روایت: ”شبِ برأت یعنی پندرہ شعبان میں آ پ ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے حلوہ کھایا تھا“، یہ گھڑی ہوئی بات ہے۔
تفصیل
”ایک روایت یہ ہے کہ اس تاریخ [شبِ برأت میں] میں دندانِ مبارک شہید ہوا تھا اور آپ ﷺ نے حلوہ کھایا تھا، اس لئے کرتے ہیں تو یہ بھی محض لغو ہے، کیونکہ یہ واقعہ شہادتِ دندان کا بھی شوال ہی میں ہوا تھا، غرض یہ باتیں بالکل گھڑی ہوئی ہیں،حضور ﷺ سے جتنا ثابت ہے اس سے صرف اس قدر ثابت ہو سکتا ہے کہ مردوں کو اس رات میں نفع پہنچاؤ، اس سے صرف اتنا نکلے گا کہ مردوں کو ثواب بانٹ دو، باقی اور پابندیاں کوئی چیز نہیں، ثواب پہنچانے کے لئے قران شریف پڑھو، نماز پڑھو، خیرات بھی چاہو کر دو، مگر حلوے کی تخصیص کیسی؟ کچا اناج بھی کافی ہے، پیسے بھی کافی ہیں ۔۔۔“[1]۔
ملتی جلتی احادیث
یہ کہنا کہ حضرت حمزہ r پندرہ شعبان کو فوت ہوئے ہیں، درست نہیں، بلکہ آپ r شوال میں فوت ہوئے ہیں۔
آج کل واعظین کا مزاج وہی ہے جو یہود کا مذاق تھا، ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو عوام کو حیرت میں ڈال دیں۔
من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
روایت : ”حضرت ہندہ R کو آپ ﷺ نے اپنی زیارت سے منع فرما دیا تھا“، بے اصل ہے۔