حدیث میں ضعف اگر بسببِ فسق اور کذبِ راوی کے، یا بسبب اتہامِ وضع کے ہو، تو اس پر فضائل اعمال میں بھی عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
تفصیل
’’مولوی نظیر حسن صاحب سلمہ، السلام علیکم !
آپ کا خط آیا، چونکہ بندہ کو فرصت ہر گز نہیں ہوتی، جمعہ کو بھی ایک سبق ہے، لہذا جواب بدشواری لکھا جاتا ہے، چونکہ آپ نے بتاکید لکھا تھا، لہٰذا چند کلمہ پر قناعت کرتا ہوں کہ سب مسائل اس سے مستنبط ہوجائیں گے۔
حدیث، ضعیف اگر سببِ سوءِ حفظِ راوی کے، یامرسل ہونے کے،یا تدلیس ہونے کے ہے، مگر راوی عادل ثقہ ہے تو اس پر عمل کرنا درست ہے، اگرچہ اثباتِ حکم اس سے نہیں ہوسکتا، جب تک جَبْر [تلافی] اس ضعف کا نہ ہوجائے، اور جو بسببِ فسق اور کذبِ راوی کے، یا بسببِ اتہامِ وضع کے ہو، تو اس پر فضائلِ اعمال [میں] بھی عمل کرنا،نا جائز ہے۔
شدید الضعف، یہ قسم آخر ہے، اور پہلی قسم میں ضعف ادنیٰ ہے، یہ مسئلہ ’’نخبہ‘‘وغیرہ کتبِ اصولِ حدیث میں مذکور ہے، پس جو احادیث کہ اہلِ بدعت نے وضع کی ہیں، وہ موضوعات میں ہیں کہ ہر گز ان پر عمل روانہیں، فقط ‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ : حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں عمل کا درجہ اور ان سے بعض بدعات پر استدلال کا حکم ؟ ص: ۵۳۵، دار الکتاب لاہور ۔