التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو الفیض یوسف بن سَفْر بن فیض کاتب اوزاعی شامی

المتوفی مابین 170 – 180ھایک روایت میں تذکرہ

ابو الفیض یوسف بن سَفْر بن فیض کاتب اوزاعی شامی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو الفیض یوسف بن سَفْر بن فیض  کاتب اوزاعی شامی (المتوفی مابین 170 – 180ھ[59] )کے بارے میں  ائمہ رجال کا کلام

حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’قال أبو مسهر: كان الوليد يأخذ من ابن أبي السَفْر [كذا في الأصل] حديث الأوزاعي، وكان ابن أبي السَفْر [كذا في الأصل] كذابا، وهو يقول فيها: قال الأوزاعي‘‘[60]. ابو مسہر فرماتے ہیں کہ ولید، ابن ابی السَفْر  سے اوزاعی کی حدیث لیتا تھا، اور یہ ابن ابی السَفْر  جھوٹا تھا، اور ولید ان احادیث میں کہتا تھا کہ اوزاعی l نے کہا ہے(یعنی درمیان میں ابن السَفْر  کو حذف کردیتا تھا)۔

حافظ ابو حاتمl نے یوسف بن سَفْر کو ’’منكر الحديث جدا‘‘ کہا ہے[61]۔

حافظ ابو زرعہl نے اسے ’’ذاهب الحديث‘‘ کہا ہے[62]۔

حافظ ابو زرعہl ہی ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں: ’’حدثنا أبو مسهر، قال: قيل للأوزاعي: ابن السَفْر يحدث عنك، قال: كيف وليس يجالسني؟ قال أبو زرعة: هذا متروك الحديث‘‘[63]. ابو مسہر نے ہمیں بتایا کہ اوزاعی l سے پوچھا گیا کہ ابن السَفْر  آپ کے انتساب سے نقل کرکے حدیث بیان کرتا ہے، اوزاعی l نے کہا: وہ کیسے یہ کرتا ہے، وہ تو میرے پاس بیٹھا ہی نہیں ہے؟ (اس کے بعد) ابوزرعہ l فرماتے ہیں کہ یوسف بن سَفْر ’’متروك الحديث‘‘ ہے۔

حافظ دحیم l نے اسے ’’ ليس بشيء‘‘کہا ہے[64]۔

قاضی سعد بن محمد بیروتی l فرماتے ہیں: ’’سمعت إنسانا قال لدحيم: ما تقول في يوسف بن السَفْر  الذي روى عن الأَوزاعي؟ كان ينزل بيروت، فقال دحيم: لا في السماء، ولا في الأرض‘‘[65]. میں نے ایک شخص کو سنا کہ اس نے دحیم l سے کہا کہ آپ اس یوسف بن سَفْر  کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو اوزاعی l سے نقل کرتا ہے؟ جو بیروت آیا تھا، دحیم l نے کہا: وہ نہ آسمان میں ہے، نہ زمین میں ہے۔

امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[66] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[67] اور ’’ الضعفاء‘‘[68] میں یوسف بن سَفْر کو ’’منكرالحديث‘‘ کہا ہے۔

امام مسلم l نے ’’ الكنى‘‘[69] میں یوسف بن سَفْر کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’ أحوال الرجال‘‘[70] میں فرماتے ہیں: ’’ كان يكذب‘‘. جھوٹ بولتا تھا۔

امام نسائی l نے اسے ’’ الضعفاء‘‘[71] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ ليس بثقة، ولا يكتب حديثه‘‘[72] . ثقہ نہیں ہے، اس کی حدیث کو نہ لکھا جائے۔

حافظ ابو بشر دولابی l نے ’’ الكنى‘‘[73] میں اسے ’’ كذاب‘‘  کہا ہے۔

حافظ عقیلیl ’’ الضعفاءالكبير‘‘[74] میں فرماتے ہیں: ’’يحدث بمناكير‘‘. وہ منکر روایات بیان کرتا ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[75] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي عن الأوزاعي ما ليس من أحاديثه من المناكير التي لا يشك عوام أصحاب الحديث أنها موضوعة، لا يحل الاحتجاج به بحال‘‘. وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اوزاعی l سے ایسی منکر روایات بیان کرتے ہیں جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہیں،  عام اصحاب حدیث کو بھی ان کے من گھڑت ہونے میں  شک نہیں ہوتا، اس سے کسی بھی حالت میں احتجاج حلال نہیں ہے۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[76] میں یوسف بن سَفْر  کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث التي رواها يوسف عن الأوزاعي بواطيل كلها‘‘. اور یہ احادیث جو یوسف بن سَفْر   نے اوزاعی l سے روایت کی ہیں تمام کی تمام باطل ہیں۔

امام ابو احمد حاکم l فرماتے ہیں: ’’روى عن الأوزاعي أحاديث شبيهة بالموضوعة‘‘[77]. اوزاعی l کے انتساب سے من گھڑت احادیث کے مشابہ روایات نقل کرتا ہے۔

حافظ دار قطنیl نے ’’المؤتلف والمختلف‘‘[78] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ دار قطنی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’متروك‘‘[79]. یہ متروک ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[80] میں فرماتے ہیں:  ’’روى عن الأوزاعي أحاديث موضوعة‘‘. اوزاعی l کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’الضعفاء‘‘[81] میں فرماتے ہیں: ’’روى عن الأوزاعي بالمناكير، منكر الحديث‘‘. اوزاعی l سے مناکیر نقل کرتا ہے، یہ منکر الحدیث ہے۔

امام بیہقی l ’’معرفة السنن‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’وهو متروك، في عداد من يضع الحديث‘‘. یہ متروک ہے، اس کا شمار حدیث گھڑنے والوں میں ہوتا ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستغناء‘‘[83] میں فرماتے ہیں: ’’ أجمعوا على أنه منكر الحديث‘‘. اس کے منکر الحدیث ہونے پر اجماع ہے۔

حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[84] میں فرماتے ہیں: ’’يوسف متروك الحديث‘‘. یوسف متروک الحدیث ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[85] میں ایک دوسری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ويوسف يتهم بوضع هذا الحديث وغيره‘‘. یوسف یہ حدیث اور اس کے علاوہ دوسری احادیث گھڑنے میں متہم ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’المقتنى‘‘[86] میں اسے ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[87] اور ’’تنقيح التحقيق‘‘[88] میں یوسف بن سَفْر  کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشريعة‘‘[89] میں یوسف بن سَفْر کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے لکھتے ہیں: ’’قال الجوزجاني وغيره: كان يكذب، وقال البيهقي: هو في عداد من يضع الحديث‘‘. جوزجانی l وغیرہ فرماتے ہیں وہ جھوٹ بولتا تھا، بیہقیl فرماتے ہیں اس کا شمار حدیث گھڑنے والوں میں ہوتا ہے۔

اسی طرح علامہ سِبْط ابن العجمی l نے ’’الکشف الحثیث‘‘[90] میں یوسف بن سَفْر  کو متہم بالوضع کی فہرست میں شامل کرکے امام بیہقی l کا قول نقل کیا ہے۔

حوالہ جات

[59] امام بخاری l نے ’’التاریخ الصغیر‘‘ میں موصوف کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 170 اور 180 کے درمیان ہوا ہے (التاريخ الصغير:2/173،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[60] تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين:ص:198،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الطبعة الأولى1409هـ .

[61] الجرح والتعديل:۹/223،رقم:935،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1373هـ .

[62] الجرح والتعديل:۹/223،رقم:935،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1373هـ .

[63] تاريخ دمشق:74/242،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفکرـ بيروت،الطبعة ۱۴21هـ .

[64] الجرح والتعديل:۹/223،رقم:935،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1373هـ .

[65] الكامل في ضعفاء الرجال:8/497،رقم:2068،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[66] التاريخ الكبير:8/262،رقم:12761،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[67] التاريخ الصغير:2/204،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[68] الضعفاء الصغير:ص:127،رقم:409,ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[69] الكنى والأسماء:2/682،رقم:2756,ت:عبد الرحيم محمد  أحمد القشقري،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الاولى۱۴۰4هـ .

[70] أحوال الرجال:۱/۲۷۷،رقم:۲۸۵،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد،باكستان .

[71] الضعفاءوالمتروكين:ص:247،رقم:649،ت:بوران الضناوي،كمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۵هـ .

[72] لسان الميزان:8/556،رقم:8690 ،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[73] الكنى والأسماء:ص:۹۰۰،ت:أبو قتيبة نظر محمد الفاريابي،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .

[74] الضعفاء الكبير:4/452،رقم:2081،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الاولى۱۴۰4هـ .

[75] المجروحين:3/133،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[76] الكامل في ضعفاء الرجال:8/۵۰۱،رقم:2068،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[77] تاريخ دمشق:۷۴/۲۴۲،رقم:۱۰۱۹۱،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت، الطبعة۱۴۲۱هـ. .

[78] المؤتلف والمختلف:3/1181،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[79] سؤالات السلمي للدار قطني:ص:334 ،رقم:424 ،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسى، مكتبة الملك فهد الوطنية ـ الرياض،الطبعةالأولى۱۴۲۷هـ .

[80] المدخل إلى الصحيح:ص:۲۳۱،رقم:۲۲۹،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[81] الضعفاء لأبي نعيم:ص:165،رقم:283،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .

[82] معرفة السنن والآثار:1/249،رقم:554،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الوعي ـ حلب،الطبعة الأولى1412هـ .

[83] الاستغناء في معرفة المشهورين:2/884 ،رقم:1046،ت:عبد الله مرحول السوالمة،دار ابن تيمية ـ الرياض، الطبعة الأولى1405هـ .

[84] ذخيرة الحفاظ:ص:1497،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۶هـ .

[85] تذكرة الحفاظ:ص:418،رقم:1088،ت:حمدي بن عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۵هـ .

[86] المقتنى في سرد الكنى:۲/۱۹،رقم:۵۰۸۰،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .

[87] تلخيص الموضوعات: ص:229،رقم:578،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱۹هـ .

[88] تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق:1/32،ت:مصطفى أبو الغيط عبد الحي،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴21هـ .

[89] تنزيه الشريعة:1/۱۳۰،رقم:۷۱,ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

[90] الكشف الحثيث:ص:284،رقم:855 ،ت:صبحي السامرائى،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ