اس روایت کی تحقیق سے
روایت: شادی شدہ مسلمان کی دو رکعت غیر شادی شدہ کی ستر رکعتوں سے افضل ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی مسعود بن عمرو بَکْرِی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[45] میں مسعود بن عمرو بَكْرِی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ لا أعرفه، وخبره باطل‘‘. میں اسے نہیں پہچانتا، اس کی حدیث باطل ہے۔
اس کے بعد حافظ ذہبیl نے ’’فوائد تمام‘‘ کے حوالہ سے زیر بحث روایت ذکر کی ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان الميزان‘‘[46] میں، علامہ مناویl نے ’’فيض القدير‘‘[47] میں اور علامہ امیر صنعانی l نے ’’التنوير‘‘[48] میں حافظ ذہبیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[49] میں مسعود بن عمرو بَکْرِی کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ذہبی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات
[45] ميزان الاعتدال:4/100،رقم:8476 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[46] لسان الميزان:8/46،رقم :7695 ،ت:عبد الفتاح أبو غدة ،دار البشائر الإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[47] فيض القدير:4/38،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .
[48] التنوير شرح الجامع الصغير:6/26۹،رقم:445۸،ت: محمد إسحاق محمد إبراهيم،مكتبة دار السلام ـ الرياض، الطبعة الأولى1432هـ .
[49] تنزيه الشريعة:1/۱۱۷،رقم:۳۳۰،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .