اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’لولاك لما خلقت الأفلاك‘‘.تر جمہ:الله تعالىٰ كا ارشاد ہے كہ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے،میں افلاک کو پیدانہ کرتا۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)یحی بصری پر ائمہ رجال کاکلام
ان کاپورا نام’’ابوایوب یحیی بن میمون بن عطاء البصری التمار(المتوفی: ۱۹۰ھ)‘‘ ہے۔
امام عمرو بن على الفلاّسl فرماتے ہیں:
’’كتبت عنه وكان كذابا، حدث عن علي بن زيد بأحاديث موضوعة، روى عن عاصم الأحول أحاديث منكرة ‘‘[65]. میں نے اس سے روایات لکھی ہیں اور یہ جھوٹا تھا، علی بن زیدکے انتساب سے موضوع روایات اورعاصم احول کےانتساب سے منکر روایات بیا ن کرتاتھا ۔
امام بخاری l نے حافظ فلاّسl کے قول پراكتفاء کیا ہے[66] ۔
امام احمدl فرماتے ہیں : ’’ ليس بشيء، خرقنا حديثه، كان يلقن الأحاديث ‘‘[67].یہ ’’ليس بشيء‘‘(جرح)ہے، اس کی حدیثوں کوہم نے پھاڑدیا،ان کو احادیث کی ’’تلقین‘‘(اصطلاح) کی جاتی تھی ۔
حافظ ذہبیl نے امام احمدl اور امام دار قطنی l(یہ قول آرہا ہے) کے کلام پر اكتفاءکیا ہے[68]۔
امام مسلمl فرماتے ہیں : ’’ منكر الحديث ‘‘[69].(جرح)
امام نسائی l فرماتے ہیں : ’’ ليس بثقة ولا مأمون‘‘[70]. (جرح)
حافظ ابن حبانl فرماتے ہیں: ’’قدم بغداد سنة تسعين ومائة وحدثهم بها، فعند أهل العراق منه العجائب التي يرويها مما لم يتابع عليها حتى إذا سمعها مَنْ الحديثُ صناعتُه لم يشك أنها معمولة، لا تحل الرواية عنه، ولا الاحتجاج به بحال‘‘[71].
سن ایک سو نوے(۱۹۰) ہجری میں بغداد آیا،اور اہل بغداد کو روایات بیان کیں، اہل عراق اس سے ایسے عجائب نقل کرتے ہیں جن میں اس کی (یحیی بن میمون) کسی نے متابعت نہیں کی،صناعتِ حدیث سے شغف رکھنے والے شخص کو اس کے من گھڑت ہو نے میں شک نہیں ہوتا ،اس سے روایت کرنا اور اس سے احتجاج کرنا کسی حال میں درست نہیں۔
حافظ ابن حبان l نے یحیی بصری کو ’’ثقات‘‘[72]میں بھی ذکر کیا ہے۔
حافظ ابن حجر l،حافظ ابن حبان l کے موصوف کو ’’مجروحین ‘‘و ’’ثقات‘‘دونوں میں ذکر کرنے کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’فكأنه ظنه غيره وهو هو‘‘[73]. ابن حبان l اسے کوئی اور سمجھے ہوں گے،حالانکہ یہ وہی ہے(یعنی جسے وہ مجروحین میں نقل کر چکے ہیں)۔
حافظ دارقطنیl فرماتے ہیں : ’’متروك‘‘[74]. (شدیدجرح)
امام زکریاسَاجِی l فرماتے ہیں : ’’كان يكذب، يحدث عن علي بن زيد أحاديث بواطيل‘‘[75].یہ جھوٹ بولا کرتا تھا، علی بن زید کےانتساب سے باطل روایات بیا ن کرتا تھا۔
حافظ ابن عدیl فرماتے ہیں: ’’وليحيى بن ميمون غير ما ذكرت، وعامة ما يرويه ليس بمحفوظ‘‘[76].یحی بن میمون کی مذکورہ (سابقہ) روایات کے علاوہ احادیث بھی ہیں،اور ان کی مرویات عام طور پر محفوظ نہیں ہیں ۔
حافظ ابن عبد البرl فرماتے ہیں: ’’هو عندهم كذاب، حدث بأحاديث موضوعة عن علي بن زيد، وعن عاصم بأحاديث منكرة‘‘[77].محدثین کے نزدیک یحیی بن میمون کذاب ہے، علی بن زید کےانتساب سے موضوع اور عاصم کےانتساب سے منکر روایات نقل کرتا ہے۔
حافظ ابن حجرl فرماتے ہیں : ’’ متروك‘‘[78]. (شدیدجرح)
حوالہ جات
[65] الجرح والتعديل: باب من اسمه یحیى ۹/ ۱۸۸، رقم:۷۸۵ ، دار الكتب العلمية– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۳۷۲ هـ .
[66] التاریخ الأوسط: عشر إلى تسعین ومائة، ص:۲/ ۲۳۶،ت: محمد إبراهيم زايد، دار المعرفة – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[67] العلل ومعرفة الرجال: ۳/ ۳۰۱، رقم: ۵۳۳۶، ت: وصي الله بن محمد عباس، المكتب الإسلامي– بيروت، الطبعة الثانية:۱۴۲۲هـ .
[68] المغني في الضعفاء:حرف الياء، ۲ /۴۱۴، رقم:۷۰۵۸، ت: نورالدین عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .
[69] الضعفاء والمتروكين: ۳/ ۲۰۳، رقم:۳۷۵۷، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[70] الضعفاء والمتروكين: ۳/ ۲۰۳، رقم:۳۷۵۷، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[71] المجروحين: باب الياء، ۳/ ۱۲۱، ت: محمود إبراهيم زايد، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[72] كتاب الثقات: ۷/ ۶۰۳، دائرة المعارف- بحيدر آباد دكن .
[73] تهذيب التهذيب: ۴/۳۹۴،ت:إبراهيم الزيبق و عادل مرشد،مؤسسة الرسالة - بيروت.
[74] تاريخ بغداد: من اسمه یحیى، ۱۶/ ۱۸۹ رقم:۷۴۰۹، ت: بشار عوّاد، دار الغرب الإسلامی - بیروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[75] إكمال تهذيب الكمال:۱۲/ ۳۷۱، رقم: ۵۲۰۸، ت: أبو عبد الرحمن عادل بن محمد، الفاروق الحديثة للطباعة والنشر– القاهرة، ط: ۱۴۲۲ هـ .
[76] الكامل في ضعفاء الرجال: من اسمه یحیى ،۷/ ۲۲۷، رقم:۲۱۲۴، ت: يحيى مختار غزاوي، دار الفكر– بيروت، الطبعة الثالثة: ۱۴۰۴ هـ .
[77] إكمال تهذيب الكمال:۱۲/ ۳۷۱، رقم: ۵۲۰۸، ت: أبو عبد الرحمن عادل بن محمد، الفاروق الحديثة للطباعة والنشر– القاهرة، ط: ۱۴۲۲ هـ .
[78] تقريب التهذيب: ص:۵۹۷، رقم:۷۶۵۸، ت: محمد عوامة، دار الرشد - سوريا، ط:۱۴۰۶ هـ .