[محققین کی ایک جماعت کے نزدیک جس نے صرف ایک حدیث میں جھوٹ کہا ہو، اس کی سابقہ تمام احادیث مردود ہو جائیں گی]
’’سوال: عرض ہے کہ آنحضرت کو ایک تکلیف دے رہا ہوں، امید ہے زحمت فرماکر ممنون فرمادیں گے۔
’’فتح الملہم‘‘ کے مقدمہ میں (ص: ۱۲۱) شہادت اور خبر کے فرق میں سیوطی l (ص: ۲۲۲) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
×السابع: من كذب في حديث رد جميع حديثه السابق بخلاف من تبين شهادته للزور في مرة لا ينتقض ما شهد به قبل ذلك÷. [(روایت اورشہادت کے مابین) ساتواں فرق: جس نے صرف ایک حدیث میں جھوٹ کہا ہو، اس کی سابقہ تمام احادیث مردود ہو جائیں گی، بخلاف ایسے شخص کے جس کا ایک دفعہ جھوٹی گواہی دینا ظاہر ہوجائے اس کی سابقہ گواہی منقوض نہیں ہوگی]
حضرت شیخ الحدیث مولانا فخر الدین l نے یہ فرمایا تھا کہ کاذب کی روایت کے بارے میں یہ قول سیوطی l کا ہے جمہور کا نہیں، بلکہ جمہور کے یہاں ماقبل کذب والی روایتیں قابل قبول ہوں گی، اور مابعد الکذب مردود ہے جو شاہد کے بارے میں ہے، اور کتاب کا حوالہ بھی فرمایا تھا، مجھ کو وہ حوالہ والی کتاب کا نام محفوظ نہیں رہا۔
اب آپ سے دو باتیں معلوم کرنی ہیں، ایک یہ کہ آپ کو یہ کتاب معلوم ہو تو اس کا نام یا اگر زحمت نہ ہو تو وہ عبارت نقل فرمادیں۔
دوسرے یہ کہ آپ کی تحقیق وہی ہے جو سیوطی l نے تحریر فرمائی ہے یا جیسے حضرت الاستاذ فخر الدین l نے فرمائی تھی۔
امید ہے کہ کرم فرماکر تفصیل سے جواب عطافرماکر اس الجھن کو دور فرمادیں گے، کیوں کہ سیوطی l کی ساری تحقیق ایسی نہیں ہے کہ اس کو بلاتحقیق قبول کر لیا جائے، ’’اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ‘‘ وغیرہ شاہد ہے، جواب اور دعا کا طالب تکلیف دہی کی معافی کا خواستگار۔
تفصیل
جواب: عزیز مکرم۔
کئی دن ہوئے تمہارا کارڈ آیا تھا، لیکن کچھ تو مشغولی اور کچھ اپنی دیگر اعذار فوری جواب سے مانع رہے، امید ہے کہ اس کا خیال نہ کروگے۔
علامہ سیوطی l نے جو فرق روایت وشہادت میں بیان فرمایا ہے اس میں وہ منفرد نہیں ہیں، ان سے پہلے امام ابو المظفر السمعانی l بھی یہی لکھ آئے ہیں:
×قال السمعاني: من كذب في خبر واحد وجب إسقاط ما تقدم من حديثه÷. [سمعانی l فرماتے ہیں: جس نے صرف ایک حدیث میں جھوٹ کہا اس کی سابقہ تمام احادیث کو ساقط کرنا واجب ہے]
سمعانی l کا یہ قول ابن الصلاح l،عراقی l، ابن کثیرl وغیرہ نے بغیر کسی نقد کے نقل کیا ہے جس سے یہی نکلتا ہے کہ یہ حضرات بھی انہیں کے ہم خیال ہیں،امام احمد l وغیرہ کی یہی رائے معلوم ہوتی ہے:
×قال أبو عبد الرحمن عبيد الله بن أحمد الحلبي: سألت أحمد بن حنبل عن محدث كذب في حديث واحد ثم تاب ورجع؟ قال: توبته فيما بينه وبين الله تعالى، ولايكتب حديثه أبدا، كذا نقله الخطيب÷ (ص: ۱۱۷).
[ابو عبد الرحمن عبید اللہ بن احمد حلبی l فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل l سے پوچھا کہ اگر کوئی محدث صرف ایک حدیث میں جھوٹ کہے پھر توبہ ورجوع کرے (تو اس کا کیا حکم ہے)؟ احمد بن حنبل l نے فرمایا کہ اس کی توبہ تو اس کا اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے، البتہ اس کی احادیث کبھی نہیں لکھی جائیں گی۔ خطیب l نے اسی طرح نقل کیا ہے]
×ولايكتب حديثه أبدا÷. [اس کی حدیثیں کبھی نہیں لکھی جائیں گی] کا اطلاق وعموم ماقبل ومابعد دونوں کو شامل ہے۔
×وقال عبد العزيز بن أبي رِزْمَة: قال عبد الله بن المبارك: من عقوبة الكذب أن يرد عليه صدقه، وقال رافع بن أشرس: كان يقال: إن من عقوبة الكذب أن لايقبل صدقه، نقله الخطيب÷.
[عبد العزیز بن ابی رِزْمَہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مبارک l کا ارشاد ہے کہ جھوٹ کی ایک سزا یہ ہے کہ اس کا سچ بھی رد کر دیا جاتا ہے، اور رافع بن اشرس l فرماتے ہیں کہ کہا جاتا ہے: جھوٹ کی ایک سزا یہ ہے کہ اس کا سچ بھی قبول نہیں کیا جاتا، ان اقوال کو خطیب l نے نقل کیا ہے]
یہ اطلاق بھی ماقبل ومابعد دونوں کو شامل ہے، اگر تفصیل دیکھنی ہو تو ’’فتح المغیث‘‘ (ص: ۳۱۳) دیکھ لو۔
حضرت مولانا فخر الدین نور اللہ مرقدہ نے کس کتاب کا حوالہ دیا تھا یہ مجھے معلوم نہیں ہے، احقر کی کیا رائے ہوتی لیکن سیوطی l ہی کے قولِ مختار کی طرف رجحان ہے، اس لئے کہ مسئلہ کی بنیاد احتمال پر ہے، جب ایک حدیث میں کذب کی وجہ سے مابعد کی روایات میں کذب کا احتمال آگیا تو یہی احتمال ماقبل کی روایات میں بھی پیدا ہوگیا[1]۔
ملتی جلتی احادیث
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
[محققین علماء حدیث کے نزدیک ضعیف حدیث کو صیغۂ تمریض ہی سے ذکر کرنا چاہئے،ان کے نزدیک اسے صیغۂ جزم سے لکھناانتہائی قبیح تساہل ہے]
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’جو جماعت یا طالب علم جس قبر ستان کے قریب سے گزرتے ہیں اس قبرستان کے مردوں کا چالیس روزتک قبر کا عذاب معاف ہو جاتا ہے‘‘۔
یہ روایت بے اصل ہے۔
روایت: ’’اللہ نے عقل کو پیدا کر کے اس سے کہا: آگے ہوجاؤ، عقل آگے ہوگئی، پھر اللہ نے فرمایا: پیچھے ہوجاؤ، عقل پیچھے ہوگئی، اور فرمایا کہ یہ دو کتابیں رب العالمین کی جانب سے ہیں‘‘،یہ من گھڑت ہے۔