التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عفان عثمان بن خالدبن عمر مدنی عثمانی اموى

ایک روایت میں تذکرہ

ابو عفان عثمان بن خالدبن عمر مدنی عثمانی اموى کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو عفان عثمان بن خالدبن عمر مدنی عثمانی اموى کے بارے میں ائمہ کاکلام

امام بخاریl  کاقول

امام بخاریl ’’التاریخ الأوسط‘‘[45]میں فرماتے ہیں: ’’عنده مناكير‘‘. اس کے پاس منکر روایات ہیں، اسی طرح ’’التاریخ الکبیر‘‘[46]میں لکھتے ہیں: ’’منكر الحديث‘‘.یہ منکرالحدیث ہے،(امام بخاری l ’’منکرالحدیث‘‘ اکثر شدید جرح کے لئے استعمال فرماتے ہیں)۔

حافظ ابوحاتم l کاکلام

آپ موصوف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ منكر الحديث‘‘ . (جرح)۔

امام ابن حبانl کا کلام

امام ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[47] میں عثمان بن خالد کے متعلق فرماتے ہیں:

’’ كان ممن يروی المقلوبات عن الثقات، ويروي عن الأثبات أسانيد ليس من رواياتهم، كأنه كان يقلب الأسانيد، لا يحل الاحتجاج بخبره ‘‘.

یہ ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ راویوں سے مقلوب روایات کو نقل کرتے تھے،اور ثقہ راویوں کی روایات ایسی سندوں سے نقل کیاکرتے تھے جوان کی روایات نہیں ہوا کرتی تھیں،گویا کہ یہ سندوں کو قلب کردیاکرتاتھا،اس کی روایت سے احتجاج جائز نہیں ہے۔

حافظ ابن جوزی l نے عثمان بن خالد کے متعلق’’الضعفاء والمتروکین‘‘[48] میں امام بخاریl،امام ابو حاتم l اور حافظ ابن حبانl کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

امام نسائیl کا قول

امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة ‘‘[49]  (جرح)۔

حافظ ابن عدیl  کاکلام

حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[50]میں عثمان بن خالد کےبارے میں فرماتے ہیں : ’’ولعثمان غير ما ذكرت وكلها غير محفوظة‘‘.عثمان کی مذکورہ (سابقہ) روایا ت کے علاوہ دیگر احادیث بھی ہیں، اور وہ تمام کی تمام غیر محفوظ ہیں ۔

امام حاکم نیشاپوریl کاکلام

حافظ ابو عبد اللہ حاکم l ’’المدخل‘‘[51] میں عثمان بن خالد کے متعلق فرماتے ہیں:

’’عثمان بن خالد بن عمر ... روى عن مالك وعيسى بن يونس وغيرهما أحاديث موضوعة‘‘.عثمان نے مالک اور عیسی بن یونس وغیرہ سے من گھڑت روایات نقل کی ہیں۔

حافظ دارقطنیl کاکلام

حافظ دارقطنی l ’’المؤتلف والمختلف‘‘میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث‘‘[52].

حافظ صالح جزرہl کا قول

حافظ سبط ابن العجمیl،محمد بن عثمان بن خالدابومروان عثمانی کے ترجمہ میں ابومروان عثمان کےوالدعثمان بن خالد کے متعلق صالح جزرہ l کا کلام اس طرح لکھتے ہیں :

’’قال صالح جَزَرَة: ثقة صدوق، والمناکیرالتی من قبل أبیه، لامنه فأبوه متروک متهم كما قال المصنف في الميزان ...‘‘[53].صالح جزرہ نے کہا: (محمدبن عثمان) ثقہ اورصدوق ہے اور منکر روایات ان کے والد کی طرف سے ہیں نہ کہ محمد بن عثمان کی طرف سے،ان کے والد (عثمان بن خالد ابومروان عثمانی) متروک اور متہم ہے،جیسا کہ حافظ ذہبی l نے ’’میزان‘‘ میں کہا ہے ...‘‘۔

حافظ ابو نعیم اصبہا نیl کاکلام

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’کتاب الضعفاء‘‘[54] میں عثمان بن خالد کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’عثمان بن خالد بن عمر عن مالك وعيسى وغيرهما أحاديث موضوعةلا شيء‘‘. عثمان بن خالد نے مالک اور عیسی وغیرہ سے من گھڑت روایات نقل کی ہیں،اور وہ)عثمان) لاشیء(جرح) ہے۔

حافظ ذہبی l  کا کلام

حافظ ذہبی l  نے’’ الكاشف‘‘[55] میں عثمان کے متعلق سابقہ ذکر کردہ امام نسائیl کے قول کو ذکر کیا ہے اور ’’المقتنى في سرد الكنى‘‘[56] میں موصوف کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ واهٍ ‘‘. (شدیدجرح)۔

حافظ نورالدین ہیثمی l  کا قول

  حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[57]میں ایک مقام پر موصوف کو ’’متروک‘‘.(شدید جرح) کہا ہے۔

حافظ ابن حجرl  کا کلام

حافظ ابن حجرl موصوف کے بارے میں ’’تقريب التهذيب‘‘[58] میں فرماتے ہیں: ’’ متروك الحديث‘‘. کہا ہے۔

حوالہ جات

[45]  التاریخ الأوسط: مابین عشرالی الثمانین ، ۲/ ۱۸۶، ت: محمود إبراهيم زايد، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .

[46] التاریخ الکبیر: باب من اسمه عثمان،۶/ ۲۲۰، رقم:۲۲۲۰، ت: محمد عبید بن علی، دار الكتب العلمية– بيروت، ط: ۱۴۰۷ هـ .

[47]  المجروحين: باب العین، ۲/ ۱۰۲، ت: محمود إبراهيم زايد، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .

[48]  الضعفاء والمتروکین: من اسمه عثمان،۲/ ۱۶۷، رقم:۲۲۶۰، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .

[49] المغني في الضعفاء: حرف العین، ۱/ ۶۰۱، رقم: ۴۰۱۵، ت: نورالدین عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .

[50] الكامل في ضعفاء الرجال: من اسمه عثمان ،۵/ ۱۷۵، رقم:۱۳۳۵، ت: يحيى مختار غزاوي، دار الفكر– بيروت، الطبعة الثالثة: ۱۴۰۴ هـ .

[51]  المدخل: ص:۱۶۶ ،رقم:۱۱۹، ت: ربيع هادي عمير المدخلي، مؤسسة الرسالة – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۴ هـ .

[52] المؤتلف والمختلف: باب أبوعفان، ۳/ ۱۵۳۱، ت: موفق بن عبد الله بن عبد القادر، دار الغرب الإسلامي–  بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .

[53]  الكاشف:۲/ ۱۹۹، رقم:۵۰۴۰، ت: محمد عوامة، دار القبلة للثقافة الإسلامية– جده، ط: ۱۴۱۳ هـ .

[54]  کتاب الضعفاء: باب العین، ۱/ ۱۱۵، رقم: ۱۵۷، ت: فاروق حمادة، دارالثقافة –  قاهره، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ .

[55]  الكاشف:۲/۶، رقم:۳۶۹۲، ت: محمد عوامة، دار القبلة للثقافة الإسلامية– جده، ط: ۱۴۱۳ هـ .

[56] المقتنى في سرد الكنى:حرف العین، ۱/ ۴۰۱، رقم: ۴۲۲۲، ت: محمد صالح عبد العزيز، الجامعة الإسلامية–  مدينة، ط:۱۴۰۸ هـ .

[57] مجمع الزوائد: باب هجرته (عثمان) رضي الله عنه،۸/ ۳۸۷، رقم:۱۴۴۹۹، ت: عبدالله محمد درويش، دار الفكر– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .

[58] تقريب التهذيب: ص: ۳۸۳، رقم:۴۴۶۴، ت: محمد عوامة، دار الرشد -  سوريا، ط:۱۴۰۶ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ