التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

من گھڑت باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے بھی بیان کرنا بالکل غلط ہے۔

تفصیل

”بعض جاہلوں نے یہاں تک غضب کیا  کہ یہ سمجھ رکھا  ہے کہ موضوع باتیں شریعت کے کسی فائدہ کے لئے، یہ بیان کر دینا درست ہے، جیسے نماز کے متعلق ایسے فضائل بیان کر دیئے جائیں جن کی قرآن حدیث میں کچھ بھی اصل نہ ہو، مگر ان سے نماز  پر  تحریص ہوتی  ہو، تو  جرح  نہیں۔

           سمجھ لیجئے کہ یہ بالکل غلط ہے، اور اس میں دو خرابیاں ہیں: ایک تو اس وعید کو سرلینا جو ابھی بیان ہوئی یعنی  : {من کذب علي متعمدا فلیتبوا مقعده من النار}.(جس شخص نے قصداً مجھ پر جھوٹ بولا پس چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے)، دو سرے شریعت کی طرف ایک نیا مسئلہ منسوب کر نا ہے کہ ایسا اس سے جائز ہے، نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ شریعت کامل نہیں ہے، کیونکہ یہ مسئلہ شریعت میں کہیں منقول نہیں، حالانکہ شریعت اسلامی کامل ومکمل ہے : (اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي). [المائدة: 3] (آج ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین  کو کامل  کر دیا، اور اپنی نعمت کو مکمل کر دیا )دین کو حق تعالیٰ نے کا مل فرمایا ہے،  اور کوئی نعمت ایسی نہیں چھوڑی جس کو پورا نہ کر دیا ہو، نعمت سے مراد دینی نعمت ہے، تو  کوئی بات  دین  کی  ایسی نہیں  رہی جس کی شریعت میں کمی ہو۔۔۔“[1]۔

حوالہ جات

[1]  خطبات حکیم الامت :فضائل میں بھی موضوعات کو بیان کرنا جائز نہیں ، ۲۶/۳۱۶، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔