من گھڑت روایات لکھنے والا، پڑھنے والا، شائع کرنے والا سب گنہگار ہیں۔
باب: من گھڑت روایات کا حکم
موضوع و غیر معتبر روایات بیان کرنے، لکھنے اور پھیلانے کا شرعی حکم، اور ضعیف حدیث سے متعلق اصولی باتیں۔
گروپ: مقدمات
21 روایات
جب تک محدثین کے نزدیک حدیث ثابت نہ ہو، ہر کتاب میں لفظ ِحدیث دیکھ کر اس کے حدیث ہونے کا یقین نہ کرو۔
کسی من گھڑت روایت کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قرآن و حدیث میں آئی ہے، افتراء علی الشرع ہے اور محض جہالت اور بدعت ہے۔
من گھڑت روایات کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کا نام لگا دینے سے ان کا پڑھنا جائز نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو عین گستاخی اور معصیت ہے۔
آج کل مزاج پلٹ گئے ہیں کہ من گھڑت روایات ہی کو پسند کر تے ہیں، قصے بھی پڑھتے ہیں تو وہ، جو بالکل فرضی اور جھوٹ ہیں، اور سچے قصے پسند ہی نہیں آتے، یہ عجیب غلطی ہے۔
آج کل واعظین کا مزاج وہی ہے جو یہود کا مذاق تھا، ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو عوام کو حیرت میں ڈال دیں۔
احادیث میں مذکور حضور ﷺ کے فضائل بیان کرنے چاہئیں، گھڑے ہوئے فضائل بیان نہ کریں۔
وعظ میں رنگ بھرنے کے لئے رنگین،من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں، علماء وعارفین کے نزدیک اس سے انوار نہیں بلکہ نار برستی ہے۔
جھوٹے فضائل میں فطری ظلمت ہے، نیز موضوع روایتیں زبان کے بدترین گناہوں میں سےہیں۔
حدیث نقل کرنے میں بے احتیاطی