التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو علی اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ بغدادی تیمی

2 روایات میں تذکرہ

ابو علی اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ بغدادی تیمی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو علی اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ بغدادی تیمی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ صالح بن محمد جزرہ lفرماتے ہیں: ’’كان يضع الحديث‘‘[10]. یہ حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ازدی lفرماتے ہیں: ’’ركن من أركان الكذب، لا تحل الرواية عنه‘‘[11]. یہ جھوٹ کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[12] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الثقات، وما لا أصل عن الأثبات، لا يحل الرواية عنه، ولا الاحتجاج به بحال‘‘.یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے، اور اثبات کے انتساب سے بے اصل روایات نقل کرتا ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے کسی حالت میں احتجاج کرنا حلال ہے۔

حافظ ابو علی حسین بن علی بن یزید نیشا پوری lنے اسماعیل بن یحیی تیمی کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[13]۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[14] میں اسماعیل بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن الثقات بالبواطيل، يحدث عن شعبة و[عن] الثوري ومسعر، وابن جريج وغيرهم‘‘. یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا تھا، شعبہ، ثوری، مسعر، ابن جریج اور ان کے علاوہ کے انتساب سے روایات نقل کرتا تھا۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[15] میں اسماعیل بن یحیی کی چند احادیث ذکر کرکے مزید فرماتے ہیں: ’’ولإسماعيل بن يحيى غير ما ذكرت، وعامة ما يرويه من الحديث بواطيل عن الثقات، وعن الضعفاء‘‘. اور اسماعیل بن یحیی کی میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اکثر یہ ثقہ اور ضعیف راویوں کے انتساب سے بواطیل نقل کرتا ہے۔

حافظ دارقطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[16] میں اسماعیل بن یحیی کو ’’متروك، كذاب‘‘ کہا ہے۔

 حافظ دارقطنیl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’يكذب على مالك، والثوري، وغيرهما‘‘[17]. اسماعیل بن یحیی، مالک، ثوری اور ان کے علاوہ پر جھوٹ بولتا تھا۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[18] میں اسماعیل بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن مالك بن أنس، ومسعر بن كدام، وابن أبي ذئب وغيرهم أحاديث موضوعة‘‘. اس نے مالک بن انس، مسعر بن کدام اور ابن ابی ذئب وغیرہ کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں۔

امام حاکم نیشاپوری l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’أجمعت الأمة على أن التيمي كذاب‘‘[19]. امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ تیمی کذاب ہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند‘‘[20] میں فرماتے ہیں: ’’عن مسعر ومالك حدث بالموضوعات، يشمئز القلب وينفر من حديثه، متروك‘‘. اسماعیل بن یحیی نے مسعر اور مالک کے انتساب سے من گھڑت احادیث  روایت کی ہیں، اس کی حدیث سے دل منقبض ہوتا ہے، متنفر ہوتا ہے، یہ متروک ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l ایک مقام پر اسماعیل بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا، سيء الحال جدا‘‘[21]. اور یہ ضعیف ہے، سیء الحال جداً ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[22] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وإسماعيل كان كذابا‘‘. اور اسماعیل کذاب تھا۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[23] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وإسماعيل هذا يروي الموضوعات [عن الثقات]، وما لا أصل له‘‘. اور یہ اسماعیل ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت اور بے اصل روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘ میں ایک مقام پر اسماعیل بن یحیی کو ’’متروك الحديث‘‘[24] اور دوسرے مقام پر ’’لاشيء في الحديث‘‘[25] کہا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[26] میں لکھتے ہیں: ’’متروك كأبيه‘‘. اسماعیل بن یحیی اپنے والدکی طرح متروک (راوی)  ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبي سنان الشيباني، وابن جريج، ومسعر بالأباطيل‘‘. ابو سنان شیبانی، ابن جریج اور مسعر کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔

چند سطروں کے بعد فرماتے ہیں: ’’مجمع على تركه‘‘. اس کے ترک پر اجماع  ہے۔

نیز حافظ ذہبی l ’’تلخيص الموضوعات‘‘[28] میں ایک روایت کے تحت اسماعیل بن یحیی تیمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’آفته إسماعيل بن يحيى‘‘. اس کی آفت اسماعیل بن یحیی ہے۔

حافظ ہیثمی l ’’مجمع الزوائد‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت اسماعیل بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كذاب، لا تحل الرواية عنه‘‘. کذاب ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔

نیز حافظ ہیثمی l ہی ’’مجمع الزوائد‘‘[30] میں ایک دوسرے مقام پر ایک روایت کے تحت تیمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كان يضع الحديث‘‘. یہ حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الإصابة‘‘[31] میں اسماعیل بن یحیی تیمی کو ’’أحد الكذابين‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[32] میں اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حوالہ جات

[10] ميزان الاعتدال:۱/۲۵۳،رقم:۹۶۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[11] ميزان الاعتدال:۱/۲۵۳،رقم:۹۶۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[12] المجروحين:1/1۲۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[13] تاريخ بغداد:7/223،رقم:3237،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ  بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[14] الكامل في ضعفاء الرجال:1/491،رقم:1۲۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[15] الكامل في ضعفاء الرجال:1/۵۰۱،رقم:1۲۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[16] الضعفاء والمتركون:ص: 137،رقم:81،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[17] لسان الميزان:2/182،رقم:1259،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى 1۴۲۳هـ .

[18] المدخل إلى الصحيح:ص:۱17،رقم:8 ،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[19] سؤالات مسعود بن علي السجزي للحاكم:ص:248،رقم:335،ت:موفق بن عبد الله،دار الغرب الإسلامي ـ بیرت،الطبعة الأولى1408هـ .

[20] المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم:1/۵۸،رقم:۱۲،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[21] انظركتاب الموضوعات:۲/۹۰،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1386هـ .

[22] تاريخ بغداد:2/206،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[23] تذكرة الحفاظ:ص:273،رقم:676،ت:حمدي بن عبد المجيد بن اسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ . 

[24] ذخيرةالحفاظ:2/1000،رقم:2087،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[25] ذخيرةالحفاظ:3/1624،رقم:3615،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[26] ديوان الضعفاء:ص:38،رقم:455،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة،الطبعة 1387هـ .

[27] ميزان الاعتدال:۱/۲۵۳،رقم:۹۶۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[28] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:52،رقم:103،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[29] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:9/240،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[30] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱/۱۰۶،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[31] الإصابة في تمييز الصحابة:۵/274،رقم:6983،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .

[32] تنزيه الشريعة:1/۴۰،رقم:۳۰۵،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو علی اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ بغدادی تیمی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ صالح بن محمد جزرہ lفرماتے ہیں: ’’ كان يضع الحديث ‘‘[9]. یہ حدیث گھڑتا ہے۔

حافظ ازدی lفرماتے ہیں: ’’ركن من أركان الكذب، لا تحل الرواية عنه‘‘[10]. یہ جھوٹ کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[11] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي الموضوعات عن الثقات، وما لا أصل عن الأثبات، لا يحل الرواية عنه، ولا الاحتجاج به بحال‘‘.یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت روایات نقل کرتا ہے، اور اثبات کے انتساب سے بے اصل روایات نقل کرتا ہے، اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے کسی حالت میں احتجاج کرنا حلال ہے۔

حافظ ابو علی حسین بن علی بن یزید نیشا پوری lنے اسماعیل بن یحیی تیمی کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[12]۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[13]میں اسماعیل بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن الثقات بالبواطيل، يحدث عن شعبة و[عن] الثوري ومسعر، وابن جريج وغيرهم‘‘. یہ ثقہ راویوں کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا تھا، شعبہ، ثوری، مسعر، ابن جریج اور ان کے علاوہ کے انتساب سے روایات نقل کرتا تھا۔

حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[14]میں اسماعیل بن یحیی کی چند احادیث ذکر کرکے مزید فرماتے ہیں: ’’ولإسماعيل بن يحيى غير ما ذكرت، وعامة ما يرويه من الحديث بواطيل عن الثقات وعن الضعفاء‘‘. اور اسماعیل بن یحیی کی میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اکثر یہ ثقہ اور ضعیف راویوں کے انتساب سے بواطیل نقل کرتا ہے۔

حافظ دارقطنیl نے ’’ الضعفاء‘‘[15] میں اسماعیل بن یحیی کو’’متروك، كذاب‘‘ کہا ہے۔

 حافظ دارقطنیl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’يكذب على مالك، والثوري، وغيرهما‘‘[16]. اسماعیل بن یحیی، مالک، ثوری اور ان کے علاوہ پر جھوٹ بولتا تھا۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[17] میں فرماتے ہیں:  ’’روى عن مالك بن أنس، ومسعر بن كدام، وابن أبي ذئب وغيرهم أحاديث موضوعة‘‘. اس نے مالک بن انس، مسعر بن کدام اور ابن ابی ذئب وغیرہ کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[18] میں فرماتے ہیں: ’’عن مسعر ومالك حدث بالموضوعات، يشمئز القلب وينفر من حديثه، متروك‘‘. اسماعیل بن یحیی نے مسعر اور مالک کے انتساب سے من گھڑت احادیث  روایت کی ہیں، اس کی حدیث سے دل منقبض ہوتا ہے، متنفر ہوتا ہے، یہ متروک ہے۔

حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[19] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وإسماعيل كان كذابا‘‘. اور اسماعیل کذاب ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[20] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وإسماعيل هذا يروي الموضوعات [عن الثقات] وما لا أصل له‘‘. اور یہ اسماعیل ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت اور بے اصل روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[21] میں لکھتے ہیں: ’’متروك كأبيه‘‘. اسماعیل بن یحیی اپنے والدکی طرح متروک راوی  ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبي سنان الشيباني، وابن جريج، ومسعر بالأباطيل‘‘. ابو سنان شیبانی، ابن جریج اور مسعر کے انتساب سے باطل روایات نقل کرتا ہے۔

چند سطروں کے بعد فرماتے ہیں: ’’مجمع على تركه‘‘. اس کے ترک پر اجماع  ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[23] میں اسماعیل بن یحیی بن عبید اللہ  کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔

حوالہ جات

[9] ميزان الاعتدال:۱/۲۵۳،رقم:۹۶۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[10] ميزان الاعتدال:۱/۲۵۳،رقم:۹۶۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[11] المجروحين:1/1۲۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[12]  تاريخ بغداد:7/223،رقم:3237،ت:بشار عواد، دار الغرب الإسلامى ـ  بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .

[13] الكامل:1/491،رقم:1۲۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[14] الكامل:1/۵۰۱،رقم:1۲۹،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[15] الضعفاء والمتركون:ص: 137،رقم:81،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[16] لسان الميزان:2/182،رقم:1259،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى 1۴۲۳هـ .

[17] المدخل إلى الصحيح:ص:۱17،رقم:8 ،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1404هـ .

[18] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/۵۸،رقم:۱۲،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[19] تاريخ بغداد:2/206،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[20] تذكرة الحفاظ:ص:273،رقم:676،ت:حمدي بن عبد المجيد بن اسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ . 

[21] ديوان الضعفاء:ص:38،رقم:455،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة،الطبعة 1387هـ .

[22] ميزان الاعتدال:۱/۲۵۳،رقم:۹۶۵،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[23] تنزيه الشريعة:1/۴۰،رقم:۳۰۵،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ