[حضرات صوفیاء کرام کا احترام ومقام سر آنکھوں پر،البتہ روایت کے ردوقبول میں اہل فن کے قول پر اعتماد کیا جائے گا]
باب: من گھڑت روایات کا حکم
موضوع و غیر معتبر روایات بیان کرنے، لکھنے اور پھیلانے کا شرعی حکم، اور ضعیف حدیث سے متعلق اصولی باتیں۔
گروپ: مقدمات
21 روایات
[حضرات محدثین رکاکت ِلفظی ورکاکتِ معنوی سے جعلی احادیث کو پہچاننے کا ایک خاص ملکہ رکھتے ہیں،نیز لفظی،معنوی رکاکت کیا ہے؟]
[محققین علماء حدیث کے نزدیک ضعیف حدیث کو صیغۂ تمریض ہی سے ذکر کرنا چاہئے،ان کے نزدیک اسے صیغۂ جزم سے لکھناانتہائی قبیح تساہل ہے]
[محققین کی ایک جماعت کے نزدیک جس نے صرف ایک حدیث میں جھوٹ کہا ہو، اس کی سابقہ تمام احادیث مردود ہو جائیں گی]
احادیث غیر معتبر وموضوعہ سے ثواب وعقاب کا ثبوت نہیں ہوتا۔
حدیث میں ضعف اگر بسببِ فسق اور کذبِ راوی کے، یا بسبب اتہامِ وضع کے ہو، تو اس پر فضائل اعمال میں بھی عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
فاسدو بے اصل روایات کا کہنے سننے والا گنہگار ہے، ایسی محفل پر بلا شبہ حرمت کا حکم ہوگا اور اس میں شریک ہونا حرام ہے۔
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث قبول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں ثواب سمجھے بغیر عمل کرلے،بشرطیکہ ضعفِ شدید نہ ہو اور وہ عمل کسی اصل شرعی کے تحت داخل ہو۔
غلط روایتوں کو بیان کر نا ایجاد فی الدین ہے۔
من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔