اس روایت کی تحقیق سے3 میں سے 1
روایت: جب تم کسی شہر جاؤ تو وہاں کی پیاز کھاؤ،بیماریاں تم سےدور کردی جائیں گی۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی عبد الرحمن بن زید بن اسلم ( المتوفى ۱۸۲ھ ) کے بارے میں ائمہ رجال کاکلام
اہم تنبیہ: واضح رہے کہ عبد الرحمن بن زيد بن اسلم کے حالات میں بعض اقوال کے تحت حدیثِ لولاک کا ذکر ضمناً آئے گا۔
عبد الرحمن بن زيد بن اسلم کے بارے میں حافظ ابن ابی حاتم l، امام یحیی بن معینl کا کلام ’’الجرح والتعدیل‘‘[3] میں نقل کرتے ہیں: ’’عبد الرحمن بن زيد بن أسلم ليس حديثه بشيء، ضعيف‘‘.اس کی حدیث ’’لیس بشیء‘‘ہے، وہ ضعیف ہے۔
حافظ عبد اللہ بن احمدl،عبد الرحمن کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان أبي يضعف عبد الرحمن بن زيد بن أسلم...‘‘[4] .میرے والد (امام احمد حنبلl) عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی تضعیف کیا کرتے تھے ...‘‘۔
مذکورہ بالا ائمہ کے کلام پر حافظ عقیلی l نے اكتفاء کیا ہے۔[5]
امام بخاریl ’’التاريخ الکبیر‘‘[6] میں عبد الرحمن بن زيد بن اسلم کے متعلق حافظ علی ا بن مدینیl کا موقف نقل کرتے ہیں: ’’ضعفه علی جدا‘‘. علی ابن مدینیl نےان کی شدیدتضعیف کی ہے۔
امام بخاریl نے ’’التاريخ الأوسط‘‘ [7] میں بھی یہی کلام نقل کیا ہے۔
حافظ ابو زرعہl فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث‘‘[8] .
حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعدیل‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’سألت أبي عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، فقال: ليس بقوي الحديث، كان في نفسه صالحا، وفي الحديث واهيا، ضعفه علي ابن المديني جدا‘‘[9].
میں نے اپنے والد (ابو حاتمl) سے عبد الرحمن بن زيد بن اسلم کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا : وہ حدیث میں قوی نہیں ہے، فی نفسہ صالح ہے، لیکن حدیث میں واہی ہے(جرح)، علی بن مدینیl نےان کی شدید تضعیف کی ہے۔
امام طحاویl فرماتے ہیں : ’’حديثه عند أهل العلم بالحديث في النهاية من الضعف‘‘[10]. اہل علم کے نزیک ان کی روایات ضعف کے انتہائی درجہ پر ہیں۔
امام ترمذیl اپنی’’سنن‘‘[11] اور ’’العلل الکبیر‘‘[12] میں فرماتے ہیں: ’’عبد الرحمن بن زيد بن أسلم ضعيف في الحديث، ضعفه أحمد بن حنبل وعلي بن المديني وغيرهما من أهل الحديث، وهو كثير الغلط‘‘.
عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہے، احمد بن حنبلl، علی بن مدینی l اور دوسرے علماء حدیث نے ان کی تضعیف کی ہے، اور یہ کثیر الغلط ہے۔
امام نسائی l ’’الضعفاءوالمتروکین‘‘[13] میں عبد الرحمن بن زيد بن اسلم کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ضعيف‘‘. یہ ضعیف ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[14] میں عبد الرحمن بن زيد بن اسلم کے بارے میں کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ كان ممن يقلب الأخبار وهو لا يعلم، حتى كثر ذلك في روايته من رفع المراسيل وإسناد الموقوف فاستحق الترك‘‘.
وہ ان لوگو ں میں سے تھا جو انجانے میں روایات کو خلط ملط کردیا کرتے تھے، حتی کہ ان کی روایات میں کثیر تعداد میں مراسیل کو مرفوع اور موقوف کو مسند کردیاگیا ہے، چنانچہ یہ اس کا مستحق ہے کہ اسے متروک قرار دیاجائے۔
حافظ ابن جوزیl نے ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[15] میں عبد الرحمن بن زيد بن اسلم کے بارے میں سابقہ ذکر کردہ ائمہ کرام کے کلام پر اكتفاء کیا ہے۔
امام ابن خزیمہl اپنی ’’صحیح‘‘[16] میں عبد الرحمٰن بن زیدکے متعلق فرماتے ہیں: ’’عبد الرحمن بن زيد ليس هو ممن يحتج أهل التثبيت بحديثه، لسوء حفظه للأسانيد، و هو رجل صناعته العبادة و التقشف و الموعظة و الزهد، ليس من أحلاس الحديث الذي يحفظ الأسانيد‘‘.
عبدالرحمٰن بن زید ان لوگوں میں سے نہیں ہے، جن کی روایات سے اہل علم میں پختہ کار لوگ استدلال کریں،کیونکہ وہ اسانید کویاد رکھنےکے سلسلے میں سوء حفظ کاشکار ہے، عبادت، ادنی حالت پر کفایت، نصیحت اورزہد ان کا مشغلہ ہے، وہ حدیث کا مستقل مشغلہ رکھنےوالوں میں سے نہیں ہے جو سندوں کو یاد رکھتے ہیں۔
امام حاکمl نے روایت لولاک کو ’’صحیح الإسناد‘‘ قرار دیا ہے (جس کی تفصیل حصہ دوم میں گزری ہے)، لیکن آپ ہی نے روایت لولاک کی سند میں موجود عبد الرحمن بن زید بن اسلم(جو اس روایت کو اپنے والد سے نقل کر رہا ہے)کے بارے میں ’’المدخل‘‘[17] میں لکھتے ہیں:
’’روى عن أبيه أحاديث موضوعة، لا يخفى على من تأملها من أهل الصنعة أن الحمل فيها عليه‘‘.یہ اپنے والد کے انتساب سے موضوع احادیث روایت کرتا تھا، اہل فن میں سے غور کرنے والے پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ ان من گھڑت روایات کی ذمہ داری عبد الرحمن بن زید بن اسلم پر ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشریعة‘‘ کے مقدمہ میں امام
حاکم l کےاس کلام کونقل کرنےپراکتفاء کیا ہے۔[18]
حافظ تقی الدین سبکیl (تاج الدین سبکی کے والد، المتوفی ۷۵۶ھ) نے ’’شفاء السقام‘‘[19] میں بسندِ حاکم عبدالرحمن بن زیدبن اسلم سے منقول روایتِ لولاک نقل کرکے لکھا ہے:
’’ونحن نقول: قد اعتمدنا في تصحيحه على الحاكم، وأيضا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم لا يبلغ في الضعف إلى الحد الذي ادعاه‘‘. ہم نے اس روایت کو صحیح قرار دینے میں حاکمl پر اعتماد کیا ہے، اور عبدالرحمن بن زیدبن اسلم اتنے ضعیف نہیں،جتنا کہ مدعی کا دعوی ہے۔
واضح رہے کہ امام حاکم l نے اگرچہ ’’مستدرک‘‘ میں اس روایت لولاک کو ’’صحیح الاسناد‘‘ کہا ہے، لیکن امام حاکم l ہی فرماتے ہیں کہ یہ اپنے والد کے انتساب سے موضوع احادیث روایت کرتا تھا، اس لئے امام حاکم l کے اعتماد پر روایتِ لولاک کو صحیح کہنا محل نظر ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن عبدالہادیl نے ’’الصارم المنكي‘‘[20] میں حافظ تقی الدین سبکیl کے قول کی تردید کی ہے، اور اس سند سے بھی روایتِ لولاک کو شدید ضعیف کہا ہے، مزید تفصیل جاننے کے لئے کتاب غیر معتبر روایات حصہ دوم(ص:۱۱۷ )ملاحظہ فرمائیں۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’کتاب الضعفاء‘‘[21] میں فرماتے ہیں : ’’عبد الرحمن بن زيد بن أسلم حدث عن أبيه، لا شيء‘‘.عبد الرحمن بن زید بن اسلم اپنے والد سے روایت نقل کرتا ہے اور یہ ’’لا شیء‘‘ ہے۔
حافظ ابونعیم اصبہانی l ہی یہ بھی فرماتے ہیں : ’’روى عن أبيه أحاديث موضوعة‘‘[22]. یہ اپنے والد کے انتساب سے من گھڑت روایت بیان کرتا تھا۔
واضح رہے کہ عبدالرحمن بن زید نے مذکورہ روایت اپنے والد زید بن اسلم سے نقل کی ہے۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل في الضعفاء‘‘[23] میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے ترجمہ میں ان سے منقول بعض روایت نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں : ’’عبد الرحمن بن زيد بن أسلم له أحاديث حسان، وقد روى عنه كما ذكرت يونس بن عبيد وسفيان بن عيينة حديثين، وروى معتمر عن آخر عنه، وهو ممن احتمله الناس، وصدقه بعضهم، وهو ممن يكتب حديثه‘‘.
عبدالرحمٰن سے حسن درجے کی روایا ت بھی منقول ہیں،اور جیساکہ میں نے ذکر کیا ہے کہ ان سے یونس بن عبیداور سفیان بن عیینہ نے دوروایتیں نقل کی ہیں،اور معتمر ان سےایک واسطہ سے روایت نقل کرتے ہیں، عبدالرحمن ایسے لوگوں میں سے ہیں جن سے محدثین رویات کا تحمل کرتے ہیں،بعض لوگوں نے ان کی توثیق بھی کی ہے،فی الجملہ وہ ایسے راویوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی روایات کو لکھاجاتا ہے۔
امام بیہقیl ’’معرفة السنن‘‘[24] میں عبدالرحمن بن زید سے مروی روایت ذکرکرنے کے بعد عبد الرحمن کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’...أن عبد الرحمن بن زید بن أسلم ضعیف فی الحدیث، لا یحتج بما ینفرد به‘‘. ...عبد الرحمن بن زید حدیث میں ضعیف ہے، جس روایت میں یہ متفرد ہو ں اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[25] میں فرماتے ہیں : ’’ضعفوه‘‘. اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[26] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفه أحمد بن حنبل، والدار قطني. ت، ق‘‘.احمد بن حنبل l اور دارقطنیl نے اس کی تضعیف کی ہے۔ یہ ترمذی و ابن ماجہ کے راویوں میں سے ہے۔
واضح رہے کہ علامہ برہان الدین سبط ابن العجمی l نے ’’الکاشف‘‘ کے حاشیہ میں عبدالرحمن بن زید سے منقول ’’ترمذی‘‘ میں جوروایت ہے اسے ذکر کیا اور اس کے بعد امام احمد بن حنبل l کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن حجرl ’’تقريب التهذيب‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف من الثامنة‘‘.یہ ضعیف ہے اور آٹھویں طبقہ کا روای ہے۔
محمد بن طاہر مقد سی l ’’معرفة التذكرة‘‘[28] میں فرماتے ہیں : ’’هو ليس بشيء‘‘.
حوالہ جات
[3] الجرح والتعدیل:۵ / ۲۳۳،رقم :۱۱۰۷،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۳۷۲ هـ .
[4] العلل ومعرفة الرجال:۳/ ۲۷۱،رقم :۵۲۰۳،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية ۱۴۲۲هـ .
[5] کتاب الضعفاءالکبیر:۲/ ۳۳۱،رقم :۹۲۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۸ هـ .
[6] التاریخ الکبیر:۵/ ۲۸۴،رقم:۹۲۲،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۰۷ هـ .
[7] التاریخ الأوسط:۲۰۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶ هـ .
[8] الجرح والتعدیل:۵ / ۲۳۴،رقم:۱۱۰۷،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۳۷۲ هـ .
[9] الجرح والتعدیل:۵ / ۲۳۳،رقم:۱۱۰۷،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۳۷۲ هـ .
[10] تهذيب التهذيب:۲/ ۵۰۸، ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶ هـ
[11] سنن الترمذي:۳/ ۱۷،رقم :۶۳۲،ت:محمد فؤاد عبد الباقی،مطبعة مصطفى البابي ـ القاهرة،الطبعة الثانية 1388 هـ .
[12] علل الترمذي الكبير:ماجاءالرجل ینام عن الوتر،ص:۸۴،رقم:۱۳۵،السید صبیحی السامرائی وغيره، عالم الکتب ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۹ هـ .
[13] الضعفاء والمتروکین:۱/ ۱۵۸،رقم :۳۷۷،ت:بوران الضناوي و کمال یوسف الحوت،مؤسسة الکتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۵ هـ .
[14] المجروحين:2/ 57،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۲ هـ .
[15] الضعفاءوالمتروکین:۲/۹۵،رقم:۱۸۷۱،ت:أبو الفداء عبدالله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰۶ هـ .
[16] صحیح ابن خزیمة:۳/ ۲۳۳،رقم :۱۹۷۲،ت:محمد مصطفى الأعظمی،المکتب الإسلامی ـ بیروت، الطبعة ۱۴۰۰ هـ .
[17] المدخل إلى الصحيح:ص:۱۵۴،رقم:۹۷،ت:ربيع هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰۴ هـ .
[18] تنزيه الشريعة:۱/ ۷۸،رقم:۱۴۴،ت:عبد الوهاب وعبد الله الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة ۱۴۰۱ هـ .
[19] شفاء السقام في زيارة خير الأنام:ص:۳۵۸،ت:حسین محمد علی شکوی،لم أجد المطبع،الطبعة ۱۴۲۷ هـ .
[20] الصارم المنكي:ص:۳۶،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[21] کتاب الضعفاء:۱/ ۱۰۲،رقم:۱۲۲،ت:فاروق حمادة،دارالثقافة ـ قاهره،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .
[22] تهذيب التهذيب:۲/ ۵۰۸،ت:إبراهيم الزيبق وعادل مرشد،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .
[23] الكامل:۴/ ۲۷۳،ت:يحيى مختار غزاوي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴۰۹هـ .
[24] معرفة السنن والآثار:۶/ ۲۶۳،رقم:۸۶۷۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجي،دار قتیبة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱1هـ .
[25] الكاشف:۱/۶۲۸،رقم:۳۱۹۶،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .
[26] ديوان الضعفاء:ص:۲۴۲،رقم:۲۴۴۶،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مکتبة النهضة الحديثة ـ مکة المکرمة، الطبعة۱۳۸۷هـ .
[27] تقريب التهذيب:ص:۳۴۰،رقم:۳۸۶۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
[28] معرفة التذکرة:ص:۲۶،میر محمد کتب خانه ـ کرا تشی .