اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’سورۂ یاسین کا نام تورات میں معمہ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کےلئے دنیا وآخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے، اور یہ دنیا وآخرت کی مصیبت کو دور کرتی ہے، اور آخرت کی ہَول کو دور کرتی ہے، اس سورت کا نام رافعہ خافضہ بھی ہے یعنی مؤمنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی‘‘۔
نیز اس میں یہ مضمون بھی ہے: ’’سورۂ یاسین کا سننا اللہ کے راستے میں بیس دینار خرچ کرنے کے برابر ہے، اور اس کا پڑھنا بیس حج کرنے کے برابر ہے، جس نے سورۂ یاسین لکھ کر اس کا پانی پی لیاتو یہ پڑھنے والے کے سینے میں ہزار یقین، ہزار نور، ہزار برکتیں، ہزار رحمتیں اور ہزار رزق داخل کرے گی، اور یہ سورت اس سے ہر قسم کی کھوٹ اور بیماری نکال دے گی‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجودراوی ابو جعفر احمد بن ہارون بن موسی بلدی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[52] میں احمد بن ہارون کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان يقرئ في جامع حران، كان يخرج لنا نسخا لشيوخ الجزيرة المتقدمين مثل عبد الكريم، وخُصَيْف، وسالم الأفطس، وعبد الوهاب بن بُخْت وغيرهم عن شيوخ له نسخ موضوعة مناكير، ليس عند أحد منها شيء، كنا نتهمه بوضعها، وسمعت أبا عروبة يقول: يتهم هذا الرجل بوضع هذه النسخ، وكان يضعفه‘‘.
یہ جامع حران میں پڑھاتا تھا، مقام جزیرہ کے متقدمین شیوخ کے نسخے ہمارے لئے نکالتا تھا، جیسے: عبد الکریم، خُصَیْف، سالم افطس، عبد الوہاب بن بُخْت، اور ان کے علاوہ ان کے شیوخ کے حوالے سے اس کے پاس من گھڑت، منکر نسخے تھے، جبکہ ان شیوخ میں سے کسی ایک سے بھی ان مرویات میں سے کچھ نہیں ہے، ہم ان نسخوں کے گھڑنے میں اس کو متہم سمجھتے ہیں، اور میں (ابن عدیl) نے ابو عروبہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ شخص (احمد بن ہارون) ان نسخوں کے گھڑنے میں متہم ہے اور وہ اس کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
حافظ ابن جوزیl نے ’’الضعفاء‘‘[53] میں، حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[54] ، ’’ديوان‘‘[55] اور ’’المغني‘‘[56] میں اور علامہ سبط ابن عجمیl نے ’’الكشف الحثيث‘‘[57] میں حافظ ابن عدی l کے قول کو نقل کرنےپر اکتفاء کیا ہے۔
نیز حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[58] میں احمد بن ہارون کی چند احادیث تخریج کرنے کے بعد مزید فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث التي ذكرتها مع أحاديث أخرى له ونسخ موضوعة لم أذكرها لكثرتها عندي، وهو بين الأمر في الضعف، وكان يخرج إلينا تصانيف، وحديثا من نسخ الخراسانيين، مثل سالم الأفطس وغيرهم عجائب‘‘. اور یہ احادیث جو میں نے ذکر کی ہیں ان کے علاوہ بھی میرے پاس اس کی احادیث اور گھڑے ہوئے نسخے ہیں جن کو میں نے کثرت کی وجہ سے ذکر نہیں کیا ہے، اور ضعف میں اس کا معاملہ واضح ہے، اور یہ ہمارے پاس تصانیف اور خراسانیین کی حدیث کے نسخے لاتا تھا، جیسے: سالم افطس وغیرہ کے عجائب۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[59] میں حافظ ابن عدی l کے اس کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[60] میں احمد بن ہارون کو ’’ كذاب، متهم‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[61] میں احمد بن ہارون کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’ كذاب، متهم بوضع الحديث‘‘. کذاب ہے، حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔
حوالہ جات
[52] الكامل:1/۳۳۳،رقم:۴۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[53] الضعفاء والمتروكين:1/91،رقم:268،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[54] ميزان الاعتدال:۱/۱۶۲،رقم:۶۴۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[55] ديوان الضعفاء:1/11،رقم:118،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة،الطبعة 1387هـ .
[56] المغني في الضعفاء:۱/۹۷،رقم:۴۸۰،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[57] الكشف الحثيث:ص:۵۹، رقم:۱۰۴،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[58] الكامل:1/۳۳۴،رقم:۴۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[59] لسان الميزان:۱/۶۸۷،رقم:۸۸۸ ،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[60] المغني في الضعفاء:۱/۹۷،رقم:۴۸۰،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[61] تنزيه الشريعة:۱/۳۵،رقم:۲۳۶،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۰۱هـ .