اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’سورۂ یاسین کا نام تورات میں معمہ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کےلئے دنیا وآخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے، اور یہ دنیا وآخرت کی مصیبت کو دور کرتی ہے، اور آخرت کی ہَول کو دور کرتی ہے، اس سورت کا نام رافعہ خافضہ بھی ہے یعنی مؤمنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی‘‘۔
نیز اس میں یہ مضمون بھی ہے: ’’سورۂ یاسین کا سننا اللہ کے راستے میں بیس دینار خرچ کرنے کے برابر ہے، اور اس کا پڑھنا بیس حج کرنے کے برابر ہے، جس نے سورۂ یاسین لکھ کر اس کا پانی پی لیاتو یہ پڑھنے والے کے سینے میں ہزار یقین، ہزار نور، ہزار برکتیں، ہزار رحمتیں اور ہزار رزق داخل کرے گی، اور یہ سورت اس سے ہر قسم کی کھوٹ اور بیماری نکال دے گی‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی سلیمان بن مرقاع کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[84] میں لکھتے ہیں: ’’منكر الحديث، ولا يتابع عليه في حديثه‘‘. سلیمان بن مرقاع منکر الحدیث ہے اور حدیث میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
اس کے بعد حافظ عقیلی l نے سلیمان بن مرقاع کی دو احادیث نقل کرکے اُنہیں منکر کہا ہے، ان میں ایک زیر بحث روایت بھی ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’میزان‘‘[85]،’’ديوان‘‘[86] اور ’’المغني‘‘[87] میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان المیزان‘‘[88] میں حافظ عقیلیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن جوزیl نے ’’الضعفاء‘‘[89] میں سلیمان بن مرقاع کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[84] الضعفاء الكبير:۲/۱۴۳رقم:۶۳۷،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[85] ميزان الاعتدال:۲/۲۲۲،رقم:۳۵۰۹،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .
[86] ديوان الضعفاء:1/175،رقم:455،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة،الطبعة 1387هـ .
[87] المغني في الضعفاء:۱/۴۴۴،رقم:۲۶۲۲،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[88] لسان الميزان:۳/۱۷۵،رقم:۳۶۴۶،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .
[89] الضعفاءوالمتروكين:۲/۲۴،رقم:۱۵۴۵،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .