اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو سہل احمد بن محمد بن عمر بن یونس بن قاسم حنفی یمامی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتم l ، ابو سہل احمد بن محمدیمامی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’قدم علينا، وكان كذابا، وكتبت عنه، ولا أحدث عنه‘‘[12]. ہمارے پاس آیا تھا، جھوٹا تھا، میں نے اس سے لکھا ہے، لیکن میں اس سے بیان نہیں کرتا۔
علامہ عبید بن محمد کَشْوَرِی l ، ابو سہل احمد بن محمد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هو فينا كالواقدي فيكم‘‘[13]. یہ ہم میں ایسے ہے جیسے واقدی تم میں ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’وكان القاسم المُطَرِّز يقول: كتبت عن اليمامي هذا خمسمئة حديث بالعسكر، ليتها كانت خمسة آلاف، ليس عند الناس منها حرف‘‘. اور قاسم مُطَرِّز فرماتے ہیں: میں نے اس یمامی سے عسکر کے مقام پر پانچ سو احادیث لکھی ہیں، کاش کہ وہ پانچ ہزار ہوتیں، اس لئے کہ لوگوں کے پاس ان میں سے ایک حرف بھی نہیں ہے۔
حافظ ابو سعید ابن یونس l فرماتے ہیں: ’’أحمد بن محمد بن عمر بن يونس اليمامي قدم إلى مصر، وقد لقيت جماعة ممن كتب عنه، قال لنا علي بن أحمد بن سليمان عَلّان: كان سلمة بن شبيب يكذبه‘‘[15]. احمد بن محمد بن عمر بن یونس یمامی مصر آیا، اور میں نے ایک ایسی جماعت سے ملاقات کی ہے جس نے اس سے لکھا تھا، ہمیں علی بن احمد بن سلیمان عَلان نے کہا: سلمہ بن شبیب اس کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔
حافظ ابو احمد حاکم نیشاپوری l ’’الأسامي‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت يحيى بن محمد بن صاعد الهاشمي يرميه بالكذب‘‘.میں نے یحیی بن محمد بن صاعد ہاشمی l سے سنا، انہوں نے احمد بن محمد یمامی کو جھوٹ بولنے میں متہم قرار دیا۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[17] میں احمد بن محمد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن عبد الرزاق، وعمر بن يونس، وغيرهما أشياء مقلوبة، لا يعجبنا الاحتجاج بخبره إذا انفرد‘‘. عبد الرزاق، اور عمر بن یونس وغیرہما کے انتساب سے مقلوب اشیاء روایت کرتا ہے، ہمیں اس کی خبر سے احتجاج کرنا پسند نہیں ہے جب یہ متفرد ہو۔
اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے اس کے ترجمہ میں دو احادیث ذکر کیں، پھر فرماتے ہیں: ’’هذا إلى ما يشبهه مما يأتي من المقلوبات والملزقات التي ينكرها المتبحر في هذه الصناعة‘‘. یہ ساتھ ساتھ ان مقلوبات وملزقات کے جسے یہ لاتا ہے، ایسی ہیں کہ اس صناعت کا ماہر شخص ان کا انکار کردیتا ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن حبان l نے زیر بحث روایت ذکر کی ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[18] میں حافظ ابن حبان l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[19] میں احمد بن محمد بن عمر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حدث بأحاديث مناكير عن الثقات، وحدث بنسخ عن الثقات بعجائب‘‘. اس نے ثقات کے انتساب سے منکر احادیث بیان کی ہیں، اور ثقات کے انتساب سے عجائب کے ساتھ نسخے بیان کئے ہیں۔
حافظ ابو الشیخ اصبہانی l ’’طبقات المحدثين‘‘[20] میں احمد بن محمد بن عمر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يكنى أبا سهل، قدم أصبهان، وحدث بها، وله أحاديث منكرات، وكتب بأصبهان عن إسماعيل بن عمر البجلي، رأيت عنده عن إسماعيل أحاديث كثيرة‘‘. اس کی کنیت ابو سہل ہے، یہ اصبہان آیا، اور وہاں حدیث بیان کی، اور اس کی منکر احادیث ہیں، اور اس نے اصبہان میں اسماعیل بن عمر بجلی سے حدیث لکھی، میں نے دیکھا کہ اس کے پاس اسماعیل کے انتساب سے بہت سی احادیث تھیں۔
حافظ ابو احمد حاکم نیشاپوری l ’’الأسامي‘‘[21] میں احمد بن محمد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک ’’لیس بالقوی‘‘ ہے۔
امام دار قطنی l نے احمد بن محمد بن عمر کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[22]۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[23] میں احمد بن محمد بن عمر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان غير ثقة‘‘. اور یہ غیر ثقہ تھا۔
حافظ ذہبی l نے احمد بن محمد بن عمر کو ’’المقتنى‘‘[24] میں ’’متهم‘‘، ’’تلخيص الموضوعات‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت ’’ كذاب‘‘، ’’ميزان الاعتدال‘‘[26] میں عمرو بن مخرم کے ترجمہ میں ’’هالك‘‘ اور ’’سير‘‘[27] میں ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’قال ابن الجوزي في حديثه في فضل عمر رضي الله عنه: ويروى أن أحمد بن عمر سرقه وغير إسناده انتهى، وقد تقدم أن وضع الإسناد كوضع المتن في التحريم، لكن أمره أخف، والله أعلم‘‘. عمر rکی فضیلت میں مذکور حدیث میں ابن جوزی l فرماتے ہیں: اور مروی ہے کہ احمد بن عمر نے سرقہ کرکے اس کی اسناد کو بدلا ہے، انتہی، اور پہلے گزر چکا ہے کہ اسناد گھڑنا حرمت میں متن گھڑنے کی طرح ہے، لیکن اسناد گھڑنے کا معاملہ نسبتاً ہلکا ہے، واللہ اعلم۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت احمد بن محمد بن عمر کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’الكافي الشاف‘‘[30] میں ایک حدیث کے تحت احمد بن محمد یمامی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، وكذبه أبو حاتم‘‘. متروک ہے، اور ابو حاتم l نے اسے کذاب کہا ہے۔
حافظ سخاوی l ’’المقاصد الحسنة‘‘[31] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’متروك، كذبه أبو حاتم‘‘. یہ متروک ہے، ابو حاتم l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[32] میں احمد بن محمد بن عمر بن یونس کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أبو حاتم وابن صاعد: كذاب‘‘. ابو حاتم l اور ابن صاعد l نے اسے کذاب کہا ہے۔
حوالہ جات
[12] الجرح والتعديل:2/71،رقم:130،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[13] انظر الكامل في ضعفاء الرجال:1/293،رقم:۱8،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[14] الكامل في ضعفاء الرجال:1/293،رقم:۱8،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[15] انظر تاريخ مدينة السلام:6/225،رقم:2708،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[16] الأسامي والكنى:4/۵۱،رقم:۲۹۵۹،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[17] المجروحين من المحدثين:1/143،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[18] تذكرة الحفاظ:ص:96،رقم:211،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .
[19] الكامل في ضعفاء الرجال:1/293،رقم:۱8،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[20] طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها:3/۷۵،رقم:۲۵۸،ت:عبد الغفور عبد الحق حسين البلوشي، مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .
[21] الأسامي والكنى:4/۵۱،رقم:۲۹۵۹،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[22] انظر تاريخ مدينة السلام:6/22۶،رقم:2708،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[23] تاريخ مدينة السلام:6/225،رقم:2708،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[24] المقتنى في سرد الكنى:1/۲۹۸،رقم:۲۹۵۵،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[25] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:306،رقم:839 ،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .
[26] ميزان الاعتدال:3/287،رقم:6444،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[27] سير أعلام النبلاء:9/423،رقم:150،ت:شعيب الأرنؤوط وكامل الخراط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1402هـ .
[28] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:59،رقم:102،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[29] مجمع الزوائد:9/184،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[30]الكافي الشاف في تخريج أحاديث الكشاف:ص:۷۴،رقم:۲۶۹،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[31] المقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة:۳۰۴،رقم:۳۹۹،ت:محمد عثمان الخشت،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[32] تنزيه الشريعة:۱/۳۳،رقم:۲۰۴،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .