التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

زفر بن واصل

ایک روایت میں تذکرہ

زفر بن واصل کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی زفر بن واصل کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

 حافظ عقیلی l  عمارہ بن عمار اَیْلِی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:  ’’عن زفر بن واصل، وزفر، مجهول، والحديث منكر‘‘[48]. عمارہ نے زفر بن واصل سے حدیث نقل کی ہے، اور (یہ)زُفَر مجہول ہے، اور حدیث منکر ہے۔

 اس کے بعد حافظ عقیلی l نے زیرِ بحث حدیث تخریج کی ہے جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے  ’’لسان الميزان‘‘[49] میں حافظ عقیلی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

 حافظ ذہبی l نے بھی  ’’ميزان الاعتدال‘‘[50] میں عمارہ بن عمار کے ترجمہ میں عمارہ اور زفر بن واصل دونوں کو  ’’ لايعرفان‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[48] الضعفاء الكبير:3/316،رقم:1332،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[49] لسان الميزان:6/58،رقم:5566،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[50]  ميزان الاعتدال:3/177،رقم:6034،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ