روایت: عالم ارواح میں اللہ تعالی نے روحوں سے پوچھا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب سے پہلے اللہ کے حبیب ﷺ نے ’’بَلى‘‘(یعنی کیوں نہیں) فرمایا۔
حکم: شدید ضعیف ہے، بیان نہیں کر سکتے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الخصائص الكبرى:1/7،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الخامسة۱۴۳۸هـ .
[2] المواهب اللدنية:1/61،ت:صالح أحمد الشامي،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الثانية1425هـ .
[3] سبل الهدى والرشاد:1/83،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴14هـ .
[4] تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس:۱/20،المطبعة الوهبية ـ مصر،الطبعة۱۲۸۳هـ .
[5] بصائر الدرجات:ص:117،رقم: 12،شركة الأعلمي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[6] علل الشرائع :1/125،دارالمرتضى ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .
[7]الكافي:۲/۹،رقم:1،وكذا في:2/10،رقم:3،وكذا في:1/279،رقم:6،منشورات الفجر ـ بيروت،الطبعة الأولى 1428هـ .
[8]رجال الكشي:ص:243،رقم:180،مؤسسةالأعلمي للمطبوعات ـ بيروت،الطبعة الأولى1430هـ .
[9]اختيار معرفة الرجال:ص:286،رقم:632،ت:جواد القيومي الأصفهاني،مؤسسة النشر الإسلامي ـ قم، الطبعة الأولى1427هـ .
[10] خلاصة الأقوال في معرفة الرجال:ص:359،رقم:1416،ت:جواد القيومي،نشر الفقاهة ـ قم،الطبعة الرابعة1431هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت والے جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنتی ہر جمعہ کو اللہ کی زیارت کےلئے جائیں گے،باری تعالی ان سے فرمائیں گے:جو چاہو تمنا کرو، چنانچہ جنتی علماء سے جاکر ملیں گےکہ ہم کیا تمنا کریں؟ علماء کہیں گے: تم یہ یہ تمنا کرو، آپﷺنے فرمایا: چنانچہ جنت والے جنت میں بھی ان کے ایسے ہی محتاج ہوں گے جیسے وہ دنیا میں ان کے محتاج ہیں‘‘۔
روایت: ’’ قالوا: ما لنا منها؟ قال: بكل شعرة حسنة، قالوا: يا رسول الله! فالصوف؟ قال: بكل شعرة من الصوف حسنة‘‘. صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: ہمارے لئے اس قربانی میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اون کے بدلہ میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے۔
روایت: رسول اللہ ﷺ کے ذمہ ایک یہودی کا قرض، آپ ﷺ کا یہودی سے مہلت طلب کرنا، اور اس یہودی کا آپ ﷺ کو اپنے پاس قرض کی ادائیگی تک روکے رکھنا مہلت نہ دینا، اور آپ ﷺ کا اسی جگہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے روز صبح کی نماز بھی وہیں ادا کرنا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر رنج کا اظہار کرنا، آخر کار یہودی کا اسلام قبول کرنا۔
روایت: ’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’احذروا الدنيا، فإنها أسحر من هاروت وماروت‘‘. دنیا سے بچو، کیونکہ یہ ہاروت اور ماروت سے زیادہ جادو کرنے والی ہے‘‘۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: جب کوئی شخص قبروں پر گزرتے ہوئے یہ کلمات کہے: ’’السلام على أهل لا إله إلا الله، من أهل لا إله إلا الله، يا أهل لا إله إلا الله! كيف وجدتم قول لا إله إلا الله؟ يا لا إله إلا الله بحق لا إله إلا الله، اغفر لمن قال لا إله إلا الله، واحشرنا في زمرة من قال لا إله إلا الله‘‘، تو اس کہنے والے کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، علیr نے پوچھا کہ اگر اس شخص کے گناہ اتنے نہ ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :اس کے والدین اور اس کے رشتہ دار اور عام مسلمانوں کے بھی معاف ہو جائیں گے‘‘۔