’’ ۲۳ رمضان کی تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم سننے سنانے والوں کا جنتی ہونا‘‘، اس مخصوص طریقہ اور مخصوص ثواب کا احادیث صحیحہ سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: بعض ملکوں میں رمضان شریف کی ۲۳ /شب کو بعد تراویح کے امام محلّہ لوگوں کو سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم سناتے ہیں، یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟ اور ان سورتوں کے پڑھنے اور سننے والوں پر جنتی ہونے کا حکم لگانا جائز ہے یا نہ ؟
جواب: اس طریقۂ مخصوصہ اور ثوابِ مذکور مخصوص کا کچھ ثبوت احادیث صحیحہ سے نہیں ہے، عام فضیلت قرآن شریف کی تلاوت اور سماعت کی جو کچھ ہے وہ سب کو معلوم ہے، مگر یہ خاص فضیلت وبشارت وارد نہیں ہے۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :۲۳ رمضان کی شب میں سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم پڑھنے اور سننے کی من گھڑت فضیلت، ۱۸/۴۳۴ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
ملتی جلتی احادیث
’’جس نے سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تئیسں رمضان کی رات کو پڑھی تو وہ جنت والوں میں سے ہوگا‘‘، اغلب یہ ہے کہ یہ روایت من گھڑت ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔