التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن بن عمر بن سعد بن ابی وقاص زہری وقَّاصی مدینی

المتوفی۱۶۰ – ۱۷۰ھایک روایت میں تذکرہ

ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن بن عمر بن سعد بن ابی وقاص زہری وقَّاصی مدینی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن بن عمر بن سعد بن ابی وقاص زہری وقَّاصی مدینی (المتوفی۱۶۰ – ۱۷۰ھ[16]) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه، كان يكذب‘‘[17]. اس کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا، یہ جھوٹ بولتا تھا۔

علامہ عبد اللہ بن علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’وسألت أبي عن عثمان بن عبد الرحمن الوقاصي فضعفه جدا‘‘[18]. میں نے اپنے والد سے عثمان بن عبد الرحمن وقَّاصی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کو شدید ضعیف قرار دیا۔

حافظ ابن برقیl ’’التمييز‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’ليس هو بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘. عثمان بن عبد الرحمن ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث کونہیں لکھا جائے گا۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[20]عثمان بن عبد الرحمن کےبارے میں فرماتے ہیں: ’’ترکوه‘‘.

نیز امام بخاریl ’’التاريخ الصغير‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’سكتوا عنه‘‘.

حافظ جوزجانی l نے ’’ أحوال الرجال‘‘[22] میں عثمان بن عبد الرحمن کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے۔

امام مسلم l نے ’’الكنى‘‘[23] میں عثمان بن عبد الرحمن کو ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام ابو داؤد l نے عثمان بن عبد الرحمن کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[24]۔

حافظ ابو حاتم l وقَّاصی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروک الحدیث، ذاهب الحدیث، کذاب‘‘[25].

حافظ یعقوب بن سفیان فسوی l ’’المعرفة‘‘[26] میں فرماتے ہیں:’’لا يكتب أهل العلم حديثه إلا للمعرفة، ولا يحتج بروايته‘‘. اہل علم اس کی حدیث کو صرف معرفت کےلئے لکھتے تھے، اور اس کی روایت سے احتجاج نہیں کرتے تھے۔

امام ترمذیl نے عثمان بن عبد الرحمن کو ’’ليس بالقوي‘‘[27]  کہا ہے۔

امام ابو بکر بزارl نے اپنی ’’مسند‘‘[28] میں ایک روایت کے تحت عثمان بن عبد الرحمن کو ’’لين الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ صالح جزرہl  فرماتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث، وعلي بن عروة أكذب منه‘‘[29]. وقَّاصی حدیث گھڑتا تھا، اور علی بن عروہ اس سے بھی بڑا جھوٹا تھا۔ 

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[30]میں عثمان بن عبد الرحمن کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔

نیز امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتےہیں: ’’ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[31]. وقّاصی ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا۔

حافظ زکریا ساجیl وقَّاصی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يحدث بأحاديث بواطيل‘‘[32]. یہ باطل احادیث بیان کرتا ہے۔

حافظ ابو القاسم عبداللہ بن احمد بلخی l نے ’’قبول الأخبار‘‘[33] میں وقَّاصی کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[34]  میں فرماتے ہیں:  ’’كان ممن يروي عن الثقات الأشياء الموضوعات، لا يجوز الاحتجاج به‘‘. وقَّاصی ان لوگوں میں سے ہے جو ثقات کے انتساب سے من گھڑت اشیاء روایت کرتے ہیں، اس کی احادیث سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابن  عدیl ’’الکامل‘‘[35] میں فرماتے ہیں: ’’ولعثمان غير ما ذكرت من الحديث، وعامة أحاديثه مناكير، إما إسنادا وإما متنا‘‘. اور عثمان کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں، اور اس کی احادیث میں عام طور سے مناکیر ہیں، اسناد کے اعتبار سے یا متن کے اعتبار سے۔

حافظ ابو احمدحاکمl نے عثمان بن عبد الرحمن کو ’’متروک الحدیث‘‘کہا ہے[36]۔

حافظ دار قطنیl نے اپنی ’’سنن‘‘[37] میں ایک روایت کے تحت عثمان وقَّاصی کو ’’متروک الحديث‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[38] میں ایک حدیث کے تحت وقّاصی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عبد الحق اشبیلیl نے’’الأحكام الوسطى‘‘[39]میں اسے ’’متروک‘‘ قرار دیا ہے۔

حافظ ذہبی l نے’’میزان الاعتدال‘‘[40] میں عثمان بن عبد الرحمن کو ’’ليس بثقة‘‘ اور ’’سير أعلام النبلاء‘‘[41] میں ’’متروك الحديث‘‘کہا ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے متروک قرار دیا ہے۔

حافظ ابن قیم الجوزیہ l ’’زاد المعاد‘‘[43] میں فرماتے ہیں: ’’متروك بإجماعهم‘‘. باجماع محدثین متروک ہے۔

حافظ جمال الدین زیلعی l ’’نصب الراية‘‘[44] میں وقّاصی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أجمعوا على ترك الاحتجاج به‘‘. محدثین نے اس سے احتجاج کے ترک پر اجماع کیا ہے۔

حافظ ابن ملقن l نے ’’البدر المنير‘‘[45] میں اسے ’’واهي‘‘کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[46] میں ایک روایت کے تحت عثمان بن عبد الرحمن وقّاصی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’إتحاف المهرة‘‘[47] میں عثمان بن عبد الرحمن کو’’ضعيف جدا‘‘ اور ’’تلخيص الحبير‘‘[48]میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

نیز حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’تقريب التهذيب‘‘[49] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، وكذبه ابن معين‘‘. متروک ہے،ابن معینl نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔

حافظ بدر الدین عینی l ’’البناية‘‘[50] میں ایک روایت کے تحت عثمان وقَّاصی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أجمعوا على ترك الاحتجاج به‘‘. محدثین نے اس سے احتجاج کے ترک پر اجماع کیا ہے۔

علامہ ابن عراق l’’تنزيه الشريعة‘‘[51] میں عثمان بن عبد الرحمن وقّاصی کووضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال يحيى مرة: يكذب، وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الثقات‘‘. ایک مرتبہ یحیی l نے فرمایا: یہ جھوٹ بولتا ہے، اور ابن حبانl فرماتے ہیں: یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔

حوالہ جات

[16] امام بخاریl نے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن وقاصی  کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۶0ھ سے 1۷0ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/۱۳۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[17] سؤالات ابن الجنيد:ص:334،رقم:۲۴۵،ت:أحمد محمد نور سيف،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[18] تاريخ بغداد:13/15۶،رقم:6004ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .

[19] تمييز ثقات المحدثين وضعفائهم وأسمائهم وكناهم:ص:64،رقم:180،ت:عامر حسن صبري التميمي، دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴31هـ .

[20] التاریخ الکبیر:6/77،رقم:8341،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[21] التاريخ الصغير:2/148،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[22] أحوال الرجال:ص:217،رقم:۲15،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[23]  الكنى والأسماء:1/569،رقم:2310،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1404هـ .

[24] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/305،رقم:1934،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[25]  الجرح التعديل:۶/۱۵۷،رقم:865 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .

[26] المعرفة والتاريخ:3/50،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[27] تهذيب التهذيب:7/134،رقم:279،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[28] البحر الذخار المعروف بمسند البزار:7/25،رقم:2572،ت:محفوظ الرحمن زين الله،مكتبة العلوم والحكم ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1415هـ .

[29] تاريخ دمشق:43/91،ت:رقم:4986محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة1416هـ .

[30]  الضعفاء والمتروكين:ص:21۵،رقم:418،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[31] تهذيب التهذيب:7/134،رقم:279،دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[32] إكمال تهذيب الكمال:9/165،رقم:3630ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[33] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/370،رقم:973،ت:أبي عمرو الحسيني بن عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .

[34] المجروحين:2/98 ،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[35] الكامل في ضعفاء الرجال:6/27۷،رقم:1321،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[36] إكمال تهذيب الكمال:9/165،رقم:3630،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[37]  سنن الدار قطني:4/207،رقم:3338،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1424هـ .

[38] ذخيرة الحفاظ:3/1443،رقم:3165،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴16هـ .

[39] الأحكام الوسطى:۳/۱۳۷،ت:حمدي السلفي وصبحي السامرائي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة۱۴16هـ .

[40] ميزان الاعتدال:۳/44،رقم:۶۳۳۷،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[41]  سير أعلام النبلاء:9/428،رقم:154،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ .

[42] ديوان الضعفاء:ص:270،رقم:2770،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[43] زاد المعاد في هدي خير العباد:۵/۳۲۸،ت:شعيب الأرنؤوط وعبد القادر الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الثالثة۱۴18هـ .

[44] نصب الراية:۱/۳۵۶،ت:محمد عوامة،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .

[45] البدر المنير:7/205،ت:أبو محمد عبد الله بن سلمان،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .

[46] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد :۴/۹۳،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربيي ـ بيروت .

[47] إتحاف المهرة:17/243،رقم:22186،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1417هـ .

[48] تلخيص الحبير:2/324،ت:أبو عاصم حسن بن عباس ،مؤسسة قرطبة ـ  مكة،الطبعة الأولى1416هـ .

[49] تقريب التهذيب:ص:۳۸۵،رقم:۴۴۹۳،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[50] البناية شرح الهداية:۲/۲۰۲،ت:أيمن صالح شعبان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۰هـ .

[51] تنزيه الشريعة:1/۸۴ ،رقم:۲۵۰،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ