اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنی اہلیہ سے ہمبستر ہو اور وہ یہ نیت کرے کہ اگر یہ حاملہ ہوگئی تو میں اس بچے کا نام محمد رکھوں گا، تو اللہ اسے لڑکا عطا فرمائیں گے، اور جس گھر میں محمد نام کا شخص ہوگا اللہ اس گھر میں خیر وبرکت فرمائیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی ابو البَخْتری وہب بن وہب بن کثیر بن عبد اللہ بن زمعہ بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب قرشی مدنی قاضی (المتوفی ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عبد الرحمن بن ابراہیم دحیمl فرماتے ہیں: ’’قال شعيب بن إسحاق: كذابا هذه الأمة وهب بن وهب، ورجل آخر [سماه]‘‘[57]. اس امت کے دو جھوٹے ہیں: وہب بن وہب اور ایک دوسرا شخص، (دحیم l فرماتے ہیں) شعیب بن اسحاق l نے اس دوسرے شخص کا نام بھی ذکر کیا۔
حافظ ابو بکر بن عیاشlفرماتے ہیں: ’’لم يكن بصاحب حديث‘‘[58]. وہب بن وہب صاحبِ حدیث نہیں ہے۔
حافظ ابن سعدl ’’الطبقات الکبرى‘‘[59] میں وہب بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن في الحديث بذاك، روى منكرات، فترك حديثه‘‘. یہ ’’لم یکن فی الحدیث بذاک‘‘ہے، اس نے منکرات روایت کی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی حدیث کو ترک کردیا گیا ہے۔
حافظ یحیی بن معین l ’’معرفة الرجال‘‘[60]میں ابو البَخْتری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كذاب، عدو الله، خبيث‘‘. کذاب ہے، اللہ کا دشمن ہے، خبیث ہے۔
حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث‘‘[61]. یہ حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ یحیی بن معین l ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’كان يأخذ بيتا، فيتذكر عامة الليل يضع الحديث‘‘[62]. وہب بن وہب شب کو جاگ کر، رات کے اکثر حصہ میں سوچ سوچ کر حدیث گھڑتا تھا۔
نیز حافظ یحیی بن معین l ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’كان يكذب على الرسول صلى الله عليه وسلم‘‘[63]. یہ رسول ﷺ پر جھوٹ بولا کرتا تھا۔
حافظ ابو خیثمہl فرماتے ہیں: ’’لو اجتريت أن أقول لأحد: إنه يكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، لقلت: أبو البَخْتَري‘‘[64]. اگر میں جرأت کرتے ہوئے کسی کے بارے میں یہ کہوں: یہ رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولتا ہے، تو میں کہوں گا: وہ ابو البختری ہے۔
حافظ اسحاق بن راہویہl فرماتے ہیں: ’’كان كذابا‘‘[65]. وہب بن وہب جھوٹا تھا۔
حافظ عثمان بن ابی شیبہl وہب بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ذاك دجالا، أرى أنه يبعث يوم القيامة دجالا‘‘[66]. یہ دجال ہے، اور میرا خیال ہے کہ قیامت کے دن یہ دجال اٹھایا جائے گا۔
امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’أبو البَخْتَري أكذب الناس‘‘[67].ابو البَخْتری انسانوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہے۔
علامہ ابو طالب احمد بن حمید مُشْکانیl فرماتے ہیں: ’’سمعت أحمد بن حنبل يقول: كان أبو البَخْتَري يضع الحديث وضعا فيما يروى، وأشياء لم يروها أحد، قلت: الذي كان قاضيا؟ قال: نعم، وكنت عند أبي عبد الله وجاءه رجل فسلم عليه، وقال: أنا من أهل المدينة، وقال: يا أبا عبد الله! كيف كان حديث أبي البَخْتَري؟ فقال: كان كذابا يضع الحديث، فقال: أنا ابن عمه لحًّا، قال أبو عبد الله: الله المستعان، ولكن ليس في الحديث محاباة‘‘[68].
میں نے احمد بن حنبل l کو فرماتے ہوئے سنا: ابو البَخْتری ایسی چیزوں سے متعلق احادیث گھڑتا ہے جو منقول ہیں اور ایسی اشیاء جو کسی نے بھی روایت نہیں کیں، میں نے کہا: یہ وہی ہے جو قاضی تھا؟ احمد بن حنبل l نے فرمایا: جی ہاں، اور میں (علامہ ابو طالب مشکانیl) ابو عبد اللہ کے پاس تھا ایک شخص آیا، اس نے سلام کیا، اور کہا: میں مدینہ والوں سے ہوں، اور کہا: اے ابو عبد اللہ! ابو البَخْتری کی حدیث کیسی ہے؟ احمد بن حنبل l نے فرمایا: وہ کذاب ہے، حدیث گھڑتا ہے، تو وہ شخص کہنے لگا: میں اس کا قریبی چچا زاد ہوں، ابو عبد اللہ نے فرمایا: اللہ مدد کرے، لیکن حدیث میں باہمی محبت نہیں ہے۔
حافظ ابراہیم بن اسحاق حربیl فرماتے ہیں: ’’ما سمعت أحمد بن حنبل يقول في رجل كذاب إلا في أبي البَخْتَري، يعني: القاضي‘‘[69]. میں نے احمد بن حنبل l کو کسی شخص کے بارے میں کذاب کہتے ہوئے نہیں سنا، سوائے ابو البَخْتری یعنی قاضی کے۔
حافظ عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’كان يكذب، ويحدث بما ليس له أصل‘‘[70]. وہب بن وہب جھوٹ بولتا تھا، اور ایسی احادیث روایت کرتا تھا جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی تھی۔
امام بخاری l ’’التاریخ الکبیر‘‘[71] میں وہب بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’سكتوا عنه، كان وكيع يرمي بالكذب‘‘. محدثین نے اس سے سکوت کیا ہے، اور وکیع lنے اسے جھوٹ میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب سعدیl ’’أحوال الرجال‘‘[72] میں ابو البَخْتری کے بارے میں فرماتے ہیں ’’كان يكذب‘‘. جھوٹ بولتا تھا۔
امام مسلمl نے ’’الكنى‘‘[73] میں وہب بن وہب کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو زرعہ رازیl نے اسے ’’كذاب‘‘کہا ہے[74]۔
حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعدیل‘‘[75] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت أبا زرعة، وذكرت له شيئا من حديث أبي البَخْتَري فقال: لا تجعل في حوصلتك شيئا من حديثه‘‘. میں نے ابو زرعہ l سے سنا، اور میں نے ابو البَخْتری کی حدیث میں سے کچھ ذکر کیا تو فرمایا: تم اپنے پوٹے میں ابو البَخْتری کی احادیث میں سے کچھ مت رکھو۔
حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’كان كذابا‘‘[76]. وہب بن وہب جھوٹا تھا۔
امام نسائیl نے ’’الضعفاء‘‘[77] میں ابو البَخْتری کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
قاضی وکیع ابو بکر محمد بن خلف ضبی l ’’أخبار القضاة‘‘[78] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف جدا، لا يكتب حديثه، ولكنه كان جوادا‘‘. شدید ضعیف ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی، لیکن وہ سخی تھا۔
فقیہ ابو الطیب محمد بن مفضل بن سلمہ ضبی بغدادی lفرماتے ہیں: ’’لما قدم أبو البَخْتَري الكوفة يريد بغداد، حدثهم بالكوفة بنسخة هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، وبنسخة عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، فحملت النسختان إلى يحيى بن معين، فنظر فيهما، فقيل له: ما تقول؟ قال: كذاب، ولم يكن تبين له منه كذب، فقيل له: رأيته أو رأيت له كتابا قط؟ قال: [رأيت له كتابين]، قيل له: فرأيت في النسختين حديثا منكرا؟ قال: لا، فقيل له: فمن أين قلت [له] إنه كذاب؟ قال: لأن كل من كتب عن هشام بن عروة، قال: هشام يقول: أبي، عن عائشة إلا يحيى القطان، فكان يقول: أخبرك أبوك؟ فيقول له: أخبرني أبي، وكل من كتب عن عبيد الله كان عبيد الله يقول: نافع إلا يحيى القطان، فكان يقول لعبيد الله: أخبرني نافع، فيقول له: أخبرني نافع، في كل حديث، فرأيت أبا البختري حدث بالنسختين كما حدث بهما يحيى القطان، (فقلت:) إنه كذاب‘‘[79].
جب ابو البَخْتری کوفہ آیا، وہ بغداد جانے کا اردہ رکھتا تھا، تو اس نے کوفہ میں ہشام بن عروہ، عن ابیہ، عن عائشہ کے نسخے سے حدیثیں بیان کیں، اور عبید اللہ بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر کے نسخے سے حدثیں بیان کیں، وہ دونوں نسخے یحیی بن معین l کے پاس لے جائے گئے تو انہوں نے ان دونوں نسخوں کو دیکھا، ان سے پوچھا گیا: آپ کیا کہتے ہیں؟ یحیی بن معین l نے فرمایا: یہ کذاب ہے، حالانکہ ان کے سامنے اس کا جھوٹ ظاہر نہیں ہوا تھا، ان سے پوچھا گیا: آپ نے اسے یا اس کی کوئی کتاب دیکھی ہے؟ تو فرمایا: میں نے اس کی دو کتابیں دیکھی ہیں، ان سے کہا گیا: آپ نے دونوں نسخوں میں کوئی منکر حدیث دیکھی، فرمایا: نہیں، ان سے پوچھا گیا: پھر آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ یہ کذاب ہے؟ تو یحیی بن معین l نے فرمایا: وجہ یہ ہے کہ جس نے بھی ہشام بن عروہ سے لکھا ہے تو وہ کہتا ہے: ہشام کا کہنا ہے کہ میرے والد نے عائشہ R سے روایت کیا، سوائے یحیی قطان l کے، وہ کہتے تھے: تمہیں تمہارے والد نے خبر دی ہے؟ تو وہ یحیی قطان l سے کہتا: مجھے میرے والد نے خبر دی ہے، اور جو شخص عبید اللہ سے روایت کرتا ہے، وہ کہتا ہے: عبید اللہ، نافع کہتے تھے، سوائے یحیی قطان l کے، وہ عبید اللہ سے کہتے تھے: مجھے نافع نے خبر دی ہے، تو عبید اللہ ہر حدیث میں یحیی قطان l سے کہتے: مجھے نافع نے خبر دی ہے، پھر جب میں نے دیکھا کہ اس نے دونوں نسخے ایسے بیان کئے ہیں جیسے یحیی قطان l نے بیان کئے تھے تو میں نے کہہ دیا کہ یہ کذاب ہے۔
حافظ ابن جارودl فرماتے ہیں ’’كذاب خبيث، كان عامة الليل يضع الحديث‘‘[80]. جھوٹا ہے، خبیث ہے، رات کے اکثر حصہ میں حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[81] میں ابو البَخْتری کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’لا أعلم لأبي البَخْتَري حديثا مستقيما، كلها بالبواطيل‘‘. میں نہیں جانتا کہ ابو البَخْتری کی کوئی درست حدیث ہو، اس کی تمام کی تمام احادیث باطل ہیں۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ممن يضع الحديث على الثقات، كان إذا جنه الليل سهر عامة ليله يتذكر الحديث ويضعه، ثم يكتبه ويحدث به، لا تجوز الرواية عنه ولا كتابة حديثه إلا على جهة التعجب‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ثقہ راویوں پر احادیث گھڑتے ہیں، جب رات کو تاریکی چھا جاتی تو یہ رات کا اکثر حصہ جاگ کر حدیثیں سوچ سوچ کر گھڑتا تھا، پھر انہیں لکھتا اور بیان کرتا تھا، اس سے روایت کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی حدیث کو لکھنا جائز ہے، سوائے تعجب کے۔
حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[83] میں فرماتے ہیں: ’’وأبو البَخْتَري جسور من جملة الكذابين الذين يضعون الحديث، وكان يجمع في كل حديث يريد أن يرويه أسانيد من جسارته على الكذب، ووضعه على الثقات‘‘. اور من جملہ حدیث گھڑنے والوں، جھوٹ بولنے والوں میں ابو البَخْتری سب سے زیادہ جسارت کرنے والا ہے، اور وہ جھوٹ میں جسارت کی وجہ سے جس حدیث کو روایت کرناچاہتا اس کے ساتھ سندیں جوڑ کر اسے ثقہ لوگوں پر گھڑ دیتا تھا۔
حافظ ابن عدیl ’’الکامل‘‘[84] میں مزید فرماتے ہیں: ’’ولأبي البَخْتَري من الحديث عن الثقات غير ما ذكرت، وهو ممن يضع الحديث‘‘. ابو البَخْتری کی ثقات کے انتساب سے میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں، اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جو حدیث گھڑتے ہیں۔
حافظ ابو احمدحاکمl نے ’’الأسامي‘‘[85] میں وہب بن وہب کو ’’ذاهب الحديث‘‘کہا ہے۔
امام دارقطنیl نے ’’الضعفاء‘‘[86] میں وہب بن وہب کو ’’كذاب‘‘کہا ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[87] میں وہب بن وہب کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن الصادق جعفر بن محمد، وهشام بن عروة، وعبيد الله بن عمر، ومحمد بن عجلان وغيرهم من أهل المدينة أحاديث موضوعة، لا ينبغي أن يكتب حديثه‘‘. وہب بن وہب نے صادق جعفر بن محمد، ہشام بن عروہ، عبید اللہ بن عمر، محمد بن عجلان اور ان کے علاوہ اہل مدینہ کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں، مناسب نہیں ہے کہ اس کی حدیث کو لکھا جائے۔
حافظ ابونعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[88] میں فرماتے ہیں: ’’لايكتب حديثه‘‘. اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[89] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ووهب هذا كذاب، يضع الحديث‘‘. اور یہ وہب کذاب ہے، حدیث گھڑتا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[90] میں فرماتے ہیں: ’’وكان جوادا ممدحا، لكنه متهم في الحديث‘‘. سخی تھا، اس کی تعریف کی جاتی تھی، لیکن حدیث میں متہم ہے۔
حافظ ذہبی l ’’العبر‘‘[91] میں فرماتے ہیں: ’’واتهم بالكذب‘‘. یہ متہم بالکذب ہے۔
نیز حافظ ذہبیl ’’سير أعلام النبلاء‘‘[92] میں فرماتے ہیں: ’’من نبلاء الرجال، إلا أنه متروك الحديث‘‘. صاحب فضیلت لوگوں میں سے ہے، لیکن متروک الحدیث ہے۔
حافظ ابن ملقن l نے ’’البدر المنير‘‘[93] میں ابو البَخْتری کو ’’كذاب، وضاع‘‘کہا ہے۔
حافظ عراقی l نے ’’المغنی‘‘[94] میں ایک روایت کے تحت ابو البَخْتری کو ’’أحد الكذابين‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی lنے ’’فتح الباري‘‘[95] میں اسے ’’أحد الضعفاء المتروكين‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی lنے ’’تلخيص الحبير‘‘[96]میں اسے ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[97] میں ابو البَخْتری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے فرماتے ہیں: ’’قال أحمد وغيره: كذاب، وضاع‘‘. احمد l وغیرہ نے اسے کذاب، وضاع کہا ہے۔
حوالہ جات
[57] الجرح والتعدیل:9/25،رقم:۱۱۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[58] الضعفاء الكبير:4/324رقم:۱۹۲۹،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[59] الطبقات الكبرى:۷/۲۴۰،رقم:۳۴۹۱،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[60] معرفة الرجال:1/۵۱،رقم:۸ ،ت:محمد كامل القصار،مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[61] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/1۳6،رقم:۸۲۳ ،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[62] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:۱/۴۰۱،رقم:۲۷۱۷،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[63] تاريخ بغداد:15/630،رقم:7275ت:بشارعواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ.
[64] الجرح والتعدیل:9/26،رقم:۱۱۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[65] الجرح والتعدیل:9/26،رقم:116،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[66] تاريخ بغداد:15/631،رقم:7275ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[67] الجرح والتعدیل:9/26،رقم:116،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[68] الكامل في ضعفاء الرجال:8/333،رقم:1990،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[69] تاريخ بغداد:15/63۲،رقم:7275ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[70] الأسامي والكنى:2/41،رقم:۱۰۳۳،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436هـ .
[71] التاريخ الكبير:۸/۵۶،رقم:۱۱۹۱۹،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[72] أحوال الرجال:ص:229،رقم:۲۳۱،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد،باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .
[73] الكنى والأسماء:1/153،رقم:441،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1404هـ .
[74] سؤالات البرذعي لأبي زرعة:ص:3۶8،رقم:۸۶۵ ،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[75] الجرح والتعدیل:9/26،رقم:۱۱۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[76] الجرح والتعدیل:9/26،رقم:۱۱۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[77] الضعفاء والمتروكين:ص:244،رقم:605،ت:محمد إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[78] أخبار القضاة:1/244،عالم الكتب ـ بيروت .
[79] الكامل في ضعفاء الرجال:8/33۴،رقم:1990،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[80] لسان الميزان:8/402،رقم:۸۳۹۶،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .
[81] الضعفاء الكبير:4/325رقم:1929،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[82] المجروحين:3/74،ت:محمود إبراهيم زايد,دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[83] الكامل في ضعفاء الرجال:8/335،رقم:1990،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[84] الكامل في ضعفاء الرجال:8/338،رقم:1990،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[85] الأسامي والكنى:2/41،رقم:1033،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى1436هـ .
[86] الضعفاء والمتركون:384،رقم:۵۵۷،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[87] المدخل إلى الصحيح:ص:221،رقم:۲۱۳،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[88] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/157،رقم: ،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[89] ذخيرة الحفاظ:ص:1668،رقم:3738،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[90] ميزان الاعتدال:۴/۳۵۳،رقم:۹۴۳۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[91] العبر في خبر من غبر:1/261،ت:أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1405هـ .
[92] سير أعلام النبلاء:۹/۳۷۴ ،رقم:۱۲۰.،ت:إبراهيم الزيبق،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴03هـ .
[93] البدر المنير:۴/۴۶۵،ت:أبو محمد عبد الله بن سلمان،دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[94] المغنی عن حمل الأسفار:۲/۹۹۴،رقم:۳۶۲۱،ت:أبو محمد أشرف،مکتبة طبرية ـ الریاض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[95] فتح الباري:7/120،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،المكتبة السلفية .
[96] تلخيص الحبير:2/76،ت:أبو عاصم حسن بن عباس ،مؤسسة قرطبة ـ مكة،الطبعة الأولى1416هـ .
[97] تنزيه الشريعة:۱/۱۲۵،رقم:۱۷،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .