روایت: {لولاك لماخلقت الأفلاك} (اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا) ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے۔
تفصیل
سوال (۸۰) آنحضرت ﷺ باعثِ ایجاد عالم ہیں یانہیں، اور حدیث: {لولاك لماخلقت الأفلاك} پایہ ثبوت کوپہنچی ہےیانہیں،اوریہ حدیث کس کتاب میں ہے؟
الجواب: آپ کی اولیتِ خلق توبعض روایات سےمعلوم ہوتی ہے، جیسا بعض رسائل میں بحوالہ ”مواہب لدنیہ“ بتخریج عبد الرزاق l بروایت حضرت جابر بن عبد اللہ q خودحضور ﷺ کا ارشادمنقول دیکھا گیاہے کہ سب سے اول حق تعالیٰ نےتیرےنبی کانورپیدا کیا، اھ لیکن یہ حدیث مذکورفی السوال کہیں نظر سے نہیں گذری، اور ظاہراً موضوع معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم[1]۔
ایک دوسرے انداز سے
حوالہ جات
[1] امدادالفتاویٰ : کتاب ما یتعلق بالحدیث ،تحقیق حدیث :لولاک لماخلقت الافلاک ، ۵/۹۰ ، مکتبہ دارالعلوم، کراچی ۔
[2] التشرف : ص:۵۰ ،مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف : حدیث لولاک لما خلقت الافلاک ، ص : ۱۵۴، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان۔
علامہ صغانی
ؒ نے ”موضوعات“ (ص:۵۲) میں،حافظ
ابن الجوزی ؒ نے ” كتاب الموضوعات“ (۱/ ۲۸۸) میں،حافظ
ابن
تیمیہ ؒ نے ”مجموع الفتاوى“ (۱/۲ ۱۸ – ۱۸۵) میں، حافظ ذہبی ؒ نے ”تلخيص المستدرك“ (۲/
۶۱۵)میں، حافظ ابن عراق ؒ نے ”تنزيہ الشريعہ“
(۱/ ۳۲۴) میں اور علامہ عبد الحي لکھنوی ؒ نے ”الآثارالمرفوعہ“ (ص:۴۴)میں اس
روایت کو من گھڑت کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”فقر، میرا فخر ہے“، غلط اور موضوع ہے۔
روایت: ”میں عادل بادشاہ (نوشیرواں) کے زمانے میں پیدا ہوا ہوں“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
روایت: ”باری تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک خزانہ تھا۔۔۔“۔
یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے، لیکن اس کا مضمون صحیح ہے۔
امام ابو یوسف l اور امام محمد l کے ما بین نفرت پر مشتمل یہ مضامین شنیعہ من گھڑت معلوم ہوتے ہیں۔
کسی کا کلام یا کتاب سننے یا دیکھنے سے اس کے مصنف کا خفی اثر قلب پر پڑتا ہے۔