التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو مسعود عثمان بن عطاء بن ابی مسلم خراسانی مقدسی

المتوفی ۱۵۵ھ2 روایات میں تذکرہ

ابو مسعود عثمان بن عطاء بن ابی مسلم خراسانی مقدسی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو مسعود عثمان بن عطاء بن ابی مسلم خراسانی مقدسی (المتوفی ۱۵۵ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l نے عثمان بن عطاء کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[8]۔

حافظ ابو حاتمl  فرماتے ہیں: ’’سمعت دحيما، وسألته عن عثمان بن عطاء، فقال: لا بأس به، فقلت: إن أصحابنا يضعفونه، فقال: وأي شيء حدث عثمان من الحديث[9] ؟ واستحسن حديثه‘‘[10]. میں نے دحیمl  سے  عثمان بن عطاء کے بارے میں پوچھا  تو دحیم lنے فرمایا: یہ لا بأس بہ ہے، تو میں نے کہا کہ ہمارے اصحاب تو ان کی تضعیف کرتے ہیں، تو دحیمl نے فرمایا: عثمان نے کتنی حدیثیں بیان کی ہیں؟ اور دحیم l نے عثمان کی حدیث کو اچھا سمجھا۔

حافظ ابن برقیl نے ’’التمييز‘‘[11] میں عثمان بن عطاء کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l نے عثمان کو ’’منكر الحديث‘‘کہا ہے[12]۔

امام بخاری l نے  ’’التاریخ الکبیر‘‘[13] میں عثمان بن عطاء کو ’’ليس بذلك‘‘ کہا ہے۔

حافظ جوزجانیl ’’أحوال الرجال‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي في الحديث‘‘. حدیث میں لیس بالقوی ہے۔

امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[15] میں عثمان بن عطاء کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام ابو حاتم l  فرماتے ہیں: ’’يكتب حديثه، ولا يحتج به‘‘[16]. اس کی حدیث کو لکھا جائے گا، اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

حافظ ابو الحسن علی بن حسین بن جنید نخعیlنے عثمان کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[17]۔

امام نسائیl نے عثمان کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[18]۔

حافظ ابو یحیی زکریا بن یحیی ساجیl نے عثمان بن عطاء کو ’’ضعیف جدا‘‘کہا ہے[19]۔

حافظ ابن خزیمہl ، عثمان بن عطاء کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا أحتج بحديثه‘‘[20]. میں اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کرتا۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[21]  میں عثمان بن عطاء کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’أكثر روايته عن أبيه، وأبوه لا يجوز الاحتجاج بروايته، لما فيها من المقلوبات التي وهم فيها، فلست أدري البلية في تلك الأخبار منه، أو من ناحية أبيه، وهذا شيء يشتبه إذا روى رجل ليس بمشهور بالعدالة عن شيخ ضعيف أشياء لا يرويها عن غيره، لا يتهيأ إلزاق القدح بهذا المجهول دونه، بل يجب التنكب عما رويا جميعا حتى يحتاط المرء فيه، لأن الدين لم يكلف الله عباده أخذة عن كل من ليس يعدل مرضي‘‘.

اور عثمان بن عطاء کی اکثر روایات اپنے والد کے طریق سے ہیں، اور اس کے والد کی روایات سےا حتجاج جائز نہیں ہے، کیونکہ ان میں مقلوب روایات ہیں جن میں اس کو وہم ہواہے، اور میں نہیں جانتا کہ ان روایات میں مصیبت عثمان کی جانب سے ہے، یا اس کے والد کی جانب سے ہے، اور یہ چیز مشتبہ ہے کہ جب غیر مشہور بالعدالہ شخص شیخ ضعیف سے ایسی اشیاء روایت کرے جن کو اس کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا، تو شیخ کے بغیر اس مجہول کے ساتھ جرح کو چسپاں کرنا درست نہیں ہے، بلکہ جو کچھ ان دونوں نے روایت کیا ہےاس سے اجتناب کرنا واجب ہے، تاکہ آدمی اس معاملہ میں محتاط رہے، اس لئے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندے کو ہر اس شخص سے لینے کا مکلف نہیں بنایا جو عادل پسندیدہ نہ ہو۔

حافظ ابن  عدیl ’’الکامل‘‘[22] میں عثمان بن عطاء کے ترجمہ میں چند  روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولعثمان بن عطاء غير ما ذكرت من الحديث، وهو ممن يكتب حديثه‘‘. اور عثمان بن عطاء کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور وہ ایسے راویوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی روایت کو لکھا جاتا ہے۔

حافظ ابو احمدحاکمl عثمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بالقائم‘‘[23] .

حافظ دار قطنیl نے اپنی ’’سنن‘‘[24] میں ایک حدیث کے تحت عثمان بن عطاء کو  ’’ضعيف الحديث جدا‘‘ کہاہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[25] میں عثمان کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’روى عنه أحاديث موضوعة، وأبوه وإن كان سكتوا عنه فليس بذلك‘‘. یہ اپنے والد کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے، اور اس کا والد ’’لیس بذاک‘‘ہے، اگر چہ اس کے والد کے بارے میں ائمہ نے سکوت اختیار کیا ہے۔

حافظ ابونعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[26] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه أحاديث منكرة‘‘. اپنے والد کے انتساب سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ خلیلی l نے ’’الإرشاد‘‘[27] میں ایک روایت کے تحت عثمان بن عطاء کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[28] میں عثمان کو ’’ ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو الحسن بن قطان فاسی l ’’بيان الوهم‘‘[29] میں عثمان بن عطاء کی ایک حدیث نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’والحديث غاية في الضعف، بضعف عثمان المذكور‘‘. یہ حدیث شدید ضعیف ہے عثمان مذکور کے ضعف کی وجہ سے۔

حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[30] اور ’’دیوان الضعفاء‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اس کی تضعیف کی ہے۔

حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[32] میں عثمان بن عطاء کو ایک روایت کے تحت ’’واه‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن حجرl نے ’’تقريب التهذيب‘‘[33] میں عثمان کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[8] سؤالات ابن الجنيد:ص:393،رقم:498،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[9] حافظ ذہبی l نے’’تاریخ الاسلام‘‘میں حافظ دحیم l کے جملہ کی وضاحت ان الفاظ سے کی ہے: ’’وقال دحيم: لا بأس به، وأي شيء روى من الحديث؟ يعني أن الغالب على روايته التفسير، والمقاطيع‘‘. (تاريخ الإسلام:4/149، رقم:199،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ) .

[10]  الجرح والتعدیل:6/162،رقم:887 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[11] تمييز ثقات المحدثين وضعفائهم وأسمائهم وكناهم:ص:6۵،رقم:18۳،ت:عامر حسن صبري التميمي، دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴31هـ .

[12] الكامل في ضعفاء الرجال:6/2۹۱،رقم:۱۳۲۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[13] التاريخ الكبير:6/۸۲ ،رقم:۸۳۶۱ ،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .

[14] أحوال الرجال:ص:275،رقم:۲۸۷،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد،باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[15] الكنى والأسماء:۲/۷۷۹،رقم:۳۱۷۵،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقرى،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1404هـ .

[16]  الجرح التعديل:۶/۱۶۲،رقم:۸۸۷ ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .

[17] إكمال تهذيب الكمال:9/۱۷۱،رقم:3640،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[18] تهذيب التهذيب:7/139،رقم:288،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[19] تهذيب التهذيب:7/139،رقم:288،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[20] تاريخ دمشق:38/451،رقم:4618،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفکر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱8هـ .

[21] المجروحين:2/100،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[22] الكامل في ضعفاء الرجال:6/293،رقم:۱۳۲۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[23] إكمال تهذيب الكمال:9/171،رقم:۳۶۴۰،ت:عادل محمد وأسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة،الطبعة الأولى 1422هـ .

[24] سنن الدار قطني:4/208،رقم:3339،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .

[25] المدخل إلى الصحيح:ص:165،رقم:117،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى 1404هـ .

[26]  المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/74،رقم:156،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[27] الإرشاد:1/۳۱۸،رقم:۵۳،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .

[28] ذخيرة الحفاظ:ص:1726،رقم:3894،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[29] بيان الوهم والايهام:۲/۶۱،رقم:۳۲،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[30] الكاشف:۲/۱۱،رقم:۳۷۲۵،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[31] ديوان الضعفاء:ص:271،رقم:2776،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة۱۳۸۷هـ .

[32] تلخيص الموضوعات: ص:۳۴۵،رقم:۹۳۵،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى ۱۴۱۹هـ .  

[33] تقريب التهذيب:ص:۳۸۵،رقم:۴۵۰۲،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو مسعود عثمان بن عطاء بن ابی مسلم خراسانی مقدسی (المتوفی ۱۵۵ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l نے عثمان بن عطاء کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[111]۔

حافظ ابو حاتمl  فرماتے ہیں: ’’سمعت دحيما، وسألته عن عثمان بن عطاء، فقال: لا بأس به، فقلت: إن أصحابنا يضعفونه، فقال: وأي شيء حدث عثمان من الحديث[112] ؟ واستحسن حديثه‘‘[113]. میں نے دحیمl  سے  عثمان بن عطاء کے بارے میں پوچھا  تو دحیم lنے فرمایا: یہ لا بأس بہ ہے، تو میں نے کہا کہ ہمارے اصحاب تو ان کی تضعیف کرتے ہیں، تو دحیمl نے فرمایا: عثمان نے کتنی حدیثیں بیان کی ہیں؟ دحیم l نے عثمان کی حدیث کو اچھا سمجھا۔

حافظ ابن برقیl نے ’’التمييز‘‘[114] میں عثمان بن عطاء کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l نے عثمان کو ’’منكر الحديث‘‘کہا ہے[115]۔

امام بخاری l نے  ’’التاریخ الکبیر‘‘[116] میں عثمان بن عطاء کو ’’ليس بذلك‘‘ کہا ہے۔

حافظ جوزجانیl ’’أحوال الرجال‘‘[117] میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي في الحديث‘‘. حدیث میں لیس بالقوی ہے۔

امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[118] میں عثمان بن عطاء کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام ابو حاتم l  فرماتے ہیں: ’’يكتب حديثه، ولا يحتج به‘‘[119]. اس کی حدیث کو لکھا جائے گا، اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

حافظ ابو الحسن علی بن حسین بن جنید نخعیlنے عثمان کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[120]۔

امام نسائیl نے عثمان کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[121]۔

حافظ زکریا ساجیl نے عثمان بن عطاء کو ’’ضعیف جدا‘‘کہا ہے[122]۔

حافظ ابن خزیمہl عثمان بن عطاء کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا أحتج بحديثه‘‘[123]. میں اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کرتا۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[124]  میں فرماتے ہیں:  ’’أكثر روايته عن أبيه، وأبوه لا يجوز الاحتجاج بروايته لما فيها من المقلوبات التي وهم فيها، فلست أدري البلية في تلك الأخبار منه، أو من ناحية أبيه، وهذا شيء يشتبه إذا روى رجل ليس بمشهور بالعدالة عن شيخ ضعيف أشياء لا يرويها عن غيره، لا يتهيأ إلزاق القدح بهذا المجهول دونه، بل يجب التنكب عما رويا جميعا حتى يحتاط المرء فيه، لأن الدين لم يكلف الله عباده أخذة عن كل من ليس يعدل مرضي‘‘.

اور عثمان بن عطاء کی اکثر روایات اپنے والد کے طریق سے ہیں، اور اس کے والد کی روایات سےا حتجاج جائز نہیں ہے، کیونکہ ان میں مقلوب روایات ہیں جن میں اس کو وہم ہواہے، اور میں نہیں جانتا کہ ان روایات میں مصیبت عثمان کی جانب سے ہے، یا اس کے والد کی جانب سے ہے، اور یہ چیز مشتبہ ہے کہ جب غیر مشہور بالعدالہ شخص شیخ ضعیف سے ایسی اشیاء روایت کرے جن کو اس کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں کرتا، تو شیخ کے بغیر اس مجہول کے ساتھ جرح کو چسپاں کرنا درست نہیں ہے، بلکہ جو کچھ ان دونوں نے روایت کیا ہےاس سے اجتناب کرنا واجب ہے، تاکہ آدمی اس معاملہ میں محتاط رہے، اس لئے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندے کو ہر اس شخص سے لینے کا مکلف نہیں بنایا جو عادل پسندیدہ نہ ہو۔

حافظ ابن  عدیl ’’الکامل‘‘[125] میں عثمان بن عطاء کے ترجمہ میں چند  روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولعثمان بن عطاء غير ما ذكرت من الحديث، وهو ممن يكتب حديثه‘‘. اور عثمان بن عطاء کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور وہ ایسے راویوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی روایت کو لکھا جاتا ہے۔

حافظ ابو احمدحاکمl عثمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بالقائم‘‘[126] .

حافظ دار قطنیl نے اپنی ’’سنن‘‘[127] میں ایک حدیث کے تحت عثمان بن عطاء کو  ’’ضعيف الحديث جدا‘‘ کہاہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[128] میں عثمان کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’روى عنه أحاديث موضوعة، وأبوه وإن كان سكتوا عنه فليس بذلك‘‘. یہ اپنے والد کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے، اور اس کا والد ’’لیس بذاک‘‘ہے، اگر چہ اس کے والد کے بارے میں ائمہ نے سکوت اختیار کیا ہے۔

حافظ ابونعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[129] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه أحاديث منكرة‘‘. اپنے والد کے انتساب سے منکر احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ خلیلی l نے ’’الإرشاد‘‘[130] میں ایک روایت کے تحت عثمان بن عطاء کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[131] میں عثمان کو ’’ ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو الحسن ابن القطان فاسی l ’’بيان الوهم‘‘[132] میں عثمان بن عطاء کی ایک حدیث نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’والحديث غاية في الضعف، بضعف عثمان المذكور‘‘. یہ حدیث شدید ضعیف ہے عثمان مذکور کے ضعف کی وجہ سے۔

حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[133] اور ’’دیوان الضعفاء‘‘[134] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. محدثین نے اس کی تضعیف کی ہے۔

حافظ ذہبیl نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[135] میں ایک روایت کے تحت ’’واه‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن حجرl نے ’’تقريب التهذيب‘‘[136] میں عثمان کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[111] سؤالات ابن الجنيد:ص:393،رقم:498،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[112] حافظ ذہبی l نے’’تاریخ الاسلام‘‘میں حافظ دحیم l کے جملہ کی وضاحت ان الفاظ سے کی ہے: ’’وقال دحيم: لا بأس به، وأي شيء روى من الحديث؟ يعني أن الغالب على روايته التفسير، والمقاطيع‘‘ (تاريخ الإسلام:4/149، رقم:199،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ) .

[113]  الجرح والتعدیل:6/162،رقم:887 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[114] تمييز ثقات المحدثين وضعفائهم وأسمائهم وكناهم:ص:6۵،رقم:18۳،ت:عامر حسن صبري التميمي، دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴31هـ .

[115] الكامل في ضعفاء الرجال:6/2۹۱،رقم:۱۳۲۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[116] التاريخ الكبير:6/۸۲ ،رقم:۸۳۶۱ ،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .

[117] أحوال الرجال:ص:275،رقم:۲۸۷،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد،باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[118] الكنى والأسماء:۲/۷۷۹،رقم:۳۱۷۵،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقرى،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1404هـ .

[119]  الجرح التعديل:۶/۱۶۲،رقم:۸۸۷ ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .

[120] إكمال تهذيب الكمال:9/۱۷۱،رقم:3640،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[121] تهذيب التهذيب:7/139،رقم:288،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[122] تهذيب التهذيب:7/139،رقم:288،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[123]  تاريخ دمشق:38/451،رقم:4618،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفکر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱8هـ .

[124] المجروحين:2/100،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[125] الكامل في ضعفاء الرجال:6/293،رقم:۱۳۲۷،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[126] إكمال تهذيب الكمال:9/171،رقم:۳۶۴۰،ت:عادل محمد وأسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة،الطبعة الأولى 1422هـ .

[127] سنن الدار قطني:4/208،رقم:3339،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .

[128] المدخل إلى الصحيح:ص:165،رقم:117،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى 1404هـ .

[129]  المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/74،رقم:156،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[130] الإرشاد:1/۳۱۸،رقم:۵۳،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .

[131] ذخيرة الحفاظ:ص:1726،رقم:3894،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[132] بيان الوهم والايهام:۲/۶۱،رقم:۳۲،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[133] الكاشف:۲/۱۱،رقم:۳۷۲۵،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[134] ديوان الضعفاء:ص:271،رقم:2776،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة۱۳۸۷هـ .

[135] تلخيص الموضوعات: ص:۳۴۵،رقم:۹۳۵،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى ۱۴۱۹هـ .  

[136] تقريب التهذيب:ص:۳۸۵،رقم:۴۵۰۲،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ