اس روایت کی تحقیق سے
روایت: جب تم کسی شہر جاؤ تو وہاں کی پیاز کھاؤ،بیماریاں تم سےدور کردی جائیں گی۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی ابو احمد عیسی بن موسیٰ غُنْجار بخاریl (المتوفی۱۸۶ھ) کے بارے ائمہ رجال کے اقوال
حافظ بن حبان l ’’ثقات‘‘[32] میں فرماتے ہیں:
’’ربما خالف، اعتبرت حديثه بحديث الثقات، وروايته عن الأثبات مع رواية الثقات، فلم أر فيما يروي عن المتقنين شيئا يوجب تركه إذا بين السماع في خبره، لأنه كان يدلس عن الثقات ما سمع من الضعفاء عنهم، وترك الاحتجاج بما يروي عن الثقات إذا بين السماع عنهم، وأما ما روى عن المجاهيل والضعفاء والمتروكين، فإن تلك الأخبار كلها تلزق بأولئك دونه، لا يجوز الاحتجاج بشيء منها‘‘.
بعض اوقات وہ دوسروں کی روایت میں مخالفت بھی کرتا ہے، میں نے اس کی حدیثوں کا ثقہ لوگوں کی حدیثوں کے ساتھ ’’اعتبار‘‘ کیا، نیز اس کی ثبت لوگوں سے منقول روایات کا ثقہ لوگوں کی روایات کے ساتھ ’’اعتبار‘‘ کیا تو میں نے اس کی متقن لوگوں سے نقل کردہ روایات میں کوئی ایسی چیز نہ پائی جو ترک کا موجب ہو، بشرطیکہ عیسی بن موسی نے اپنی خبر میں سماعت کی وضاحت کردی ہو، وجہ اس کی یہ ہے کہ عیسی بن موسی نے جو روایات ضعفاء سے سنی ہیں وہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے ان روایات میں تدلیس کرلیتا ہے، نیز دورانِ اعتبار مجھے کوئی ایسی بات معلوم نہ ہوسکی کہ اس کی ثقہ لوگوں سے منقول روایات سے احتجاج نہیں کرنا چاہیے، بشرطیکہ عیسی بن موسی نے ان ثقہ لوگوں سے سماعت کی وضاحت کی ہو، تاہم عیسی بن موسی کی وہ روایات جو مجہول، ضعیف اور متروک راویوں سے منقول ہیں، یہ تمام تر روایات عیسی بن موسی سے پہلے لوگوں سے چسپاں ہیں، ان میں سے کسی بھی روایت سے احتجاج جائز نہیں ہے۔
امام دار قطنی l فرماتے ہیں: ’’ لا شیء‘‘[33].
امام حاکم l فرماتے ہیں: ’’وهو ثقة، ولم يؤخذ عليه إلا كثرة روايته عن الكذابين، أخرجه البخاري‘‘[34] .یہ ثقہ راوی ہے، ان کا مؤاخذہ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ وہ کثرت سے کذابین سے روایت کرتا ہے،
بخاری l نے ان کی حدیث تخریج کی ہے، [یعنی تعلیقاً ازراقم الحروف]۔
حافظ ابویعلی خلیلیl ’’الإرشاد‘‘[35] میں لکھتے ہیں: ’’زاهد، لكنه ربما يروي عن الضعفاء أحاديث‘‘. یہ زاہد ہے، البتہ بسااوقات ضعیف راویوں سے احادیث روایت کردیتا ہے۔
حافظ مسلمہ بن قاسم l ’’الصلة‘‘[36] میں تحریر فرماتے ہیں:’’ كان ثقة جليلا، مشهورا بخراسان‘‘. یہ جلیل القدر ثقہ ہے، خراسان میں مشہور تھا۔
حافظ ذہبی l ’’الكاشف‘‘[37] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’صدوق، لكنه روى عن مائة مجهول‘‘. یہ صدوق ہے، لیکن اس نے [تقریبا]سو مجہول راویوں سے روایت کی ہے۔
حافظ ابن حجر l ’’التقريب‘‘[38] میں لکھتے ہیں: ’’صدوق، ربما أخطأ، وربما دلس، مكثر من التحديث عن المتروكين، من الثامنة‘‘. یہ صدوق ہے، بسا اوقات خطا بھی کرتا ہے، بعض اوقات تدلیس بھی کرتا ہے، متروک راویوں سے کثرت سے حدیث نقل کرتا ہے، ان کا تعلق آٹھویں طبقہ سے ہے۔
حوالہ جات
[32] الثقات:۸/ ۴۹۲،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد دكن ـ هند،الطبعة الأولى1393هـ .
[33] سؤالات السلمي للدارقطني:۲۰۶،رقم:۲۰۷،ت:سعد بن عبدالله الحميد و خالد بن عبدالرحمن الجريسى، مكتبة الملك فهد الوطنية ـ الرياض،الطبعةالأولى۱۴۲۷هـ .
[34] سؤالات مسعود بن علي السجزي:۲۰۶،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعةالأولى1408هـ .
[35] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:۱/ ۲۷۸،رقم:۱۲۸،ت:محمد سعيد بن عمرإدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۹هـ .
[36] انظر تهذيب التهذيب:8/۲۳۴،رقم:433،مطبعة دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1326هـ .
[37] الكاشف:2/۱۱۳،رقم:۴۴۰۱،ت:محمد عوامة و أحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة الإسلامية- جدة،الطبعةالأولى1413هـ .
[38] تقريب التهذيب:۴۴۱،رقم:۵۳۳۱،ت:محمد عوامة،دارالرشد - سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .