسجد يعرف بمسجد النبي صلى الله عليه وسلم، وله مجلس، وعنده خلق من كتبة الحديث ومن العامة، قال: فلما بصر بنا من بعيد علم أنا قد اجتمعنا للإنكار عليه، فقال قبل أن نصل إليه: حدثنا قتيبة بن سعيد، عن ابن لهيعة، عن أبي الزبير، عن جابر بن عبد الله، أن رسول الله، صلى الله عليه وسلم قال: القرآن كلام الله غير مخلوق .
قال: فوقفنا ولم نجسر أن نقدم عليه خوفا من العامة، قال: فرجعنا ولم نجسر أن نكلمه‘‘[34].
میں نے ایک جماعت سے ملاقات کی جو محمد بن عبد سمر قندی سے من گھڑت احادیث بیان کرتی ہے، جو اس نے مختلف شہروں میں بیان کی ہیں، میں نے جعفر بن حجاج جوکہ بکارہ موصلی سے معروف ہیں، سے محمد بن عبد کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ ہمارے پاس موصل آیا تھا، اور اس نے منکر احادیث بیان کیں، چنانچہ شیوخ کی ایک جماعت جمع ہوئی اور ہم اس کے پاس گئے تاکہ اس پر انکار کریں، یہ ایک مسجد میں بیٹھا ہوا تھا جو مسجد نبی ﷺ کے نام سے معروف تھی، اور اس کی مجلس لگی ہوئی تھی، اور اس کے پاس حدیث لکھنے والے اور عام لوگوں کی ایک خلقت تھی، جعفر بن حجاج کہتے ہیں: جب محمد بن عبد نے ہمیں دور سے دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ ہم اس پر انکار کرنے کےلئے جمع ہوئے ہیں، تو اس نے ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی یہ حدیث بیان کرنا شروع کردی کہ ہمیں قتیبہ بن سعید نے ابن لہیعہ، عن ابی الزبیر، عن جابر بن عبد اللہ r کے طریق سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں ہے۔
جعفر بن حجاج کہتے ہیں: چنانچہ ہم رک گئے، اور عام لوگوں کے خوف سے ہم نے اس کے پاس جانے کی جسارت نہیں کی، جعفر بن حجاج کہتے ہیں: ہم واپس لوٹ آئے، اور ہم نے اس سے بات کرنے کی جسارت نہیں کی۔
حافظ ابو سعد عبد الرحمن بن محمد ادریسی l فرماتے ہیں: ’’حدث بالعراق، وخراسان، ولم أر لأهل بلده عنه شيئا، يحدث بالمناكير على الثقات، يتهم بالكذب، وكأنه كان يسرق الأحاديث والإفرادات يحدث بها، ويتابع الضعفاء والكذابين في رواياتهم عن الثقات بالأباطيل‘‘[35]. اس نے عراق اور خراسان میں حدیث بیان کی ہے، اور میں نے اس کے شہر والوں کی اس سے کوئی روایت نہیں دیکھی، ثقہ راویوں کے انتساب سے مناکیر روایت کرتا ہے، جھوٹ بولنے میں متہم ہے، گویا کہ احادیث اور افرادات میں سرقہ کرکے بیان کرتا تھا، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے اباطیل روایت کرنے میں ضعیف اور کذاب راویوں کی متابعت کرتا تھا۔
امام حاکم l اپنی ’’تاريخ‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’ كان يقدم بنيسابور وسائر المدن، فيحدث عن عصام وقتيبة وصالح بن محمد الترمذي وأقرانهم بأحاديث معضلات، ورأيت عند مشايخنا بالعراق من حديثه بما لم يحدث بمثله بخراسان، سمعت جماعة من مشايخنا يذكرون أن آخر ما ورد عليهم سنة اثنتين وتسعين ومئتين، وأظنه توفي فيها في البادية، وعجائبه لا يحتملها هذا الموضع‘‘. یہ نیشاپور اور باقی شہروں میں آتا تھا، چنانچہ اس نے عصام، قتیبہ، صالح بن محمد ترمذی اور ان کے اقران کے انتساب سے معضل احادیث بیان کیں، اور میں نے عراق میں اپنے مشایخ کے پاس اس کی حدیث میں سے ایسی احادیث دیکھیں کہ اس جیسی احادیث خراسان میں بیان نہیں کی گئیں، میں نے اپنے بعض مشایخ کی ایک جماعت سے سنا: وہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آخری مرتبہ سن ۲۹۲ھ میں آیا، اور میرا خیال یہ ہے کہ یہ اسی سن میں دیہات میں فوت ہوا ہے، اور اس کے عجائب اتنے ہیں کہ یہ جگہ اس کی محتمل نہیں ہے۔
حافظ خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن شيوخ ثقات مناكير لا يتابع عليها، روى عن عصام البلخي وقتيبة، وقال الحفاظ: لم يدرك عصاما، وروى عن إبراهيم بن الأشعث عن فضيل بن عياض أحاديث مسندة، وزهد الفضيل، وروى الموضوعات عن الثقات، سكتوا عنه، وروى عنه جماعة من العلماء الكبار، لا أدري كيف ذلك؟ وروى عنه بقزوين أبو الحسن القطان، وأبو منصور الفقيه، وعلي بن عمر الصيدناني، وأدركنا من أصحابه علي بن أحمد بن صالح المقرئ، وروى عنه من لم يكن هذا الشأن من صناعته بهمذان، وبغداد جماعة، وأطبق الحفاظ على أن حديثه متروك، ورد قزوين سنة ثلاثمائة، وحدثني ابن أبي زرعة الحافظ عن عبد الله بن محمد البغدادي عنه أحاديث، عفا الله عنا وعنه‘‘.
ثقہ شیوخ کے انتساب سے ایسی مناکیر روایت کرتا ہے جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، عصام بلخی اور قتیبہ سے روایت کی ہے، اور حفاظ فرماتے ہیں کہ اس نے عصام کو نہیں پایا، اور ابراہیم بن اشعث، عن فضیل بن عیاض کی سند سے مسند احادیث روایت کی ہیں، اور فضیل کے زہد سے متعلق روایت کی ہے، اور ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے، محدثین نے اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے، اور اس سے کبار علماء کی ایک جماعت نے روایت کی ہے، مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اور قزوین میں اس سے ابو الحسن قطان، ابو منصور فقیہ اور علی بن عمر صیدنانی نے روایت کی ہے، اور ہم نے اس کے اصحاب میں سے علی بن صالح مقری کو پایا ہے، اور اس سے ہمذان میں سے ایسے افراد نے روایت کی ہے جن کی فن حدیث، صناعت نہیں تھی، اور بغداد میں ایک جماعت نے روایت کی ہے، اور حفاظ کا اس پر اتفاق ہے کہ بلا شبہ اس کی حدیث متروک ہے، اور یہ قزوین میں سن تین سو میں آیا، اور مجھے حافظ ابن ابی زرعہ نے عن عبد اللہ بن محمد بغدادی کے طریق سے اس کی احادیث بیان کی ہیں، اللہ تعالی ہمیں اور اسے معاف فرمائے۔
حافظ خطیب بغدادیl ’’تاريخ بغداد‘‘[38] میں فرماتے ہیں: ’’قدم بغداد، وحدث بها وبغيرها عن يحيى بن يحيى النيسابوري، وعبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، وقتيبة بن سعيد، وعصام، وإبراهيم ابني يوسف البلخيين، ومحمد بن سلام البَيْكَنْدِي، وحبان بن موسى المروزي، وإسحاق بن راهويه أحاديث منكرة وباطلة‘‘. یہ بغداد آیا، اور بغداد میں اور دیگر شہروں میں یحیی بن یحیی نیشا پوری، عبد اللہ بن عبد الرحمن دارمی، قتیبہ بن سعید، عصام، ابراہیم ابنی یوسف بلخی، محمد بن سلام بَیْکَنْدِی، حبان بن موسی مروزی اور اسحاق بن راہویہ کے انتساب سے منکر اور باطل احادیث بیان کی ہیں۔
حافظ ذہبی l نے اسے ’’تاريخ الإسلام‘‘[39] میں ’’ أحد المتروكين‘‘ اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[40] میں ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l’’ميزان الاعتدال‘‘[41] میں اس کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’معروف بوضع الحديث‘‘. حدیث گھڑنے میں معروف ہے۔
حافظ ذہبی l’’المغني‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث‘‘. محمد بن عبد حدیث گھڑتا تھا۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[43] میں حافظ دار قطنی l ، حافظ خطیب بغدادی l اور حافظ ذہبی l کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l ’’جامع الآثار‘‘[44] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’السمر قندي هذا مشهور بالوضع‘‘. یہ سمر قندی حدیث گھڑنے میں مشہور ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[45] میں محمد بن عبد سمر قندی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’معروف بوضع الحديث‘‘. حدیث گھڑنے میں معروف ہے۔
حوالہ جات
[32] تاريخ بغداد:۳/۶۷7،رقم:1169،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[33] الضعفاء والمتركون:ص:۳۵۱،رقم:۴۵۸،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[34] تاريخ بغداد:۳/۶۷۶،رقم:1169،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[35] تاريخ بغداد:۳/۶۷7،رقم:1169،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[36] انظر لسان الميزان:3/325،رقم:7128،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[37] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:3/983،رقم:912،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .
[38] تاريخ بغداد:۳/۶۷۱،رقم:1169،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[39] تاريخ الإسلام:۶/۱۰۳۵،رقم:۴۵۵،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[40] ديوان الضعفاء:ص:۳۶۴،رقم:۳۸۵۹،ت:حماد بن محمد الانصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[41] ميزان الاعتدال:3/۶۳۳،رقم:۷۹۰۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[42] المغني في الضعفاء:2/343،رقم:5790،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[43] الكشف الحثيث:ص:239، رقم:699،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[44] جامع الآثار في السير و مولد المختار:2/۲۹۲،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى 1431هـ .
[45] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۹،رقم:۱۹۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف و عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .