روایت: {لولاك لماخلقت الأفلاك} (اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے۔
باب: مقامِ مصطفیٰ ﷺ و نورِ محمدی
نبی کریم ﷺ کی شان و مقام، نورِ محمدی، «لولاک» اور تخلیق سے پہلے کے حالات سے متعلق روایات۔
گروپ: سیرت
27 روایات
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: ×أنا أحمد بلا میم÷. (میں بلامیم احمد ہوں) ‘‘،اس حدیث کا کہیں وجود نہیں۔
روایت: ’’مجھے میرے رب نے تعلیم دی اور مجھے علم میں خوب اچھا بنایا، مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور مجھے ادب میں خوب اچھا بنایا‘‘، جملہ اول تو کہیں نہیں دیکھا، البتہ دوسرے جملے کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ l وحافظ سخاوی l فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی ثابت سند نہیں ہے۔
روایت: عالم ارواح میں اللہ تعالی نے روحوں سے پوچھا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب سے پہلے اللہ کے حبیب ﷺ نے ’’بَلى‘‘(یعنی کیوں نہیں) فرمایا۔
روایت: ”حق جل جلا لہ نے آنحضرت ﷺ کا سایہ اپنے پاس رکھ لیا تا کہ تسلی رہے“، یہ جاہلوں کی ایجاد ہے۔
روایت: ’’جب اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: ’’اور آپ کو تمام جہان والوں کےلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘، تو رسول اللہ ﷺ نے جبریل e سے فرمایا: کیا آپ کو بھی اس رحمت میں سے کچھ حصہ ملا ہے؟ جبریل e نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالی نے مجھ سے پہلے ہزاروں فرشتے پیدا کئے، سب کا نام جبریل رکھا، اور اللہ رب العزت نے ان سب سے پوچھا: میں کون ہوں؟ ان کو جواب معلوم نہ تھا تو وہ پگھلنے لگے، پھر جب اللہ نے مجھے پیدا کیا اور مجھ سے کہا: میں کون ہوں؟ تو، اے محمد! مجھ سے آپ کے نور نے کہا: آپ کہہ دیجئے کہ آپ اللہ ہیں کوئی معبود نہیں سوائے آپ کے‘‘۔
روایت:’’نبیﷺ نے جبریل e سے فرمایا: اللہ عز وجل فرماتے ہیں: ’’اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کےلئے‘‘، کیا آپ کو بھی اس رحمت سے کوئی چیز پہنچی ہے؟ جبریل e نے فرمایا: جی ہاں، مجھے بھی اس رحمت میں سے حصہ ملا ہے، میں انجام سے ڈرتا تھا، پھر مجھے آپ ﷺ کی وجہ سے امن حاصل ہوگیا، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے اس ارشاد سے میری تعریف کی ہے: ’’جو قوت والا ہے مالکِ عرش کے نزدیک ذی رتبہ ہے، وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے امانت دار ہے‘‘۔