[محققین علماء حدیث کے نزدیک ضعیف حدیث کو صیغۂ تمریض ہی سے ذکر کرنا چاہئے،ان کے نزدیک اسے صیغۂ جزم سے لکھناانتہائی قبیح تساہل ہے]
سوال: علامہ نَوَوِی l نے ’’شرح مہذب‘‘ (ص: ۱۰۴،۱۰۳) میں ایک بات یہ تحریر فرمائی کہ ضعیف حدیث کو لفظ ’’قال‘‘ [یعنی آپﷺ نے فرمایا] اور ’’رَوٰی‘‘ [یعنی راوی نے روایت کیا ہے] سے بیان کرنے کو علمائے محققین نے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی اس طرح بیان کرتا ہے تو كذب علیہ ﷺ [یعنی آپ ﷺ پر جھوٹ بولنے] کا مصداق ہوگا، اشکال یہ ہے کہ اس شدید وعید کے باوجود بڑے بڑے علماء روایاتِ ضعیفہ کو بھی ’’قال‘‘ [یعنی آپﷺ نے فرمایا] اور ’’رَوٰی‘‘ [یعنی راوی نے روایت کیا ہے] سے بیان کرتے ہیں، تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اگر حضرت اقدس رہنمائی فرمادیں تو نوازش ہوگی۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیہ: ضعیف حدیث کو لفظ قال اور روی سے بیان کرنا، ۱/۲۴۴ ـ ۲۴۶۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا‘‘، یہ سنداً شدید ضعیف ہے، نیز صحیح روایت سے بھی معارض ہے۔
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
۶ – جزء: صلوة الرغائب
روایتِ صلوۃ الرغائب (رجب کے پہلے ہفتہ میں پڑھی جانے والی ایک مخصوص نماز)اور پندرہ شعبان کی شب پڑھی جانے والی مخصوص نماز والی روایت محققین کے نزدیک من گھڑت ہے۔
[محققین کی ایک جماعت کے نزدیک جس نے صرف ایک حدیث میں جھوٹ کہا ہو، اس کی سابقہ تمام احادیث مردود ہو جائیں گی]
[متشکل یاانسانی بدن میں حلول کیا ہوا جن، صحابی یا تابعی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز انسان اگر انھیں ان صورتوں میں دیکھ لے تو اسے کوئی فضیلت حاصل ہوگی؟]