التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو ہشام اصرم بن حوشب

ایک روایت میں تذکرہ

ابو ہشام اصرم بن حوشب کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو ہشام اصرم بن حوشب کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ یحیی l فرماتے ہیں : ’’کذاب خبیث‘‘[13].یہ کذاب خبیث ہے۔

     امام بخاری l ، امام مسلم l اور امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’متروک‘‘[14]. یہ متروک ہے۔

     امام دار قطنی l فرماتے ہیں: ’’منکر الحدیث‘‘[15].یہ منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں:  ’’ کان یضع الحدیث علی ا لثقات‘‘ [16]. یہ ثقہ لوگوں پر حدیثیں گھڑتا تھا۔

 حافظ ابن مدینی l فرماتے ہیں: ’’ کتبت عنه بهَمَذَان، وضربت علی حدیثه‘‘ [17]. میں نے ان سے ہمذان میں روایات لکھی تھیں، اور ان کی احادیث دے ماری۔

حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں: ’’سمعت أبي يقول: هو متروك الحديث...[18]. میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ فرمارہے تھے کہ اصرم بن حوشب متروک الحدیث ہے۔۔۔‘‘ ۔

امام حاکم l اور حافظ نقاش l فرماتے ہیں : ’’يروى الموضوعات‘‘[19]. موضوع روایات نقل کرتا ہے۔

امام خلیلی l فرماتے ہیں: ’’روى عن نهشل، عن الضحاك، عن بن عباس رضي الله عنهما مناكير، وروى الأئمة عنه، ثم رأوا ضعفه فتركوه‘‘[20].

اس نے نہشل کے طریق سے حضرت ابن عباس r سے مناکیر نقل  کی ہیں، اور ائمہ نے (پہلے تو) اس سے روایت کی ،پھر اس کے ضعف کو دیکھا تو اسے ترک کردیا۔

حافظ ابوحفص عمرو بن علی l فرماتے ہیں: ’’أصرم بن حوشب متروک الحدیث، حدث بأحادیث مناکیر، وکان یرى الإرجاء‘‘[21]. اصرم متروک الحدیث ہے،منکر روایات بیان کرتا ہے، اور ارجاء کی رائے رکھتا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’هالك‘‘[22].

حوالہ جات

[13]  ميزان الاعتدال:۱/۲۷۲، رقم:۱۰۱۷،ت:علي محمد البجاوي، دارالمعرفةـ بيروت .

[14]  ميزان الاعتدال:۱/۲۷۲،رقم:۱۰۱۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

[15]  ميزان الاعتدال:۱/۲۷۲،رقم:۱۰۱۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

[16] المجروحين:۱/۲۰۵،رقم:۱۲۳،ت:حمدي عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الثالثة ۱۴۳۳هـ .

[17]  ميزان الاعتدال:۱/۲۷۳،رقم:۱۰۱۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت.

[18] الجرح والتعديل: ۲/۳۳۶، رقم:۱۲۷۳،ت:الشيخ عبدالرحمن بن يحي المعلي اليماني،دارالكتب العلمية- بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱ هـ .

[19] لسان الميزان:۲/۲۱۲، رقم:۱۳۰۵،ت:عبدالفتاح أبوغده،مكتب المطبوعات الإسلاميه ـ حلب،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[20] لسان الميزان:۲/۲۱۲،رقم:۱۳۰۵،ت:عبدالفتاح أبوغده،مكتب المطبوعات الإسلاميه ـ حلب،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

[21] تاريخ بغداد: ۷/۴۹۰،رقم: ۳۴۴۸،ت:بشارعوادمعروف،مكتبة دارالغرب الإسلامي ـ تونس،الطبعة الرابعة۱۴۳۶هـ .

[22]  ميزان الاعتدال:۱/۲۷۲،رقم:۱۰۱۷،ت:علي محمد البجاوي،دارالمعرفةـ بيروت .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ