التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوصالح خلف بن محمد بن اسماعیل خیّام بخاری

متوفی ۳۶۱ھایک روایت میں تذکرہ

ابوصالح خلف بن محمد بن اسماعیل خیّام بخاری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابوصالح خلف بن محمد بن اسماعیل خیّام بخاری (متوفی ۳۶۱ھ) کے بارے میں ائمہ کاکلام

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[30] میں لکھتے ہیں: ’’قال أبو يعلى الخليلي: خلط، وهو ضعيف جدا، روى متونا لا تعرف‘‘. ابو یعلی خلیلی l کا کہنا ہے کہ اسے اختلاط ہو گیا تھا، یہ شدید ضعیف راوی ہے، غیر معروف متون نقل کرتا ہے۔

اس کے بعد حافظ ذہبی l نے ابویعلی خلیلی عن حاکم کے طریق سے خلف بن محمد کی روایت: ’’نهي عن المواقعة قبل الملاعبة‘‘ نقل کی، پھر ابویعلی خلیلیl کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

’’فسمعت الحاكم عقيبه يقول: خذل خلف بهذا وبغيره، وسمعت الحاكم وابن أبي زرعة يقولان: كتبنا عنه الكثير، ونبرأ من عهدته، وإنما كتبنا عنه للاعتبار‘‘.

میں نے اس حدیث کے بعد حاکم l کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خلف کو یہ اور اس جیسی روایت کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ہے، نیز میں نے حاکم l اور ابن ابی زرعہ l کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ ہم نے اس سے بہت کچھ لکھاہے، تاہم اس سے ہم بری الذمہ ہیں، اور ہم نے اس کی حدیثیں صرف ’’اعتبا ر‘‘کے لئے لکھی ہیں۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[31] میں لکھتے ہیں: ’’اتهمه ابن الجوزي بوضع حديث‘‘. ابن جوزی l نے خلف بن محمد کو حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

[30] ميزان الاعتدال:1/662،رقم:2548،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت.

[31] تنزيه الشريعةالمرفوعة:۱/۵۸،رقم:۲۸،ت:عبد الله بن محمد الغماري،دارالكتب العلميةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۳۹۹هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ