’’مشہور ہے جو شخص عشرۂ محرم میں فوت ہوا اسے عشرہ کے اندر عذاب قبر نہیں ہوتا، نہ حساب ہوتا ہے‘‘، یہ بات غلط ہے۔
تفصیل
’’سوال: مشہور ہے جو شخص عشرۂ محرم میں فوت ہوا اس سے [ کذا في الاصل] عشرہ کے اندر عذاب قبر نہیں ہوتا، نہ حساب ہوتا ہے، بعد دس روز کے حساب وغیرہ ہوگا، یہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب: یہ بات غلط ہے، عشرۂ محرم میں مرنے والے کے لئے یہ نہیں آیا کہ دس دن تک عذاب قبر وغیرہ نہ ہوگا، البتہ رمضان شریف میں اور جمعہ کے دن مرنے والے کے لئے یہ بشارت حدیث میں آئی ہے، فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :عشرہ محرم میں مرنے والے کی بحث،۵/۴۰۴ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
یہ درست ہے کہ مرنے کے بعد روحیں جمع ہوتی ہیں، البتہ مردہ کے خاندان کے لوگوں کا قبر میں مردہ سے مل کر، اسے تسلی دینے کا مضمون بظاہر غلط ہے۔
’’جمعہ کی شب اور جمعہ کے روزاور رمضان میں مسلمان کو عذاب قبر نہیں ہوتا، اور پیر کی روایت کوئی معلوم نہیں‘‘۔
’’نیک عالم کا قبرستان سے گذر ہوجائے تو چالیس روز تک قبر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے‘‘، یہ روایت صحیح نہیں۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔