روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے، دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے، تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے، پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے‘‘۔
حکم: علامہ مناوی l نے اس حدیث کو ’’شدید ضعیف‘‘اور اس کی اسناد کو ’’ساقط‘‘ کہا ہے، علامہ شوکا نی l نے اسے ’’باطل‘‘احادیث میں شمار کیا ہے، اور تلاش بسیار کے باوجود سند میں موجود راوی ابو بکر صیدلانی، ابو جعفر محمد بن ابی سلیم مقری اور ابو عبد اللہ عُقَیلْانی کے تراجم ہمیں کتب رجال میں نہیں مل سکے، اور محمد بن بشر کی بھی تعیین نہیں ہوسکی، نیز ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے قطع نظر کسی خاص سند کے خصوصیت کے ساتھ رجب کے روزوں کی فضیلت سے متعلق حدیث کو ’’من گھڑت‘‘، ’’غیر ثابت‘‘ اور ’’غیر صحیح‘‘ کہا ہے، الحاصل ان تمام امور کے مطابق اس روایت کو آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] فضائل شهر رجب:ص:64،رقم:10،ت:أبو يوسف عبد الرحمن بن يوسف بن عبد الرحمن آل محمد، دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1416هـ .
[2] حافظ خطیب بغدادی l’’تاریخ بغداد‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’محمد بن عبد الله أبو بكر الآبنوسي الطلاء: حدث عن محمد بن الحسن بن بدينا، روى عنه عبد الله بن أحمد بن عبد الله التمار، وذكر أنه سمع منه في جامع الرصافة‘‘. (تاريخ بغداد:3/473،رقم:1000،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیرت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ) .
[3] الأمالي1/60،رقم:25،مخطوط من الشاملة .
[4] علامہ مرتضی زبیدی l کی عبارت ملاحظہ ہے: ’’أخبرنا عبد الخالق بن أبي بكر، أخبرنا يحيى بن يحيى، أخبرنا الحافظ السخاوي، أخبرتنا أم هانىء بنت علي بن عبد الرحمن الهُوْرِيْنِيَّة، سماعا عليها في منزلها، أخبرنا الفقيه عبد الله بن محمد النشاري، أخبرنا إبراهيم بن محمد الطبري، أخبرنا أبو المظفر محمد، أخبرنا أبو البركات عبد الله بن الحسن، أخبرنا أبو منصور سعيد بن محمد بن عمر الرَزَّاز، أخبرنا أبو محمد عبد المحسن بن محمد بن علي البغدادي، أخبرنا أبو محمد الحسن بن محمد الخلال، حدثنا عبد الله بن محمد التمار، حدثنا محمد بن عبد الله الأبنوسي، حدثنا أبو بكر الصيدلاني، حدثنا أبو جعفر محمد بن أبي سليم المقرىء، حدثنا محمد بن بشر، عن حمران بن أبان مولى عثمان، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: صوم أول يوم من رجب كفارة ثلاث سنين، والثاني كفارة سنتين، والثالث كفارة سنة، ثم كل يوم شهرا‘‘. (الأمالي1/60،رقم:25،مخطوط من الشاملة) .
[5] مجموع فتاوى:25/290،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة، الطبعة1425هـ .
[6] رسالة لطيفة في أحاديث متفرقة ضعيفة:ص:59،ت:محمد عيد العباسي،دار الثقافة للجميع ـ بيروت، الطبعة الأولى1400هـ .
[7] لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف:ص:228،ت:ياسين محمد السواس،دار ابن كثير ـ دمشق،الطبعة الخامسة1420هـ .
[8] رسالة في بيان ما لم يثبت فيه حديث من الأبواب:ص:31،ت:أبو عبد الرحمن يحيي بن علي الحجوري، دار الكتاب والسنة ـ القاهرة.
[9] فيض القدير:4/210،رقم:5051 ،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .
[10] التيسير بشرح الجامع الصغير:۲/95،مكتبة الإمام الشافعي ـ الرياض .
[11] الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني:3/3212،ت:أبو مصعب محمد صبيحي بن حسن حلاق، مكتبة الجيل الجديد ـ اليمن .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: رجب کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، اور اس کے دن چھٹے آسمان کے دروازوں پر لکھے ہوئے ہیں، جو کوئی پرہیزگاری کے ساتھ روزہ رکھتا ہے، تو وہ دروازہ اس کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو ان میں رہنے والوں پر پلٹ دو، فرشتے نے عرض کیا: اے پروردگار! اس شہر میں آپ کا بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر آپ کی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالی نے فرمایا: اس شہر کو اس بندہ پر اور ان پر پلٹ دو، کیونکہ اس کے چہرے پر میری وجہ سے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: ’’صلاة النهار عجماء‘‘. دن کی نماز گونگی ہوتی ہے (یعنی دن کی نمازوں میں بلند آواز سے قرأت نہیں کی جاتی)‘‘۔
روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔