احادیث غیر معتبر وموضوعہ سے ثواب وعقاب کا ثبوت نہیں ہوتا۔
تفصیل
’’۔۔۔الغرض قیام ذکرِ ولادت، بایں وجہ ہے کہ ان لوگوں کو کوئی حدیثِ موضوع، دربابِ ثوابِ قیامِ مذکور ملی ہو، یا کسی بزرگ کا قول یا فعل ان کو معلوم ہوکہ اس کے موافق ثواب جان کر قیام کرتے ہیں، اور یہ معلوم ہوچکا ہے کہ احادیثِ غیر معتبر وموضوعہ سے ثواب وعقاب کا ثبوت نہیں ہوتا، اور قول وفعل بزرگوں سے بھی جواز واستحباب ثابت نہیں ہوتا، جب تک کہ کوئی دلیلِ شرعی موجود نہ ہو، پس باوجود امورِ مذکورہ (کے)، ہر گز یہ فعل موجبِ ثواب ومستحسن نہیں ہوسکتا، بلکہ بدعت ہی رہےگا۔۔۔‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ :ذکر ولادت کے وقت قیام کے بدعت ہونے کی مفصل بحث، ص: ۸۱،دار الکتاب لاہور ۔
علامہ لکھنوی l نے ’’الآثار المرفوعہ‘‘ (ص:۴۶)میں آنجناب ﷺ کی ولادت باسعادت کے تذکرہ کے وقت کھڑےہونے کو بے دلیل کہا ہے،ملاحظہ ہو:
{ومنها ما يذكرونه من أن النبي يحضر بنفسه في مجالس وعظ مولده عند ذكر مولده، وبنوا عليه القيام عند ذكر المولد تعظيما وإكراما.
وهذا أيضا من الأباطيل لم يثبت ذلك بدليل، ومجرد الاحتمال والإمكان خارج عن حد البيان، وأمثال هذه القصص التي ذكرناها كثيرة تذكرها وعاظ الفضل المحمدي والمولد الأحمدي مع اختلاقها وعدم ثبوتها، ظنا منهم أن في ذكر جلالة القدر المحمدي ثوابا عظيما، وفضلا جسيما، غافلين عما يترتب من الإثم العظيم على من كذب على النبي عليه الصلاة والتسلیم فی قول أو فعل أو وصف جمالي أو کمالي کما دلت علیه الاخبار الصریحة والآثار الصحیحة}.
ملتی جلتی احادیث
’’ ۲۳ رمضان کی تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم سننے سنانے والوں کا جنتی ہونا‘‘، اس مخصوص طریقہ اور مخصوص ثواب کا احادیث صحیحہ سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث قبول ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں ثواب سمجھے بغیر عمل کرلے،بشرطیکہ ضعفِ شدید نہ ہو اور وہ عمل کسی اصل شرعی کے تحت داخل ہو۔
’’اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کے باب میں کوئی حدیث مرفوع صحیح نہیں ہوئی‘‘۔
’’وقتِ ذکرِ ولادت کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے‘‘، بالکل غلط ہے، کسی روایت میں یہ نہیں لکھا۔
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔