روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: ×أنا أحمد بلا میم÷. (میں بلامیم احمد ہوں) ‘‘،اس حدیث کا کہیں وجود نہیں۔
تفصیل
’’سوال: کیا یہ کوئی حدیث ہے، ×أنا أحمد بلا میم÷. [میں بلامیم احمد ہوں]
جواب: یہ لفظ نہ کتبِ مشہورہ میں ہے اور نہ ہی کتب غیر مشہورہ میں، حتیٰ کہ وہ کتابیں جو صرف احادیثِ موضوعہ کے لئے خاص ہیں ان میں بھی اس کا وجود نہیں ہے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ: کیا یہ کوئی حدیث ہے : ’’انا احمد بلامیم ‘‘، ۲/۱۱۱ ۔
ملتی جلتی احادیث
اذان کے بعددعائے وسیلہ میں لفظ ×الدرجة الرفيعة÷ مجموعی طور پر ثابت نہیں ہے،اسی طرح ×وارزقنا شفاعته يوم القيامة÷ کے الفاظ بھی کہیں نہیں ملے، ہاں اس کے ہم معنی الفاظ وارد ہیں۔
بھنگ،سگرٹ نوشی،اورتارکِ نماز کی مذمت پر مشتمل یہ حدیثیں کہیں نہیں ملتیں،حتیٰ کہ من گھڑت روایتوں پرلکھی گئی کتابوں میں بھی نہیں ہیں۔
روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔
۳ - اس کے تحت دو اجزاء ہیں
[میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ’’ مُنَبِّہَات‘‘ نہ تو حافظ ابن حجر عسقلانی l کی تصنیف ہے اور نہ ہی علامہ ابن حجر ہیتمی مکی lکی تالیف ہے]