التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو اسلم محمد بن مخلد رُعَیْنِی حمصی

2 روایات میں تذکرہ

دوسرے نام: ابو اسلم محمد بن مَخْلد رُعَیْنِی حمصی

ابو اسلم محمد بن مخلد رُعَیْنِی حمصی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو اسلم محمد بن مَخْلد رُعَیْنِی حمصی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

 حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’لم أر في حديثه منكرا‘‘[20] . میں نے اس کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے۔

 حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[21]میں محمد بن مَخْلدکے بارے میںفرماتے ہیں:’’يحدث عن مالك وغيره بالبواطيل‘‘. مالک l وغیرہ کے انتساب سے باطل احادیث بیان کرتا ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن عدیl زیر بحث روایت اور دیگر روایات کی تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’ولمحمد بن مخلد غير ما ذكرت من الحديث، وهو منكر الحديث عن كل من يروي عنه‘‘. اور محمد بن مَخْلد کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، یہ جن سے بھی روایت کرے اُس میں یہ منکر الحدیث ہوتا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[22] میں،حافظ ابن جوزی l نے ’’العلل المتناهية‘‘[23] میں، حافظ ذہبی lنے ’’المغني‘‘[24] میں، اور علامہ ابن عراق l نے’’تنزيه الشریعة‘‘[25] میں حافظ ابن عدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔

 حافظ دار قطنی l نے ’’غرائب مالك‘‘[26]  میں محمد بن مَخْلد کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن مندہ l ’’فتح الباب‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن مالك بن أنس بمناكير‘‘. اس نے مالک بن انس r کے انتساب سے مناکیر بیان کی ہیں۔

حافظ ابو الحسن ابن قطانl’’بيان الوهم‘‘[28] میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:’’ومحمد بن مَخْلَد الرُعَيْني لم تثبت عدالته، وهو حمصي يكنى أبا أسلم، سئل عنه أبو حاتم فقال: لم أر في حديثه منكرا‘‘.

محمدبن مَخْلد کی عدالت ثابت نہیں ہے، اور یہ حمصی ہے،اس کی کنیت ابو اسلم ہے،اس کے بارے میں ابو حاتم l سے پوچھا گیاتو آپ نے  فرمایا:میں نے اس کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی۔

حافظ خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[29] میں فرماتے ہیں:  ’’يروي عن مالك أحاديث لا يتابع عليها، يتفرد بها، وهو صالح‘‘. یہ مالک l کے انتساب سے ایسی احادیث نقل کرتا ہے جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، یہ اُن سے نقل میں متفردہوتا ہے، اور یہ صالح ہے۔

حافظ ذہبیl ’’تلخيص العلل‘‘[30] میں محمدبن مَخْلد حمصی کو ’’هالك‘‘کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl ’’مجمع الزوائد‘‘[31] میں ایک روایت کے تحت محمد بن مخلد کو ’’ضعيف جداً‘‘کہا ہے۔

حوالہ جات

[20] الجرح والتعديل:8/93،رقم:397،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[21] الكامل في ضعفاء الرجال:7/503،رقم:1734،ت:عادل أحمدعبدالموجود,وعلي محمدمعوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[22]  ذخيرة الحفاظ:ص:۱۱۷۵،رقم۲۵۰۰، ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .

[23]  العلل المتناهية:۱/۴۲،رقم:۳۹،ت:إرشاد الحق الأثري،إدارة العلوم الأثرية ـ فيصل آباد،باكستان،الطبعة الأولى ۱۳۹۹هـ .

[24] المغني في الضغفاء:۲/۳۷۰ ،رقم:۵۹۶۵،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار  الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة  الأولى ۱۴18هـ .

[25] تنزيه الشريعة:۱/113،رقم:260،ت:عبد الوهاب وعبد الله الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴۰۱هـ .

[26] انظر لسان الميزان:7/496،رقم:7390،ت:عبد الفتاح أبوغدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[27] فتح الباب فى الكنى والألقاب:ص:104،رقم:652،ت:أبو قتيية نظر محمد الفاريابي،مكتبة الكوثر ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .

[28] بيان الوهم والايهام الواقعين في كتاب الأحكام:3/8۶۴،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱7هـ .

[29] الإرشاد:1/264،رقم:104،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .

[30]   تلخيص العلل:1/ 13۵،رقم17،ت:أبي عبيد محفوظ الرحمن زين الله،الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة ۱399هـ .

[31] مجمع الزوائد:5/۱۵۲،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو اسلم محمد بن مخلد رُعَیْنِی حمصی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

 امام بخاری l نے  ’’التاريخ الكبير‘‘[3] میں محمد بن مخلد کا ترجمہ قائم  کرکے سکوت فرمایا ہے۔

حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں:  ’’لم أر في حديثه منكرا‘‘[4] . میں نے محمد بن مخلد کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے۔

 حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں:  ’’يحدث عن مالك وغيره بالبواطيل‘‘[5]. مالک l وغیرہ کے انتساب سے باطل احادیث بیان کرتا ہے۔

 نیز حافظ ابن عدی l یہ بھی فرماتے ہیں:  ’’ولمحمد بن مخلد غير ما ذكرت من الحديث، وهو منكر الحديث عن كل من يروي عنه‘‘[6]. اور محمد بن مخلد کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، یہ جن سے بھی روایت کرے اُس میں یہ منکر الحدیث ہوتا ہے۔

 حافظ دار قطنی l نے  ’’غرائب مالك‘‘ میں محمد بن مخلد کو  ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[7]۔

 حافظ خلیلی l  ’’الإرشاد‘‘[8] میں فرماتے ہیں:  ’’يروي عن مالك أحاديث لا يتابع عليها، يتفرد بها، وهو صالح‘‘. یہ مالک l سے ایسی احادیث نقل کرتا ہے جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، یہ اُن سے نقل میں متفرد ہے، اور یہ صالح ہے۔

 علامہ ابن عراق l نے  ’’تنزيه الشریعة‘‘[9] میں محمد بن مخلد کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں ذکر کیا ہے۔

حوالہ جات

[3] التاريخ الكبير:1/242،رقم:766،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني 1429هـ .

[4] الجرح والتعديل:8/93،رقم:397،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[5] الكامل في ضعفاء الرجال:7/503،رقم:1734،ت:عادل أحمدعبدالموجود,وعلي محمدمعوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[6] الكامل في ضعفاء الرجال:7/503،رقم:1734،ت:عادل أحمدعبدالموجود,وعلي محمدمعوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[7] لسان الميزان:7/496،رقم:7390،ت:عبدالفتاح أبوغدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[8] الإرشاد:1/264،رقم:104،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .

[9] تنزيه الشريعة:۱/113،رقم:260،ت:عبد الوهاب وعبد الله الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ