روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے، دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے، تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے، پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے‘‘۔
باب: مہینوں اور راتوں کے فضائل
محرم، صفر، رجب، شعبان اور شبِ برات وغیرہ کے مخصوص فضائل و اعمال۔
گروپ: عبادات
15 روایات
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: رجب کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، اور اس کے دن چھٹے آسمان کے دروازوں پر لکھے ہوئے ہیں، جو کوئی پرہیزگاری کے ساتھ روزہ رکھتا ہے، تو وہ دروازہ اس کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہے‘‘۔
روایت : ’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :جو شخص رمضان المبارک کی تیئسویں شب کوسورۂ عنکبوت وسورۂ روم پڑھے وہ اہل جنت میں سے ہے‘‘۔
ستائیس رجب کے روزے و نماز پرسو سال کے روزوں و نماز کا ثواب
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
’’مشہور ہے جو شخص عشرۂ محرم میں فوت ہوا اسے عشرہ کے اندر عذاب قبر نہیں ہوتا، نہ حساب ہوتا ہے‘‘، یہ بات غلط ہے۔
’’ ۲۳ رمضان کی تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم سننے سنانے والوں کا جنتی ہونا‘‘، اس مخصوص طریقہ اور مخصوص ثواب کا احادیث صحیحہ سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔
روایت: جس نے دس محرم کے دن اثمد سرمہ لگایا تواس کی آنکھ کبھی نہیں دکھے گی۔
روایت: ”شبِ برأت یعنی پندرہ شعبان میں آ پ ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے حلوہ کھایا تھا“، یہ گھڑی ہوئی بات ہے۔